دنیا

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی گئی

فیصلے سے پہلے ڈھاکا میں سخت سیکیورٹی نافذ کی گئی تھی، پولیس، نیم فوجی دستے اور فوج کو ٹریبونل اور اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف تعینات کیا گیا۔

 بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT-1) کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو عدم موجودگی میں سزائے موت سنادی ۔

انہیں جولائی–اگست 2024 میں طلبہ کی سربراہی میں ہونے والی بغاوت پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کا حکم دینے پر جرائمِ انسانیت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ 

 

حسینہ واجد کو سزائے موت ؛ عدالتی فیصلہ جاری:

 

عدالت نے قرار دیا کہ حسینہ نے قاتلانہ طاقت استعمال کرنے کے احکامات دیے تھے، جن میں ہیلی کاپٹر، ڈرونز اور براہِ راست فائرنگ شامل تھی، جس کے نتیجے میں مظاہرین کی وسیع پیمانے پر ہلاکتیں اور کچلاؤ ہوا۔

ان کے شریکِ ملزم، سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کو بھی سزائے موت سنائی گئی، جبکہ سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المأمون کو عدالت سے تعاون کرنے کے باعث پانچ سال قید کی سزا ملی۔

یہ فیصلہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد سامنے آیا، جس میں استغاثہ نے آڈیو ریکارڈنگز، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر ثبوت پیش کیے، جن کے مطابق حسینہ اس ریاستی حملے کے “اصل مرکز” میں تھیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جسے مقدمے کے دوران پیش کیا گیا، مظاہروں کے دوران 1,400 افراد تک جاں بحق ہوئے ۔ یہ 1971 کی جنگِ آزادی کے بعد بنگلہ دیش کی سب سے مہلک کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

حسینہ واجد، جو اگست 2024 میں بھارت فرار ہو گئی تھیں، نے الزامات مسترد کیے اور ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کی “سیاسی انتقام پر مبنی ڈرامہ بازی” قرار دیا۔

فیصلے سے پہلے ڈھاکا میں سخت سیکیورٹی نافذ کی گئی تھی، پولیس، نیم فوجی دستے اور فوج کو ٹریبونل اور اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف تعینات کیا گیا۔

حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، مگر اس فیصلے نے پہلے ہی شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور ناقدین نے 2026 کے فروری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل نئے انتشار کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

 

انتخابات سے چند ماہ قبل فیصلہ؛ کیا پارٹی الیکشن لڑ پائے گی؟

 

حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا یہ فیصلہ ایک ایسے  وقت سامنے آیا ہے جب 2026 کے فروری میں ہونے والے اہم انتخابات میں چند ہی ماہ باقی ہیں، اور اس سے ملک میں سیاسی تقسیم مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی زیرِ قیادت عبوری حکومت کو اس مقدمے کے اثرات کے باعث ملکی و عالمی سطح پر سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہوگا۔

اس سے قبل عبوری حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

تاہم ممکنہ خطرے کو بھانپتے ہوئے حسینہ واجد کی جانب سے چند روز قبل ہی ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر ووٹنگ بائیکاٹ سامنے آسکتا ہے اگر ان کی پارٹی کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی گئی۔

تاہم چند ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی پریشر کے پیش نظر عبوری حکومت کو اپنے اس فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button