اہم خبریںدنیا

آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟

نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق، سی آئی اے کئی مہینوں سے خامنہ ای اور ایران کی سینئر قیادت کا تعاقب کر رہی تھی

مسلم دنیا   آج ایک بڑے سانحے سے گزر رہی ہے ۔ ایران کا سرکاری ٹیلی ویژن — آنسوؤں کے ساتھ — وہ خبر دے رہا تھا جس کا کئی گھنٹوں سے خدشہ تھا: آیت اللہ علی خامنہ ای، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر، تہران میں ایک مشترکہ امریکی-اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔

خامنہ ای کی موت ایک  36 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہے — اقتدار جس نے نہ صرف ایران کو بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو بنیادی طور پر تشکیل دیا۔ ایران کی حکومت نے 40  روزہ سرکاری سوگ اور سات دن کی قومی تعطیل کا اعلان کیا۔

ایک انقلابی کا ابتدائی جیون

 

علی حسینی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو ایران کے مشہد مقدس میں ایک سادہ عالم دین کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

بچپن سے ہی انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ایران کے بزرگ ترین علمائے کرام کے زیر سایہ پروان چڑھے۔ بالآخر انہوں نے خود آیت اللہ روح اللہ خمینی کی شاگردی اختیار کی — وہی خمینی جو بعد میں اسلامی جمہوریہ کے بانی قرار پائے۔

ان کی ابتدائی زندگی مزاحمت سے عبارت تھی۔ 1960 ور 1970  کی دہائیوں میں، جب ایران امریکی حمایت یافتہ شاہ محمد رضا پہلوی کے آمرانہ اقتدار کے خلاف ابل رہا تھا، خامنہ ای نے بار بار آواز اٹھائی اور متعدد بار گرفتار ہوئے۔

انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قید میں ڈالا گیا اور جلاوطن کیا گیا۔ یہ تجربات ان کے ذہن میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف گہری اور دیرپا نفرت راسخ کر گئے۔

جب آیت اللہ خمینی 3 جون  1989 کو انتقال کر گئے تو اسلامی جمہوریہ ایران  کو جانشینی کے پہلے بڑے بحران کا سامنا تھا۔ خامنہ ای واضح انتخاب نہیں تھے۔ ان کے پاس خمینی جیسا بلند مذہبی مرتبہ نہیں تھا اور وہ خود اس بات سے واقف تھے۔لیکن ایرانی سیاست کی بے رحم دنیا میں خامنہ ای  سپریم لیڈر ہو گئے۔

آخری صبح: خامنہ ای کیسے مارے گئے

 

ہفتہ، 28فروری 2026 کو تہران پر طلوع آفتاب کے ساتھ دھماکوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

اس آپریشن کو اسرائیل نے ‘آپریشن روارنگ لائن’ اور امریکہ نے ‘آپریشن ایپک فیوری’ کا نام دیا۔ اس کی منصوبہ بندی مہینوں سے جاری تھی۔ تاہم اس مخصوص صبح کا انتخاب ایک ڈرامائی آخری لمحے کی انٹیلی جنس کامیابی کا نتیجہ تھا۔

نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق، سی آئی اے کئی مہینوں سے آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کی سینئر قیادت کا تعاقب کر رہی تھی۔ حملوں کا آغاز ہونے سے کچھ ہی پہلے امریکی انٹیلی جنس کو معلوم ہوا کہ ایران کے تمام اعلیٰ ترین سیاسی اور فوجی رہنما تہران کے پاستور ضلع میں ایک حکومتی کمپلیکس میں ایک ساتھ جمع ہیں — وہی کمپلیکس جہاں خامنہ ای رہائش پذیر تھے، جہاں صدارتی محل اور قومی سلامتی کونسل کا صدر دفتر بھی تھا۔

امریکہ اور اسرائیل نے اصل میں رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ اسرائیل نے جون 2025 میں کیا تھا۔ لیکن دن کی روشنی میں اجلاس کی اطلاع انتہائی قیمتی تھی۔ وقت تبدیل کیا گیا۔

صبح تقریباً سات بجے مقامی وقت کے مطابق حملے شروع ہو گئے۔ تقریباً200  اسرائیلی F-35 اور F-15 جنگی طیاروں نے اڑان بھری۔

اڑان کے تقریباً دو گھنٹے پانچ منٹ بعد، صبح تقریباً 9 بج کر 40 منٹ تہران وقت کے مطابق، میزائلوں نے خامنہ ای کا کمپلیکس نشانہ بنایا۔ اسرائیلی طیاروں نے مبینہ طور پر کمپلیکس پر 30  بم گرائے جس سے وہ ‘جلا ہوا اور کھنڈر’ ہو گیا۔

حملے کے وقت سینئر قومی سلامتی حکام ایک عمارت میں جمع تھے جبکہ خامنہ ای ایک قریبی عمارت میں مبینہ طور پر اپنی میز پر کام کر رہے تھے۔

ایران کا ابتدائی رد عمل

 

ایران کا ابتدائی ردعمل انکار تھا۔ سرکاری خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا کہ وہ ‘میدان کی کمان سنبھالنے میں ثابت قدم ہیں۔’ گھنٹوں تک ایرانی حکومت ان کی بقا کا افسانہ قائم رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔

لیکن صبح کے اوائل میں — جب رائٹرز نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے خامنہ ای کی لاش کی برآمدگی کی تصدیق کی اور جب صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ  کیا تو ایران کی حکومت مزید کچھ چھپا نہ سکی۔

صبح تقریباً پانچ بجے ایران وقت کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی۔ اینکر آنسوؤں میں بھیگی آنکھوں سے اعلان کر رہا تھا کہ خامنہ ای نے ‘شہادت’ پائی۔

آیت اللہ خامنہ ای کی جانشینی کا بحران: آگے کیا ہوگا؟

 

آیت اللہ خامنہ ای کوئی نامزد جانشین نہیں چھوڑ گئے — اور اسلامی جمہوریہ گہرے صدمے میں ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق، جب سپریم لیڈر انتقال کرتے ہیں تو صدر اور سینئر حکام پر مشتمل ایک عبوری قیادتی کونسل اقتدار سنبھالتی ہے جبکہ ماہرین کی اسمبلی — 88 اسلامی علمائے کرام کا ادارہ — نیا لیڈر چننے کے لیے اجلاس کرتی ہے۔

لیکن یہ منتقلی کسی طور ہموار نہیں ہوگی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی قیادتی زنجیر کو تباہ کر دیا ہے۔

ممکنہ جانشینوں میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، سابق عدلیہ سربراہ صادق لاریجانی، اور یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ کے بانی کے پوتے حسن خمینی کے نام لیے جا رہے ہیں — اگرچہ وہ برسوں سے حکمران حلقوں سے دور رہے ہیں۔

سی آئی اے نے حملوں سے قبل تیار کردہ تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ  سخت گیر شخصیات کے جانشین بننے کا سب سے زیادہ امکان ہے ۔

یہ امکان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا خامنہ ای کی موت اور بھی انتہاپسند حکومت کو جنم دے گی، یا اس بحران کو ایسے سیاسی تبدیلی کے موقع میں بدل سکتی ہے جس کا مطالبہ کروڑوں ایرانی کرتے رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button