چائنہ میں اے آئی ڈاکٹرز کے ہاتھوں انسانی ڈاکٹرز کو شکست
ایک اے آئی ماڈل نے چند سیکنڈز میں تشخیص اور علاج کی تجویز دے دی، جبکہ انسانی ٹیم کو صحیح نتیجے تک پہنچنے میں تقریباً دس منٹ درکار تھے۔

شنگھائی میں منعقد ہونے والی Pujiang Medical AI Conference کے دوران ایک تاریخی انسانی ڈاکٹرز بمقابلہ اے آئی ڈاکٹرز مقابلہ منعقد ہوا۔
اس لائیو تشخیصی مقابلے میں اعلیٰ سطح کے معدے (GI) ماہرین کو جدید اے آئی سسٹمز کے مقابلے میں لایا گیا ۔
ایک اے آئی ماڈل نے چند سیکنڈز میں تشخیص اور علاج کی تجویز دے دی، جبکہ انسانی ٹیم کو صحیح نتیجے تک پہنچنے میں تقریباً دس منٹ درکار تھے۔ یوں اے آئی ڈاکٹرز انسانی ڈاکٹرز کو شکست دے گئے۔
اے آئی ڈاکٹرز بمقابلہ انسانی ڈاکٹرز:
پہلے Shanghai Medical AI Skills Competition کے تحت، شنگھائی کے ممتاز ہسپتالوں کے چار سینئر گیسٹروانٹرولوجی (معدے / آنتوں) ماہرین نے لائیو ڈائیگنوسٹک چیلنج میں حصہ لیا۔
ان کی شناخت جانوروں کے ماسک پہن کر پوشیدہ رکھی گئی تھی تاکہ جانبداری نہ ہو۔ ان کے مد مقابل دو AI نظام تھے: ایک چینی تیار کردہ Gastrointestinal Multimodal AI، اور ایک بین الاقوامی AI ماڈل۔
چینی AI ماڈل — جو 30,000 حقیقی کیسز پر تربیت یافتہ ہے اور اینڈو سکوپی تصاویر اور سی ٹی اسکین کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے — نے حیران کن رفتار سے، تقریباً 2 سیکنڈ میں تشخیص اور علاج کی تجویز دے دی۔ اس کے مقابلے میں، انسانی ڈاکٹروں کی ٹیم کو تقریباً 13 منٹ درکار ہوئے۔
نتیجہ اور اہمیت
- چینی اے آئی ماڈل نے انسانی ماہرین کے نتیجے یعنی تشخیص اور علاج کی تجویز کو پورے طور پر میل کھایا۔
- بین الاقوامی اے آئی ماڈل نے بھی حصہ لیا، لیکن اس کی درستگی چینی اے آئی کے مقابلے میں ہلکی کم تھی۔
- منصوبہ سازوں اور منتظمین کے مطابق، اس مقابلے کا مقصد صرف “دکھا دینا” نہ تھا کہ AI کیا کر سکتا ہے، بلکہ یہ بتانا بھی تھا کہ AI کس طرح ڈاکٹروں کی مددگار ثابت ہو سکتا ہے — یعنی AI کو ان کی جگہ لینے کے بجائے معاونت فراہم کرنے والا ٹول سمجھا جائے۔
طبی نظام میں اے آئی کے ممکنہ فوائد — اور حدود
- رفتار اور پیمانے: اے آئی کی صلاحیت ہے کہ وہ تیزی سے پیچیدہ ڈیٹا (endoscopy، imaging، سابقہ طبی تاریخ) کو تحلیل کرے — جو کام انسانی ڈاکٹروں کو منٹوں یا گھنٹوں میں کرنا پڑتا — اور یہ خاص طور پر ان جگہوں پر مفید ہے جہاں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے یا ماہر ڈاکٹر کم۔
- معیار اور مساوات: اگر تصدیق کر کے مناسب طریقے سے نافذ کیا جائے، تو AI معیاری تشخیص اور علاج کے معیار کو یکساں بنا سکتا ہے، تاکہ کم وسائل والے علاقوں میں بھی اچھی طبی سہولت دستیاب ہو سکے۔
- ڈاکٹروں کی معاونت، نہ متبادل: جیسا کہ منتظمین نے واضح کیا، مقصد AI کو ڈاکٹرز کی جگہ دینا نہیں بلکہ ان کی قوت میں اضافہ کرنا ہے — یعنی ایک “دوسری نظر” یا تیزی سے تشخیص کا آلہ بنانا۔
تاہم — یہ مقابلہ صرف ایک مخصوص کیس پر ہوا تھا، اور اس طرح کی کامیابی کو پورے طبی نظام پر لاگو کرنا ایک چیلنج ہے۔
حقیقی دنیا میں مریضوں کی حالتیں مختلف ہوتی ہیں، پیچیدگیاں زیادہ ہوتی ہیں، اور انسانی ڈاکٹرز کا کردار صرف تشخیص تک محدود نہیں ہوتا — مریض سے گفتگو، اخلاقی فیصلے، غیر متوقع پیچیدگیاں سنبھالنا، اور علاج کے دوران انسانی رابطہ سب کچھ شامل ہے۔
مستقبل کا رخ: شوکیس سے کلینک تک؟
شنگھائی میں یہ کامیاب مظاہرہ طبی AI ٹیکنالوجی کے تیز پھیلاؤ کو ممکنہ طور پر تیز کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہسپتال اور طبی سنٹرز اے آئی مدد یافتہ تشخیص اور علاج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اگر مناسب نگرانی، ضابطۂ اخلاق اور ریگولیشن کے ساتھ نافذ کیا جائے، تو AI-کی مدد سے تشخیص، مریض کی دیکھ بھال، اور صحت کے نظام کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
لیکن اس سب کا دارومدار ہے کہ اے آئی کو صرف ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے، اور انسانی ڈاکٹرز کی اہمیت اور انسانی عنصر کو برقرار رکھا جائے — کیونکہ مشینیں انسان کی ہمدردی، اخلاقی فیصلے، اور پیچیدہ طبی حالات کو پوری طرح نِبھانا نہ تو ابھی ممکن ہے، اور شاید آئندہ بہت دیر تک ممکن نہ ہو۔



