پاکستانسیاست

اب کی بار نشانہ، سیدہ عروبہ کومل

پاکستان تحریک انصاف کے مرد رہنماؤں کی پے درپے گرفتاریوں کے بعد اب خواتین رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ اسی حوالے سے گزشتہ رات قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی آئی کی فیس بک لیڈ سیدہ عروبہ کومل کو حراست میں لے لیا جسے پی ٹی آئی کی جانب سے اغواء قرار دیا گیا۔
سیدہ عروبہ کو آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا جہاں پراسیکیوشن کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو بھی عدالت پیش کیا گیا۔
اس موقع پر عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے رؤف حسن کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ تاہم عدالت نے پی ٹی آئی کی فیس بک ہیڈ سیدہ عروبہ کومل کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور انہیں جوڈیشل کر دیا گیا۔
اب پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے سیدہ عروبہ کیلئے ضمانت دائر کی جائے گی جس کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن اب دیکھنا ہو گا کہ کیا انہیں آسانی سے جانے دیا جاتا ہے یا ان کے ساتھ بھی صنم جاوید اور عالیہ حمزہ والا برتاؤ رکھا جاتا ہے یعنی کے نیا کیس اور گرفتاری۔

مزیدپڑھیں:مردوں کی بعد پی ٹی آئی خواتین اغواء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد پیشی کے موقع پر جہاں آج سیدہ عروبہ کومل کے والدین موجود تھے، وہیں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے صنم جاوید بھی عدالت پہنچیں۔
پی ٹی آئی سے وابستہ خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ بہت شرمناک ہے جسے سیاسی اور صحافتی برادریوں کی جانب سے تنقید کانشانہ بنایا جارہا ہے۔
گزشتہ دنوں بھی پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ پر چھاپے کے دوران 13 خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل صنم جاوید، عالیہ حمزہ اور طیبہ راجہ، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی سے وابستہ خواتین کے ساتھ توہین آمیز برتاؤ روا رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button