فخر زمان کا سینٹرل کنٹریکٹ ختم ہونے کی وجہ عمران خان؟
شائقین فخرزمان کا 2022 کا ایک ٹویٹ سامنے لارہے ہیں جس میں انہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے بات کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتوار کے روز کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا ۔
اب کی بار کئی مایہ ناز کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کیٹگری میں تنزلی کا سامنا کرنا جن میں شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں جو اے کیٹگری سے بی کیٹگری میں چلے گئے۔
جبکہ فخر زمان اور سرفراز احمد کو سینٹرل کنٹریکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے بتایا کہ فخر زمان کے ٹویٹ کا بھی مسئلہ ہے لیکن زیادہ مسئلہ ان کی فٹنس کا ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم سے نکالے جانے کے فیصلے پر فخر زمان نے ان کے حق میں ایک ٹویٹ کیا تھا جس پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
It’s concerning to hear suggestions about dropping Babar Azam. India didn’t bench Virat Kohli during his rough stretch between 2020 and 2023, when he averaged 19.33, 28.21, and 26.50, respectively. If we are considering sidelining our premier batsman, arguably the best Pakistan…
— Fakhar Zaman (@FakharZamanLive) October 13, 2024
فخر زمان کا سینٹرل کنٹریکٹ ختم ہونے کی وجہ ، عمران خان؟
شائقین کرکٹ فخر کے بابر سے متعلق ٹویٹ کو سینٹرل کنٹریکٹ کے خاتمے کی وجہ قرار نہیں دے رہے۔
شائقین فخرزمان کا 2022 کا ایک ٹویٹ سامنے لارہے ہیں جس میں انہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے بات کی تھی۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم کی حمایت فخر زمان کو مہنگی پڑ گئی
یہ ٹویٹ عمران خان پر وزیر آباد میں حملےکے سامنے آیا تھا۔ ٹویٹ میں ٖفخر نے عمران خان پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی صحت اور حفاظت کیلئے خصوصی دعائیہ کلمات شیئر کئے تھے۔
انکی اس دو سال قبل ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ابوذر فرقان نامی صارف نے کیپشن لکھا : فخر زمان کو سینٹرل کنٹریکٹ سے نکال دیا گیا۔
ایک اور صارف نے ان کی دو سال پرانی ٹویٹ پر جا کر کمیںٹ کیا کہ فخر کو سینٹرل کنٹریکٹ سے نکالنے کی یہ وجہ تھی۔
یوں صارفین عمران خان کے حق میں ٹویٹ کو فخر کے ساتھ اس رویے کی بیناد قرار دے رہے ہیں۔
جبکہ محسن نقوی ان کے حالیہ ٹویٹ اور فٹنس کو اس کنٹریکٹ کے خاتمے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
شائقین فخر زمان کے حوالے سے فکرمند کیوں؟
شائقین فخر زمان کے بہترین کیرئیر کی وجہ سے ان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اگرچہ وہ اس وقت کیرئیر میں مشکل کا سامنا کررہے ہیں، مداح ان کی پرانی اننگز کو یاد کر کے حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔
شائقین کی زیادہ نظر ان کی 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کی اننگز پر ہے جس میں انہوں نے 114 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر انڈیا کے خلاف پاکستان کو فتح دلائی۔
انڈیا سے جیتے گئے میچز ویسے بھی شائقین کے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آئی سی سی ایونٹ کا فائنل دو روایتی حریفوں کا ہو اور اس میں کوئی کھلاڑی ٹیم کو فتح تک لے جائے تو اس کے سارے کیرئیر پر اس ایک اننگز کی چھاپ رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب شائقین فخر کیلئے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ آئندہ سال کے آغاز میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
یہ ایونٹ ہوم گراؤنڈ پر ہو گا اس لئے توقعات کا بوجھ زیادہ ہے۔ یوں فخر زمان کی فٹنس اور ٹیم میں واپسی کیلئے شائقین فکرمند دکھائی دے رہے۔