
حماس اسرائیل جنگ کے اختتام پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 20 نکاتی منصوبہ سامنے آیا اور بعدازاں بورڈ آف پیس کے نام سے غزہ کیلئے عبوری بین الاقوامی انتظامی فریم ورک بنایا گیا۔
بورڈ آف پیس کو ایک بین الاقوامی قانونی حیثیت دی گئی، اور غزہ میں جنگ بندی کے بعد عبوری حکمرانی، انسانی امداد کی توسیع، اور تعمیرِ نو و اقتصادی بحالی کی ہم آہنگی 31 دسمبر 2027 تک کی مدت کے لیے مرکزی ذمہ داریوں میں شامل کی گئی۔
بورڈ آف پیس کے اس فریم ورک میں بین الاقوامی استحکام فورس International Stabilization Force (ISF) کی منظوری بھی دی گئی جسے اپنے مینڈیٹ کے لیے تمام تر اختیارات بروئے کار لانے کی اجازت دی گئی۔
مگر عملی نفاذ میں یہیں سے سب سے بڑی غیر یقینی شروع ہوتی ہے: فورس کن ممالک سے بنے گی، قواعدِ کار کیا ہوں گے، اور زمینی سطح پر نفاذ کیسے ہو گا—یہ بہت حد تک غیر معین ہے۔
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اور شرکت کو سرکاری طور پر جنگ بندی مضبوط کرنے، انسانی امداد و تعمیر نو میں مدد، اور فلسطینی حقِ خودارادیت کے لیے سفارتی کردار قرار دیا۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اقدام ابراہیمی معاہدہ (Abraham Accords) سے متعلق نہیں اور BoP کے ساتھ جڑنے کا مطلب لازماً ISF میں فوج بھیجنا نہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ سے منظوری کی بات کی اور اسے غزہ کے لیے امن/تعمیر نو کی امید سے جوڑا۔
وزیراعظم اس وقت بورڈ آف پیش کے ابتدائی سیشن میں شرکت کیلئے کابینہ اراکین کے ہمراہ امریکہ میں موجود ہیں۔ اس لیئے فورس دینے اور دیگر معاملات زیرِ بحث لائے جار ہے ہیں۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif reaches Washington DC to attend the inaugural session of Board of Peace.
(Washington: 19 February, 2026) pic.twitter.com/0NcNsJglDr
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) February 19, 2026
نفاذ کی عملی صورتِ حال اور غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی حقیقت
کاغذی معاملات میں تو جنگ بندی ہو چکی لیکن حقیقت میں روزانہ کی بنیاد پر انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے،
Ceasefire اور سکیورٹی:
UN بریفنگ سیاق میں 10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کو ایک سنگ میل کے طور پر دکھایا گیا، مگر بعد کی رپورٹس نے بتایا کہ جنگ بندی کے اندر بھی خلاف ورزیوں کی صورت میں سیاسی دباؤ، امدادی پابندیوں کے خدشات، اور دوبارہ حملوں کا خطرہ موجود رہا۔
یرغمالی/قیدی تبادلے:
پلان میں یرغمالیوں کی واپسی اور قیدی تبادلے کے تصوراتی فریم ورک موجود ہیں، اور میڈیا رپورٹنگ کے مطابق تبادلے ہوئے مگر تمام تنازعات/مسائل حل نہ ہو سکے (خصوصاً باقی معاملات اور عدم تعمیل کے بیانیے)۔
NCAG اور زمینی حکمرانی:
وائٹ ہاؤس نے NCAG اور High Representative کے ذریعے “on-the-ground link” کا خاکہ دیا، لیکن فروری 2026 تک رپورٹنگ کے مطابق عبوری میکانزم کو مکمل طور پر کام کرنے میں سکیورٹی اور سیاسی پیچیدگیوں کے سبب مشکلات رہیں—یعنی “ادارے قائم” اور “حکمرانی قائم” کے درمیان فرق باقی رہا۔
تعمیرِ نو کی ضرورت اور انسانی رسائی:
UNDP/UN جیسے بین الاقوامی اداروں نے تباہی اور مالیاتی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کیلئے 70 بلین امریکی ڈالر تک تخمینہ لگایا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ پہلے چند برس میں بہت بڑی رقم درکار ہوگی؛ اسی کے ساتھ امداد کی ناکافی مقدار اور تقسیم کے خطرات بھی بتائے گئے۔
رقوم کے اجراء کی حیثیت:
Resolution 2803 میں World Bank و مالیاتی اداروں کے ذریعے وسائل کو ممکن بنانے اور trust fund جیسے انتظامات کا ذکر ہے، مگر عوامی ذرائع میں رقوم کے حقیقی اجراء سے متعلق منظر نامہ ابرآلود ہے۔
