
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے اُس کی 6 جنوری 2021 کو کی گئی تقریر کو غلط ترتیب دے کر ایسے دکھایا کہ گویا وہ دارالحکومت واشنگٹن میں مشتعل مظاہرین کو ہنگامہ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے ۔
اس الزام کے مدنظر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے 5 بلین امریکی ڈالر ہرجانہ دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پس منظر
بی بی سی نے اپنے پروگرام Panorama میں ایک ڈاکومنٹری نشر کی تھی جس کا عنوان تھا “Trump: A Second Chance?”، جو اکتوبر 2024 میں امریکی صدارت کے انتخاب سے چند دن قبل نشر ہوئی تھی۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس ڈاکومنٹری میں دو الگ حصّے — جن میں وہ کہتے ہیں، “We’re going to walk down to the Capitol and I’ll be there with you” اور بعد میں “and we fight. We fight like hell” — کو ملا کر ایسا دکھایا گیا کہ گویا وہ بیک وقت مظاہرین سے براہِ راست ہنگامہ کرنے کی ہدایت دے رہا تھا، حالانکہ وہ دونوں جملے ایک ساتھ نہیں بولے تھے۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کی تقریر کے اس حصّے کو ہٹا دیا گیا جس میں وہ اپنے حامیوں سے کہہ رہا تھا کہ وہ “پرامن اور وطنپرست انداز میں مارچ کریں”۔
بی بی سی کا ردِعمل اور اثرات
بی بی سی نے اس معاملے میں تسلیم کیا ہے کہ “ترتیب میں غلطی” ہوئی، یعنی اسے یہ احساس ہے کہ اس ایڈٹنگ سے ناظرین پر غلط تاثر پڑا۔
اس رپورٹ کے بعد، بی بی سی کے دو اعلیٰ حکام نے استعفیٰ دے دیا ہے: ڈائرکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور نیوز چیف ڈیبورا ٹرنِس۔
ادارے کے چیئرمین سمِر شاہ نے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ ادارے کو اس بات کی ذمہ داری قبول ہے کہ ایڈٹنگ میں “خیال سے غلط تاثر” پیدا ہوا۔ تاہم ادارہ اس بات پر بضد ہے کہ ٹرمپ کے ہرجانے کی دعوے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
ٹرمپ کی قانونی درخواست کا مقصد
ٹرمپ نے اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے ایک خط بی بی سی کو بھیجا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے:
- اس ڈاکومنٹری کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
- عوامی معافی جاری کی جائے۔
- ہرجانے کے طور پر کم از کم 5 بلین ڈالر ادا کیے جائیں اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ بی بی سی نے عوام کو دھوکہ دیا ہے اور اُسے قانونی اقدام اٹھانا “اپنا فرض” سمجھتا ہے۔
قانونی مشکلات اور ممکنہ راستہ
ماہرینِ قانون بتاتے ہیں کہ اس دعوے کے سامنے کئی چلینجز ہیں:
- امریکی قانون کے تحت، اگر کوئی معروف شخصیت عدالتی دعویٰ کرے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ مدعا علیہ نے جان بوجھ کر یا بے احتیاطی سے سچائی کو نظرانداز کیا۔
- عدالتی دائرہ اختیار کا سوال بھی ہے: آیا بی بی سی کی نشریات نے ریاستِ فلوریڈا (جہاں ٹرمپ رہائش پذیر ہیں) میں اثر ڈالا کہ عدلیہ وہاں کارروائی کرے؟
- برطانیہ میں معاملات مختلف ہیں، اور یک سالہ وقت کی حد اور ہرجانے کی حد بھی دوسرے قانون کے تحت آتی ہے۔
اہمیت و معنی
یہ تنازع صرف ایک نشریاتی ادارے اور سابق صدر کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے میڈیا کی شفافیت، انتخابی عمل میں میڈیا کا کردار، اور عوامی اعتماد جیسے بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بی بی سی جیسے پبلک براڈکاسٹر کے لیے یہ معاملہ اعتماد پر ایک بڑا دھچکا ہے، اور ٹرمپ کی جانب سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ وہ میڈیا پر قانونی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
آئندہ راستہ
بی بی سی نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے خط کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد جواب دے گی۔
اگر بی بی سی نے مطالبات مان لیے تو معاملہ شاید عدالتی دائرے سے باہر طے پائے، ورنہ ممکن ہے کہ ٹرمپ عدلیہ میں کارروائی کرے۔
مزید دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد کون سے ذرائع نشریات، کون سے ادارے، کس طرح اس ډول مسائل کا سامنا کریں گے۔
ادارے کی جانب سے غلطی کو تسلیم کرنے کےبعد غیر مشروط معافی ہونی چاہیے۔ یہ دعویٰ کہ ٹرمپ کے پاس قانونی بنیاد نہیں ہے، انہی کے کیس کو کمزور کرتا ہے اور مالی بحران کا شکار بی بی سی کو جرمانے یا امریکی صدر کی جانب سے پابندیوں کی طرف لے کر جاسکتا ہے۔



