انتخابات 2024اہم خبریں

پی ٹی آئی اتحادی حکومت بنانے پر مان گئی

پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے حصول اور حکومت سازی کیلئے سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد سیکرٹری انفارمیشن پی ٹی آئی رؤف حسن نے میڈیا سے گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وفاق اور پنجاب میں مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کرنے اور خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی سے اتحاد کرنے کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے۔
عمران خان نے آج الیکشن کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا نمائندوں سے جیل میں دہشت گردی کے کیس کی سماعت کے موقع پر گفتگو کی ۔ اس کے علاوہ بیرسٹر گوہر خان اور رؤف حسن بھی عمران خان سے ملے۔ صحافی ثاقب بشیر کے مطابق رؤف حسن کے متعلق میڈیا کو بتاتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 6 ماہ میں ایک بار بھی رؤف حسن کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی یہ پہلے دفعہ تھی کہ انہیں اجازت ملی۔

عمران خان نے اتحادی حکومت بنانے سے متعلق جماعت اسلامی اور مجلس وحدت المسلمین سے الحاق کا گرین سگنل دینے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کیلئے علی امین گنڈا پور کا نام فائنل کر لیا۔ عمران خان نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے کسی طور ہاتھ نہ ملانے کا عزم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔ عمران خان نے الیکشن میں کامیابی کے بعد کسی بھی اہم شخصیت سے جیل میں ملنے کی خبروں کی بھی تردید کردی۔

مزید پڑھیں: ن لیگ ، اےاین پی کے امیدوار پی ٹی آئی کے حق میں‌آگئے

یاد رہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار قومی اسمبلی ، پنجاب اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں واضح اکثریت رکھتے ہیں۔ تاہم چند نتائج کے رد و بدل کی وجہ سے پی ٹی آئی سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی جس کیلئے قانونی محاذ پر جنگ جاری ہے۔ اگر ان معاملات کو عدالتوں میں جلد سماعت کیلئے مقرر کر لیا جاتا ہے تو پی ٹی آئی کو مزید سیٹیں واپس ملنے کا امکان ہے۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ فارم 45 کے مطابق رزلٹ ترتیب دیا جائے تو پی ٹی آئی کے پاس وفاق میں 180 سیٹ ہونگی۔ تاہم انتخابی نشان چھن جانے کے بعد پی ٹی آئی کو کسی دوسری پارلیمانی جماعت سے الحاق کی ضرورت پیش آنی ہے۔ یوں پی ٹی آئی نے اتحادی حکومت کے قیام کیلئے وفاق میں مجلس وحدت المسلمین جبکہ کے پی کے میں جماعت اسلامی کو چنا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button