ایپل آئی فون اب پاکستان میں بنیں گے
کمپنی پاکستان میں دو سے تین سال پرانے آئی فونز کو ریفربش/ریپئیر کرکے عالمی منڈی میں ری-ایکسپورٹ بھی کرے گی، جس سے حکومت کو پہلے سال میں 100 ملین ڈالر کی تخمینی آمدنی متوقع ہے۔

پاکستانی حکومت نے امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ایپل کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر بنیادی اصولی اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت ایپل آئی فون کی مینوفیکچرنگ پاکستان میں شروع کی جائے گی۔
ایپل اور پاکستانی حکومت کے درمیان معاہدے کے اہم نکات
اس معاہدے میں شامل کل اہم نکات:
- حکومت آئندہ موبائل و الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک میں ایپل کو رعایتی زمین فراہم کرے گی۔
- ایپل کو 8% پرفارمنس انسنٹو (ادائیگی کے عوض) دیا جائے گا۔
- کمپنی پاکستان میں دو سے تین سال پرانے آئی فونز کو ریفربش/ریپئیر کرکے عالمی منڈی میں ری-ایکسپورٹ بھی کرے گی، جس سے حکومت کو پہلے سال میں 100 ملین ڈالر کی تخمینی آمدنی متوقع ہے۔
یہ ماڈل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے ایپل نے انڈونیشیا، ملائیشیا، اور بھارت میں کیا ہے۔
پاکستان ٹیک مارکیٹ پر ممکنہ اثرات
1. ڈرائیونگ فیکٹر: مقامی مینوفیکچرنگ
پاکستان میں فی الحال موبائل فونز کے زیادہ تر ماڈلز امپورٹ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو بھاری ایمپورٹ ڈیوٹی، ٹیکس اور کورئیر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
اگر ایپل آئی فونز پاکستان میں ہی اسمبل/مینوفیکچر ہوں تو:
✔ فون کی قیمت میں ممکنہ کمی آئے گی کیونکہ امپورٹ کی لاگت کم ہو جائے گی۔
✔ براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر تکنیکی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں۔
✔ پاکستان میں الیکٹرانکس سپلائی چین مضبوط ہوگی، جس سے دیگر ریٹیلرز اور سپلائرز بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
آئی فون کی قیمت اور صارفین پر اثر
اب تک پاکستان میں آئی فون کے کئی ماڈلز بہت مہنگے ہیں۔
مثال کے طور پر نئے iPhone 17 ماڈلز کی قیمت تقریباً 400,000 سے 898,000 روپے تک ہے۔
لوکل مینوفیکچرنگ شروع ہونے سے:
قیمتوں میں استحکام آئے گا، ممکنہ طور پر کچھ ماڈلز سستے بھی ہو سکتے ہیں۔ صارفین کے لیے پہلے سے بہتر وارنٹی / سروس سپورٹ دستیاب ہو سکتی ہے، کیونکہ سروس سینٹرز لوکل ہوں گے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں غیر قانونی یا استعمال شدہ فونز کی ڈیمانڈ میں کمی آئے گی۔
موبائل انڈسٹری کو تقویت
ایپل کی انویسٹمنٹ سے مقامی موبائل مینوفیکچررز — جیسے سام سنگ، نوکیا، اور دیگر — کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ مینوفیکچرنگ پالیسی مضبوط ہوگی۔
مقامی پرزہ جات صنعت کو بھی ترقی مل سکتی ہے کیونکہ ایپل جیسی کمپنی لوکلائزیشن بڑھانا چاہتی ہے — یعنی زیادہ سے زیادہ پارٹس پاکستان میں تیار کیے جائیں گے۔
برآمدی مواقع
ایپل آئی فون کے پاکستان میں Refurbish/ری-ایکسپورٹ پروگرام کے تحت حکومت کو پہلے سال میں تقریباً 100 ملین ڈالر ریونیو متوقع ہے۔ یہ ٹیک سیکٹر میں برآمدی بڑھوتری اور انویسٹمنٹ کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
سرمایہ کاری اور معاشی اثرات
ایپل کے ساتھ مذاکرات کے علاوہ، حکومت چین کی کمپنیوں سے بھی 557 ملین ڈالر کی موبائل مینوفیکچرنگ سرمایہ کاری کی توقع رکھتی ہے۔
یہ پاکستان کو ریجنل موبائل و الیکٹرانکس ہب بنانے کے قومی اہداف میں مددگار ہوگا۔
ایپل آئی فون کی پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ممکنہ چیلنجز
لیکن کچھ خطرات بھی موجود ہیں:
سپلائی چین کا انحصار: آئی فون کے بہت سے پرزے بیرونی ممالک جیسے چین، جنوبی کوریا، جاپان وغیرہ سے آتے ہیں۔
معاشی حالات: اگر مینوفیکچرنگ صرف اسمبلنگ تک محدود رہے، تو بڑے فائدے حاصل کرنا طویل مدت میں ہی ممکن ہوگا۔
قیمتوں کا تعین: صارفین کی طرف سے توقع ہے کہ قیمتیں فوری طور پر ڈرامائی طور پر کم ہوں گی، لیکن حقیقت میں سپلائی چین، جزوی درآمد، اور مارکیٹنگ عوامل کے باعث قیمتوں میں مرحلہ وار کمی ہی امکان ہے۔
صارفین و نوجوانوں کے لیے معنی
نوجوان ماہرینِ ٹیکنالوجی کو لوکل سکل ٹریننگ کے مواقع ملیں گے۔ ایپل سافٹ ویئر/ہارڈویئر کے تربیتی مراکز کا قیام ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے گیم چینجر
یہ اقدام پاکستان کی ٹیک انڈسٹری کے لیے تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے جہاں ملکی ٹیک سیکٹر مضبوط ہوگا، آئی فونز کی قیمتوں میں استحکام یا کمی ممکن ہو گی۔
اس کے ساتھ برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹکنیکی مہارت اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔



