وقت کتنی خاموشی سے گزر جاتا ہے، لیکن جن کے حقوق داؤ پر لگے ہوں، ان کے لیے ایک ایک دن کسی صدی سے کم نہیں ہوتا۔ 2024 کے عام انتخابات کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے۔
ایک عام پاکستانی جس نے فروری 2024 میں لمبی قطاروں میں لگ کر اپنے مستقبل کے لیے ووٹ ڈالا تھا، آج بھی اس الجھن کا شکار ہے کہ کیا اس کی پرچی کی کوئی اہمیت تھی بھی یا نہیں؟
‘فافن’ (Fafen) کی حالیہ رپورٹ نے اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ ہمارےالیکشن ٹربیونلز انصاف کی فراہمی میں کس حد تک ناکام رہے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں اگر ہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں—جو کہ ان انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی سب سے زیادہ شکایات لے کر سامنے آئی تھی—تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی اب اپنا آئینی اور قانونی حق مکمل طور پر کھونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔
الیکشن ٹربیونلز کی انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار
جب 2024 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر نتائج کی تبدیلی کے الزامات سامنے آئے، تو پی ٹی آئی اور دیگر متاثرہ امیدواروں نے سڑکوں پر تصادم کے بجائے قانونی راستہ اپنانے کو ترجیح دی۔
ایک امید تھی کہ شاید اس بار الیکشن ٹربیونلز غیر معمولی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے چھینے گئے مینڈیٹ کو واپس دلائیں گے۔ مگر افسوس، ایسا نہ ہو سکا۔
فافن کی رپورٹ کے چند حقائق دل دہلا دینے والے ہیں:
وقت کا ضیاع: قانونی طور پر عذرداریوں کو نمٹانے کی حتمی تاریخ کو گزرے 18 ماہ ہو چکے ہیں، مگر آج بھی درجنوں اراکینِ اسمبلی ایسے نتائج کی بنیاد پر ایوانوں میں بیٹھے ہیں جن کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
تکنیکی بنیادوں پر اخراج: آدھی سے زیادہ انتخابی درخواستوں کو میرٹ یا شواہد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ محض "ضابطے کی خامیوں” (Procedural grounds) کا بہانہ بنا کر خارج کر دیا گیا ہے۔
شفافیت کا فقدان: خاص طور پر پنجاب کے ٹربیونلز نے معلومات تک رسائی کو انتہائی محدود کر رکھا ہے۔ اب تک نمٹائے گئے کیسز میں سے صرف 26 فیصد کے تحریری فیصلے عوام یا فریقین کے لیے دستیاب ہیں۔
پی ٹی آئی: قانونی جنگ میں تنہا اور محصور
اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان اس جماعت کا ہو رہا ہے جس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے سب سے زیادہ پٹیشنز دائر کیں۔ پی ٹی آئی، جسے اس دھاندلی کا سب سے بڑا نشانہ سمجھا جاتا ہے، اب رفتہ رفتہ قانونی محاذ پر اپنا حق کھو رہی ہے۔
جب ایک امیدوار کی درخواست شواہد سنے بغیر محض اس لیے خارج کر دی جائے کہ اس میں کوئی تکنیکی خامی تھی، تو یہ صرف اس امیدوار کی ہار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان لاکھوں ووٹرز کی آواز کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے جنہوں نے اس پر اعتماد کیا تھا۔
پنجاب، جو کہ ملکی سیاست کا مرکز ہے، وہاں فیصلوں کی نقول اور پٹیشن کی تفصیلات تک رسائی نہ دینا اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ سب کچھ شفاف انداز میں نہیں ہو رہا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور ووٹرز کے لیے یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے، کیونکہ جس نظام سے انہیں انصاف کی توقع تھی، وہی نظام اب خاموشی سے ان کے دروازے بند کر رہا ہے۔
آخری امید: سپریم کورٹ
یہ صرف چند نشستوں کی بات نہیں ہے، یہ اس عام آدمی کے اعتبار کا مسئلہ ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ اس وقت الیکشن ٹربیونلز کے 123 فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر ہیں، جن میں سے 105 پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
اگر اعلیٰ عدلیہ نے ان مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر نہ نمٹایا اور شفافیت کو یقینی نہ بنایا، تو پی ٹی آئی جو پہلے ہی کئی سیاسی اور قانونی بحرانوں کا شکار ہے، اپنا وہ مینڈیٹ ہمیشہ کے لیے کھو دے گی جس کی وہ دعویدار ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر، 2024 کے انتخابات کے یہ شکوک و شبہات پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک ایسا رستا ہوا زخم بن جائیں گے جس کا بھرنا شاید پھر کبھی ممکن نہ ہو۔ عوام کو اب بھی امید ہے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھے منصف اس حقیقت کو سمجھیں گے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