اہم خبریں

کوپ 30 (COP 30) فوسل فیول پر پابندی کے روڈ میپ کے بغیر اختتام پذیر

کانفرنس میں یہ فیصلہ آیا کہ وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے پہلے ہی متاثر ہیں، اُن کی مدد کے لیے مالی وسائل کو بڑھایا جائے گا۔ 

اقوامِ متحدہ کی 30ویں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP30) برازیل کے شہر بیلم میں اختتام کو پہنچی۔ اس اجلاس میں کچھ پیش رفت ہوئی، لیکن وہ تمام توقعات پوری نہ کر سکی جو ماحولیاتی کارکنان اور غریب ملکوں نے وابستہ کی تھیں۔

کوپ 30 (COP 30) کیا ہے؟

کوپ 30 (COP 30) دراصل UNFCCC (اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن) کی 30 ویں کانفرنس ہے، جہاں تقریباً تمام ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مل کر مذاکرات کرتے ہیں۔ اس بار کانفرنس کا انعقاد برازیل  کے شہر  بیلم میں ہوا، جس نے درختوں، جنگلات اور ماحولیاتی انصاف پر خاص زور دیا گیا۔

کون سے اہم فیصلے ہوئے؟

  1. مطابقت (Adaptation) کے لیے مالی مدد میں تین گنا اضافہ

    کانفرنس میں یہ فیصلہ آیا کہ وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے پہلے ہی متاثر ہیں، اُن کی مدد کے لیے مالی وسائل کو بڑھایا جائے گا۔

    • تاہم یہ اضافہ طویل مدتی ہدف ہے: 2035 تک مطابقتی فنڈز کو تین گنا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
    • ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رقوم کس طرح اور کس کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
  2. فوسل فیول (کوئلہ، تیل، گیس) کے خاتمے کے لیے کوئی پابند روڈ میپ نہیں

    ماحولیاتی کارکنوں کی خواہش تھی کہ کانفرنس میں فوسل فیول کو ختم کرنے کا واضح اور پابند نقشہ طے ہو، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    • تقریباً 80 ممالک نے ایسا روڈ میپ چاہا، مگر کچھ بڑے فوسل فیول پیدا کرنے والے ممالک نے اس کی مخالفت کی۔
    • اس کی جگہ ایک غیررسمی یا رضاکارانہ “سائڈ روڈ میپ” بنانے کی بات ہوئی ہے، جس میں فوسل فیول سے منتقلی اور جنگلات کی کٹائی کو روکنا دونوں شامل ہوں گے۔
  3. منصفانہ منتقلی (Just Transition) کا ڈھانچہ

    اجلاس نے “Just Transition Mechanism” کی بات کی ہے، تاکہ وہ لوگ جو فوسل فیول کی صنعت پر منحصر ہیں (مزدور، علاقے، معیشتیں) محفوظ اور منصفانہ طریقے سے گرین معیشت کی طرف منتقل ہوں۔

  4. گلوبل انڈیکیٹرز برائے مطابقت

    کانفرنس نے 59 عالمی انڈیکیٹرز اپنائے ہیں، جن کی مدد سے یہ ناپا جائے گا کہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کی موافقت میں کس حد تک کامیاب ہورہے ہیں۔

  5. تجارت اور جنگلات کا کردار

    • پہلی بار تجارتی پہلو کو موسمیاتی معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے، اور اگلے تین سالوں میں “تجارت اور موسمیاتی تبدیلی” پر خصوصی ڈائیلاگ ہوگا۔
    • جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک نیا گلوبل سرمایہ کاری میکانزم متعارف کیا گیا ہے: منطقہ جات یا ملکوں کو ان کے بچائے ہوئے درختوں پر معاوضہ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کوپ 30 (COP 30)؛ چیلنجز اور تنازعات

  • فوسل ایندھن پر تقسیم

    فوسل فیول کے مرحلہ وار خاتمے کو لے کر مذاکرات کے دوران شدید فرق نظر آیا۔ کچھ ممالک نے سخت نقشے کی مخالفت کی، جس سے پورا معاہدہ کمزور محسوس ہوا۔

  • مالی شفافیت اور ذمہ داری

    اگرچہ مطابقتی فنڈ تین گنا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کون کون سے ممالک یا ادارے اس میں مالی تعاون کریں گے اور یہ پیسہ کس طرح تقسیم ہوگا۔

  • کانفرنس کے مقام پر آگ

    20 نومبر کو کانفرنس کے مقام کے ایک حصے میں آگ لگ گئی، جس کے باعث مقامی انتظامیہ نے فوراً لوگوں کو خالی کروایا۔

    • برازیل کے وزیرِ سیاحت نے کہا کہ آگ پر کنٹرول پا لیا گیا ہے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔
    • سیکیورٹی چیک اور جانچ جاری ہے۔
    • یہ واقعہ مذاکرات کے اہم پہلوؤں کو متاثر کرنے والا تھا، کیونکہ بہت سی بات چیت روکا گئی یا رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
  • سیاسی اختلافات اور ناکافی جرأت

    بعض ترقی پذیر ممالک کا موقف ہے کہ وہ مالی امداد کے بغیر تیاری (adaptation) نہیں کرسکتے، مگر صنعتی ممالک فوسل ایندھن کو ختم کرنے پر سخت قوانین نہیں دینا چاہتے۔
    یورپی یونین نے بھی معاہدے کو “کمزور” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری علمی اور ماحولیاتی اہداف شامل نہیں کیے گئے۔

عالمی ردعمل اور نتائج

  • بعض ترقی پذیر ملکوں نے مطابقتی فنڈز میں اضافے کو تسلیم کیا، لیکن وہ فوسل فیول کے خاتمے کی واضح راہ نہ ملنے پر مایوس ہیں۔
  • ماحو لیاتی کارکن اور سول سوسائٹی کے گروپوں کی ایک بڑی تعداد نے کہا ہے کہ معاہدہ جذباتی تو ہے، مگر عملی معنوں میں کمزور ہے۔
  • بعض ممالک اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوسل فیول ختم کرنے کا وعدہ مضبوط نہ ہوا، تو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑائی میں اصل موومنٹ محروم رہ جائے گی۔

نتیجہ

کوپ 30 (COP 30) میں کچھ قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے، خاص طور پر وہ مالیاتی اقدامات جو کمزور اور موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے ہیں۔ مگر سب سے بڑا چیلنج باقی ہے: فوسل فیول کا مرحلہ وار خاتمہ اور ایک ایسا عالمی معاہدہ جو واضح، مؤثر اور پابند ہو۔

اگر حکومتیں اور اقوام اس معاہدے کو صرف کاغذ پر نہیں، بلکہ عملی سطح پر نافذ کریں گی، تو COP30 کو ایک مثبت موڑ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر وعدے صرف الفاظ تک محدود رہیں، تو یہ اجلاس ایک سنجیدہ موقع ضائع کرنے کی مثال بھی بن سکتا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button