پاکستان کی سیاست میں آئے روز نئے تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔ جمہوریت کے نام پر کبھی عوام کے مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈالا جاتا ہے تو کبھی آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم لا کر اقتدار کو طول دینے اور مخالفین کو زیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آج کل سیاسی حلقوں اور میڈیا پر ایک نئی بحث زیرِ غور ہے، جس کا مرکز مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کا وہ مبینہ بیان یا تجویز ہے جس میں 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
یہ محض ایک آئینی ترمیم کی بازگشت نہیں، بلکہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو سیاسی عمل سے بے دخل کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال ہونے کے نقصانات
سال2024 ہونے والے عام انتخابات نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کا نوجوان اب سیاسی طور پر بیدار ہو چکا ہے۔ فروری 2024 کے انتخابات میں لاکھوں نوجوانوں نے بے مثال جوش و خروش کے ساتھ گھروں سے نکل کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس نوجوان طبقے کی اکثریت کا جھکاؤ اور اعتماد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عمران خان کے ساتھ تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، انتخابی نتائج کے بعد جس طرح کے تحفظات سامنے آئے اور نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کے ڈالے گئے ووٹ کو اس کی اصل منزل تک نہیں پہنچنے دیا گیا، اس نے نظام پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ ایک زمانے میں بہت مقبول ہوا، لیکن آج کا نوجوان یہ پوچھنے پر حق بجانب ہے کہ کیا واقعی اس کے ووٹ کی کوئی عزت باقی رہ گئی ہے؟ جب ایک ووٹر کا اعتماد پہلے ہی مجروح ہو چکا ہو، ایسے میں اس سے ووٹ کا بنیادی حق ہی چھین لینے کی باتیں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔
عمر کی قید: تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے کی کوشش
دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور بالغ نظر جمہوریتیں اس بات پر بحث کر رہی ہیں کہ نوجوانوں کو سیاسی دھارے میں مزید فعال کرنے کے لیے ووٹنگ کی عمر 18 سے کم کر کے 16 سال کر دی جائے۔ اس کے برعکس، ہم تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر اس مبینہ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کر دی جاتی ہے، تو اس کا سیدھا اور بھیانک مطلب یہ ہوگا کہ ملک کی کل آبادی کا ایک بہت بڑا اور متحرک حصہ—یعنی 18 سے 24 سال کے لاکھوں طلباء اور نوجوان—جمہوریت کے اس بنیادی حق سے یکسر محروم ہو جائے گا۔
جو نوجوان 18 سال کی عمر میں اپنا شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے، ڈرائیونگ کر سکتا ہے، بینک اکاؤنٹ کھول سکتا ہے، کاروبار کر سکتا ہے اور ریاست کو ٹیکس دے سکتا ہے، وہ ملک کی قیادت چننے کے لیے اچانک "نابالغ” کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
شخصیت کے گرد گھومتی قانون سازی اور اس کے خطرات
سیاسی مبصرین اور باشعور عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اس ساری مشق کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ یہ تمام تر تگ و دو عمران خان اور ان کی پارٹی کے وسیع ووٹ بینک کو بے اثر کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
چونکہ پی ٹی آئی کی سب سے بڑی اور ناگزیر طاقت یہی نوجوان طبقہ ہے، اس لیے انہیں سیاسی بساط سے ہی باہر کرنے کا ‘شارٹ کٹ’ ڈھونڈا جا رہا ہے۔
لیکن تاریخ ہمیں ایک بہت تلخ سبق سکھاتی ہے: شخصیات کو راستے سے ہٹانے یا وقتی سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین بالآخر خود ان کے خالقوں کو ہی ڈس لیتے ہیں۔
آج اگر آپ اپنے ایک سیاسی حریف کے خوف سے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، تو یاد رکھیں کہ اقتدار کسی کی جاگیر نہیں۔ کل جب حالات بدلیں گے اور کوئی اور برسرِ اقتدار ہوگا، تو یہی کالا قانون آپ کے اپنے گلے کا طوق بھی بن سکتا ہے۔