کھیل

جب کوچ باب وولمر کی پراسرار موت پر پاکستانی ٹیم کو تحقیقات بھتگنا پڑی

نومولود ٹیم سے ہار کر پاکستان کرکٹ ٹیم ایونٹ سے باہر ہوئی تو یہ صدمہ اس وقت دگنا ہو گیا جب کوچ باب وولمر اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے اور شک کی سوئی کھلاڑیوں کے گرد بھی جا گھومی۔

17 مارچ 2007 کا دن تھا ، پاکستانی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ میں آئرلینڈ کے خلاف گروپ میچ کھیلنے جا رہی تھی۔

قومی ٹیم کیلئے اس میچ کو جیتنا اگلے راؤنڈ میں جگہ بنانے کیلئے بہت ضروری تھا اور اس میچ میں مدمقابل ٹیم آئرلینڈ پہلی بار کسی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی تھی۔

اس کمزور ٹیم کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم کی جیت نوشتہ دیوار نظر آرہی تھی۔ لیکن اس دن میچ میں جو ہوا وہ کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔

قومی ٹیم کو آئرلینڈ سے شرمناک شکست:

قومی کرکٹ ٹیم یہ میچ آئرلینڈ سے 3 وکٹوں سے ہار گئی تھی جس کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ورلڈکپ 2007 سے سفر کا اختتام ہو گیا تھا۔

آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو امید کی جارہی تھی کہ ایک اچھا ٹارگٹ دے کر قومی ٹیم بڑے مارجن سے فتح پائے گی اور ایونٹ میں اپنا سفر جاری رکھ سکے گی۔

تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ کامران اکمل 27 رنز، عمران نذیر 24 رنز اور محمد یوسف 15 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

کپتان انضمام الحق ایک رنز جبکہ نائب کپتان یونس خان بنا کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے۔

شعیب ملک اور محمد حفیظ بھی بالترتیب 9 اور 4 رنز پر پویلین لوٹے ۔ یوں پوری ٹیم صرف 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

بارش سے متاثرہ میچ  میں اس آسان ہدف کے تعاقب میں وکٹ کپیر بیٹسمین نیل اوبرائن نے 72 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح کی جانب گامزن کر دیا ۔

بارش سے متاثرہ میچ میں ڈی ایل ایس کے ذریعے آئرلینڈ نے 3 وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔

 

باب وولمر کی اچانک موت جس نے غم دگنا کر دیا:

یہ بہت افسوسناک دن تھا جس میں پوری ٹیم، کوچ باب وولمر اور پوری قوم دکھ کی حالت میں تھی۔

تاہم اس سےاگلا واقعہ اور بھی افسوسناک تھا جب قومی ٹیم کے کوچ باب وولمر اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے جنہیں ہسپتال لے جایا گیا تو معلوم پڑا کے وہ انتقال کر چکے ہیں۔

باب وولمر کی موت جن حالات میں ہوئی تھی وہ غیر معمولی تھی۔ لیکن اس سارے معاملہ میں جمیکا پولیس نے ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی کوچ کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہے۔

 

مزید پڑھیں:‌ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستان آنے والے بین اسٹوکس بڑا نقصان کرا بیٹھے

 

اس کے بعد شک کرنے والوں نے سوچ کو اس حد تک بڑھا دیا تھا کہ قومی ٹیم کی کھلاڑیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔

 

قومی ٹیم اپنے ہی کوچ کے قتل میں تفتیش کی زد میں کیسے آئی:

اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان یونس خان نے نجی نیوز چینل پر تابش ہاشمی کے شو میں انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آخری میچ کھیلنے کے بعد ٹیم کو ایک جزیرے پر لے گئے جہاں ٹیم کو تین دن رکھا گیا۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ ہمیں وہاں ٹارچر میں رکھا گیا کیونکہ ہمیں کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یونس خان نے بتایا کہ ٹیم کے کئی ٹیسٹ بھی کئے گئے۔

تاہم بعدازاں کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کے طبعی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔

یہ پاکستان کرکٹ کا سب سے افسوسناک دور تھا۔ ایک طرف نومولود ٹیم کی ہار کی وجہ سے ایونٹ سے باہر دوسری جانب کوچ کی وفات پر قتل کی تحقیقات۔

شائقین ، کرکٹرز، کرکٹ بورڈ سب ہی اس معاملے پر پریشان تھے۔ یونس خان نے 17 سال بعد بھی اس واقعہ کو جب اپنی زبانی سنایا تو ان کی آواز میں وہ درد محسوس تھا جو اشارہ تھا کہ یہ زخم ابھی بھرا نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button