ISF کی حقیقت: مینڈیٹ، فورس جنریشن، کمان، قانونی مسائل اور خطرات
بین الاقوامی استحکام فورس کو سمجھنے کے لیے تین سطحیں الگ کرنا ضروری ہیں: (الف) قرارداد میں دیا گیا مینڈیٹ، (ب) فورس جنریشن/کمان کی عملی سیاست، (ج) زمینی مقابلہ جاتی ماحول میں “use of force” کے خطرات۔
مینڈیٹ (Resolution 2803):
استحکام فورس کا دائرہ کار وسیع ہے: غیر مسلح کرنے کی سپورٹ، شہریوں اور انسانی امدادی آپریشنز کا تحفظ، فلسطینی پولیس کی تربیت، راہداریوں و سرحدی مقامات کی سکیورٹی، اور اسرائیلی انخلا کو milestones کے ساتھ جوڑنا—جبکہ “security perimeter” کی گنجائش بھی رکھی گئی۔
کمان/قیادت:
White House نے Maj Gen Jasper Jeffers کواس فورس کا کمانڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا، جبکہ قرارداد کے مطابق “unified command acceptable to BoP” کی شرط ہے۔
ٹروپ کمیٹمنٹس:
معتبر رپورٹنگ میں واحد نسبتاً واضح اشارہ انڈونیشیا کی طرف سے ہے—کہ وہ (منظوریوں سے مشروط) جون تک 8,000 تک فورسز کی تیاری رکھتا ہے۔ دیگر ممالک کی ٹھوس تعداد/وعدے اس تحقیق کے دائرۂ شواہد میں غیر معین ہیں۔
پاکستان اور استحکام فورس:
پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ISF میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا، اور BoP میں شمولیت کا مطلب لازماً فوجی شمولیت نہیں۔ لہٰذا “پاکستان نے ٹروپس دینے پر بات کی” یا “وعدہ کیا”—ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تاہم چند میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اس فورس کو صرف امن قائم رکھنے کیلئے استعمال کرنے تک حصہ بن سکتا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسی کوشش کا حصہ نہیں بنا جائے گا۔
پاکستان: مؤقف، شرکت کا جواز، اور سوال کہ فوج دیں یا نہیں
پاکستان کی شرکت کو محض “حاضری” نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو پاکستان کو ایک پیچیدہ اخلاقی‑قانونی میدان میں لے آتا ہے جہاں ایک طرف فلسطینی حقوق کی وکالت ہے اور دوسری طرف سکیورٹی‑سینٹرڈ عبوری انتظامیہ کا خطرہ۔
پاکستان کے سرکاری بیانات اور شرکت کی منطق
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے BoP اس لیے جوائن کیا کہ جنگ بندی کو مضبوط کیا جائے، تعمیر نو میں مدد ہو، اور فلسطینی حقِ خودارادیت کی بنیاد پر منصفانہ امن کو آگے بڑھایا جائے—اور یہ اقدام Abraham Accords سے متعلق نہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ منظوری اور امید کا بیانیہ دیا کہ اس سے غزہ میں امن و تعمیر نو اور فلسطینی حقوق کو راستہ ملے گا۔ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے دو ریاستی حل کی امید بھی باندھی۔
یہ منطق سفارت کاری کی زبان میں “seat at the table” کی حکمت ہے: پاکستان اگر باہر رہتا تو اس کی آواز کمزور ہوتی، اور اگر اندر ہے تو وہ کم از کم اصولی مؤقف، انسانی امداد، اور سیاسی ٹائم لائن پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
پاکستان کو ISF میں ٹروپس دینے چاہئیں یا نہیں؟
یہ سوال جذباتی سے زیادہ قانونی، عملیاتی، سیاسی اور اخلاقی ہے—اور اسی لیے اس پر سادہ “ہاں/نہیں” کمزور جواب ہوگا۔
اگر ISF واقعی غیر جانبدار استحکام فورس بنے اور انسانی امداد کے مراکز کی حفاظت، شہریوں کے تحفظ، اور پولیس ٹریننگ کے کام کرے تو پاکستان کی شرکت اسے عملی وزن دے سکتی ہے۔ خصوصاً ایک مسلم ملک کی حیثیت سے، جس کی کچھ سطح پر اخلاقی قبولیت ہو سکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر اس فورس کا جھکاؤ غیر حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے معاملات کی طرح ہو تو شہری آبادی پر طاقت کے استعمال، گرفتاریوں، یا سکیورٹی کریک ڈاؤن جیسی صورتیں بھی بن سکتا ہے۔
اس فورس کے کئی قانونی پہلو ابھی غیر واضح ہیں جن کے واضح ہوئے بغیر اس کی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔



