28 ویں‌ آئینی ترمیم 25

28 ویں‌ آئینی ترمیم میں‌کیا کیا شامل؟

اسلام آباد کی سیاسی راہداریوں میں آج کل ایک پراسرار سی خاموشی اور سرگوشیوں کا ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔ جب بھی حکومتی ایوانوں میں کسی بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو ابتدا میں اس کی پرزور تردید کی جاتی ہے، اور پھر اچانک وہ ایک ‘قومی ضرورت’ بن کر عوام کے سامنے آ جاتی ہے۔آج کل یہی کچھ مبینہ 28 ویں‌ آئینی ترمیم کے حوالے سے ہو رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ نون (پی ایم ایل این) کی قیادت بظاہر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ صوبوں کے اختیارات سلب کیے جا رہے ہیں، لیکن  پسِ پردہ ہونے والی ملاقاتیں، قانونی مسودوں کی تیاری اور بیوروکریسی کی چہ مگوئیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے۔

آئیے اس معمے کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ 28ویں ترمیم دراصل ہے کیا، اور اس کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان طاقت کا توازن کیسے بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

28 ویں‌ آئینی ترمیم کا اصل ہدف: 18ویں ترمیم کی واپسی؟

 

آسان اور عام فہم الفاظ میں سمجھا جائے تو اس مبینہ 28 ویں‌ آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد 2010 میں منظور ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم کے کچھ اہم حصوں کو ریورس کرنا (الٹنا) ہے۔

18ویں ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک بہت بڑا سنگِ میل تھی، جس کے تحت مرکز (وفاق) نے صحت، تعلیم، اور ماحولیات جیسی کئی وزارتیں اور بے پناہ انتظامی اور مالیاتی اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں کا مالیاتی حصہ بھی بڑھا دیا گیا تھا۔

اب، اطلاعات اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، 28ویں ترمیم کا خاکہ اس بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے کہ مرکز کے پاس چند اہم اختیارات واپس لائے جائیں۔

مرکز کی دلیل اور پسِ پردہ محرکات

 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب ان اختیارات کو واپس لینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ اس کے پیچھے چند ٹھوس، مگر متنازع، معاشی اور انتظامی محرکات کارفرما ہیں:

  • وفاق کا مالیاتی بحران: مرکز کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی زیادہ تر ذمہ داری وفاق کی ہے، لیکن این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا 57 فیصد سے زائد حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے۔

    وفاق کے پاس جو رقم بچتی ہے، وہ قرضوں کی ادائیگی، دفاعی بجٹ اور حکومتی اخراجات کے لیے ناکافی پڑ جاتی ہے، جس کی وجہ سے وفاق مسلسل خسارے میں رہتا ہے اور آئی ایم ایف (IMF) کی کڑی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • صوبائی حکومتوں کی کارکردگی: ایک بیانیہ یہ بھی بنایا جا رہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو وسائل تو مل گئے، لیکن انہوں نے یہ اختیارات نچلی سطح (بلدیاتی اداروں) تک منتقل نہیں کیے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں وہ انقلابی تبدیلیاں نہیں آئیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔

  • قومی یکجہتی کا بیانیہ: وفاقیت کے حامی حلقوں کا ماننا ہے کہ نصاب اور دیگر اہم پالیسیوں کا ہر صوبے میں الگ الگ ہونا قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، اس لیے ایک ‘مرکزی کنٹرول’ کی ضرورت ہے۔

تردید کے پردے میں چھپی حقیقت

 

پیپلز پارٹی کے لیے 18ویں ترمیم ان کی سیاست کا ایک بہت بڑا کریڈٹ اور ‘تاج کا ہیرا’ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری یا آصف علی زرداری کے لیے کھلے عام اس ترمیم کو رول بیک کرنے کی حمایت کرنا اپنے ہی سیاسی بیانیے کی نفی ہوگی، خاص طور پر سندھ میں، جہاں پی پی پی کی طاقت کا مرکز ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی خود کو جمہوریت کی چیمپئن کے طور پر پیش کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں کیمرے کے سامنے اس کی تردید کر رہی ہیں۔ لیکن اقتدار کی مجبوریاں اور ریاستی اداروں (اسٹیبلشمنٹ) اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا دباؤ انہیں اس مسودے پر کام کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ قانونی ماہرین کی ٹیمیں اس ترمیم کے مسودے کو ایسے الفاظ میں ڈھال رہی ہیں کہ بظاہر یہ ‘صوبائی خودمختاری پر حملہ’ نہ لگے، لیکن عملی طور پر مالیاتی کٹوتیاں اور انتظامی اختیارات وفاق کے پاس چلے جائیں۔

28 ویں ترمیم کی سب سے بڑی متاثر جماعت پی ٹی آئی

 

اگر یہ ترمیم پاس ہوتی ہے تو ظاہر ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا ووٹ اس میں شامل ہوگا۔ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ ن لیگ مرکز اور پنجاب سنبھالے ہوئی ہے۔ یہ خود ترمیم کے پاس کرنے والے ہوں گے تو اپنے لئے ضرور کچھ نہ کچھ بچا پائیں گے۔

لیکن پی ٹی آئی جو پہلے ہی این ایف سی ایوارڈ اور دیگر معاملات پر وفاق سے ناراض ہے، وہ اس سے براہ راست متاثر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں