
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ ایک سال سے زائد سے جیل میں قید ہیں۔ وہ صنم جاوید کے ساتھ ان قیدی خواتین میں سے تھیں جن کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا رہا ہے۔ صنم جاوید کی مشکلات تو کچھ حد تک ختم ہو چکی ہیں اور وہ رہا ہو چکی ہیں لیکن عالیہ حمزہ کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی ایک اسیر رہنما جو چند ماہ قبل رہا ہوئیں تھیں، عالیہ حمزہ کے حوالے سے تشویشناک خبر شیئر کی ہے۔
ایک ایکس پیغام میں عائشہ علی بھٹہ نے لکھا کہ ابھی کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ سے ملاقات ہوئی،عالیہ ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ گجرانوالہ میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،شدید مشکلات کا سامنا یے،گجرانوالہ کی عدالت نےضمانت کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ عالیہ کودیکھ کر شدیددکھ ہوا، ہم خواتین اس سلوک کی مستحق نہیں تھی۔
چند روز قبل عالیہ حمزہ کی بیٹی نے بھی میڈیا سے انٹرویو میں اپنی والدہ کی اس حالت بارے گفتگو کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماما کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ گھر کا سارا نظام رک گیا ہے، میری پڑھائی کا ایک سال بھی ضائع ہو گیا، گجرانوالہ میں ماما کو ڈیتھ سیل میں رکھا ہوا ہے، گرمی میں قیدیوں والی وین میں گھنٹوں گھماتے ہیں، کھانا بھی نہیں دیتے۔
مزید پڑھیں: اب کی بار نشانہ، سیدہ عروبہ کومل
عالیہ حمزہ کا کیس بھی معروف قانون دان میاں علی اشفاق ہی دیکھ رہے ہیں۔ میاں علی اشفاق نے چند روز قبل ہی پیروی کرتے ہوئے صنم جاوید کی رہائی میں کردار ادا کیا تھا۔
اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ اگلا ہدف عالیہ حمزہ ہیں اور انہیں جلد رہائی مل جائے گی۔ انہوں نے دو روز قبل اس حوالے سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ
آج گوجرانوالہ میں عالیہ کے خلاف درج شدہ مقدمہ میں انکی درخواست ضمانت پر تفصیلی بحث میرے ہمراہ گوجرنوالہ میں لیاقت سندھو ایڈوکیٹ صاحب نے کی ۔ جس کے اختتام پر عدالت نے سرکاری وکلاء کو حکم دیا کہ حکومت پنجاب سے ہدایات لیں کہ کیا عالیہ حمزہ صاحبہ کسی مزید مقدمے میں گرفتاری کے لیے مطلوب ہیں اور اس پر کیس کا فیصلہ بدھ کے روز سنایا جائے گا۔-