دنیا

امریکی ویزے منسوخ ہونے کی شرح میں اضافہ ؛ سیاحوں کیلئے بھی پابندیاں تیار

درخواست دہندگان سے پچھلے پانچ سالوں کے فون نمبرز، گزشتہ 10 سالوں کے ای میل ایڈریسز، اور خاندانی معلومات بھی طلب کی جائے گی۔ 

ٹرمپ حکومت کی جانب سے   2025 کے جنوری سے اب تک تقریباً 85,000 امریکی ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔ یہ  ایک نمایاں اضافہ جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ 

ان منسوخ شدہ ویزوں میں 8,000 سے زائد اسٹوڈنٹ ویزے بھی شامل ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی ویزہ منسوخی کی بڑی وجہ عوامی تحفظ (پبلک سیفٹی) ہے: ایسے معاملات جہاں ویزہ ہولڈرز پر نشے میں گاڑی چلانے (DUI)، تشدد (assault)، یا چوری (theft) جیسے جرائم کے الزامات تھے — یہ واقعات اس سال منسوخی کی تقریبا نصف تعداد کی بنیاد بنے۔

اس اقدام کو وسیع سطح پر “مسلسل جانچ پڑتال”  کے ایک پروگرام کے تحت پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکہ میں موجود تقریباً 55 ملین غیر ملکی ویزہ ہولڈرز کی نگرانی کو ممکن بنانا ہے۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ منسوخ شدہ ویزوں میں اسٹوڈنٹ، ملازمین، سیاح — تمام اقسام شامل ہیں اور یہ کریک ڈاؤن رواں سال شروع ہونے والی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔

ویزا-فری سیاحوں کے لیے نیا قانون: پچھلے5 سالوں کی سوشل میڈیا ہسٹری لازمی

 

اسی دوران، امریکی سرحدی ادارہ U.S. Customs and Border Protection (CBP) نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت وہ ممالک جنہیں ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی — جنہیں ویزا وائیور پروگرام (Visa Waiver Programme) کے تحت داخلہ ملتا ہے — اُن سیاحوں کے لیے نئے تقاضے تجویز کیے گئے ہیں۔

تجویز کے مطابق، ویزا-فری مسافروں کو اپنی 5 سالہ سوشل میڈیا ہسٹری فراہم کرنا لازمی ہو گی۔

اس کے علاوہ، درخواست دہندگان سے پچھلے پانچ سالوں کے فون نمبرز، گزشتہ 10 سالوں کے ای میل ایڈریسز، اور خاندانی معلومات بھی طلب کی جائے گی۔

یہ حکومتی اقدام ایک وسیع نگرانی اور سیکیورٹی اسکریننگ حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر ملکی زائرین کی آن لائن اور ذاتی شناخت کی جانچ پڑتال کو ممکن بنانا ہے۔

امریکی ویزے منسوخی اور سرکاری موقف:

 

ٹرمپ انتظامیہ اسے “قومی سلامتی اور عوامی تحفظ” کے لیے ضروری قدم قرار دیتی ہے۔ ویزوں کی منسوخی اور نئے ڈیجیٹل چیک سسٹم کو ایک مسلسل نگرانی کے منصوبے کے تحت پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ امریکہ میں داخل یا پہلے سے موجود غیر ملکی افراد کی جانچ پڑتال برقرار رہے۔

انتطامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ ان کا ستحقاق ہے ۔ حکومت کو حق ہے کہ وہ ایسے افراد کو مسترد کرے جنہیں وہ خطرہ تصور کرے۔

تنقید، خدشات اور ممکنہ اثرات

 

انسانی حقوق کی تنظیموں  اور پرائیویسی کے گروپ اس پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی ہسٹری طلب کرنا اور ویزہ ہولڈرز کی مستقل نگرانی کرنے سے  آزادی اظہار رائے اور نجی زندگی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

سیاحتی اور بین الاقوامی سفر سے وابستہ حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ نئی سوشل میڈیا شرط — خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ذاتی طور پر ویزا-فری ممالک سے تعلق رکھتے ہیں — سفر کو مشکل اور کڑا بنا دے گی۔ اس سے عالمی دورے اور ثقافتی تبادلے متاثر ہوں گے۔

اس کے علاوہ، بین الاقوامی تعلیم، ورک ویزے اور مہارت والا امیگریشن (جیسے کہ H-1B ویزے) بھی مزید مشکل ہو جائیں گے، کیونکہ آن لائن پروفائلز کی جانچ اور ڈیجیٹل شناخت پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو جائے گی۔

اثر: درخواست دہندگان، طلبہ، سیاح اور تارکین وطن پر کیا پڑے گا

 

جن ممالک سے لوگ عموماً امریکی ویزے یا ویزا-وائیور سروس کے تحت سفر کرتے تھے — اب انہیں اپنی آن لائن سرگرمیوں، پرانی تاریخ، اور نجی ڈیٹا افشا کرنا پڑے گا۔ اس سے بہت سے طلبہ، سیاح، کارکن، اور خاندان ممکنہ طور پر امریکہ جانے یا ویزا اپلائی کرنے سے گریز کریں گے۔

جو لوگ پہلے ہی امریکہ میں ہیں، ان کی ویزا کی حیثیت بھی خطرے میں ہو سکتی ہے — منسوخی یا ڈپورٹیشن کا امکان بڑھ گیا ہے اگر کوئی “قانون شکنی” یا محض آن لائن سرگرمی انہیں مشکوک بنائے۔

یہ اقدام خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہے جو سیاسی ایکٹیویزم، آزادی اظہار، یا اپنی آن لائن شناخت میں محتاط ہیں — انہیں خطرہ ہے کہ ماضی کی پوسٹس یا اظہار رائے بھی ویزہ منسوخی کا باعث بن سکتے ہیں۔

نتیجہ

مجموعی طور پر، 2025 میں امریکہ نے امیگریشن اور سفر کی پالیسیوں میں بے سابقہ سختی اختیار کی ہے۔

85,000امریکی ویزوں منسوخی اور ویزا-فری سیاحوں کے لیے پانچ سالہ سوشل میڈیا ہسٹری کا تقاضا ایک نئے دور کی شروعات ہے — جہاں سفر، تعلیم، ورک، اور دورے کی اجازت نہ صرف آپ کے قانونی کاغذات بلکہ آپ کی ڈیجیٹل زندگی پر بھی منحصر ہے۔

اگرچہ امریکی حکومت اسے “حفاظتی اور سلامتی” کے نام پر لاگو کر رہی ہے، مگر اس کے انسانی حقوق، آزادی اظہار، اور بین الاقوامی تعلقات پر ممکنہ منفی اثرات بہت سنگین نظر آتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button