خیبر پختونخوا حکومت 20

خیبر پختونخوا حکومت ذاتی تشہیر اور شاہانہ خرچ میں پنجاب حکومت کے نقش قدم پر

قوم کو آج بھی وہ دن یاد ہیں جب کنٹینر پر کھڑے ہو کر سادگی، کفایت شعاری اور وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی تقاریر عوام کے دلوں کو گرماتی تھیں۔ قوم کو یقین دلایا گیا تھا کہ جب "تبدیلی” آئے گی تو حکمران سائیکلوں پر دفتر جائیں گے، کابینہ مختصر ہوگی، پروٹوکول ختم ہوں گے اور عوام کا پیسہ ذاتی تشہیر پر نہیں بلکہ تعلیم اور صحت پر خرچ ہوگا۔

لیکن آج جب ہم خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال اور حکومتی فیصلوں پر نظر ڈالتے ہیں تو دل سے ایک ہی بے ساختہ سوال نکلتا ہے: کیا واقعی یہی وہ تبدیلی تھی جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا؟

کابینہ میں توسیع: ایک طرف تنقید، دوسری طرف تقلید

 

حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھیجی گئی 18 نئے کابینہ ارکان کی شمولیت کی سمری منظور کر لی ہے اور اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر اس لیے زیادہ چبھتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دن رات وفاقی حکومت اور خاص طور پر پنجاب میں مریم نواز کی بڑی کابینہ اور شاہانہ طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کرتی ہے۔ ان پر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور حکمران ’فوج ظفر موج‘ پر مشتمل کابینہ لے کر چل رہے ہیں۔

مگر دوسری طرف خیبر پختونخوا حکومت  خود اسی عمل میں مصروف ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صوبے کے وسائل محدود ہیں تو مزید 18 وزراء، مشیروں اور معاونین کی فوج بھرتی کرنے کا کیا جواز ہے؟ کیا اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا؟

مہنگے اخباری سپلیمنٹس اور کروڑوں کی تشہیر

 

بات صرف خیبر پختونخوا حکومت کی کابینہ کی توسیع تک محدود نہیں ہے۔ کچھ دن قبل معروف انگریزی اخبار ’ڈان‘ میں خیبرپختونخوا حکومت کے "گڈ گورننس پلان” پر ایک پورا خصوصی ایڈیشن (سپلیمنٹ) شائع ہوا۔

صحافت اور میڈیا کی دنیا سے وابستہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ قومی اخبارات میں ایسے رنگین اور کئی صفحات پر مشتمل سپلیمنٹس چھپوانا کتنا مہنگا سودا ہے۔

اس پر کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں، اور ظاہر ہے یہ پیسہ کسی کی ذاتی جیب یا پارٹی فنڈ سے نہیں بلکہ اسی غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا ہے جو آج آٹے، دال اور بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت مریم نواز سے بھی دو قدم آگے؟

 

اس صورتحال کی سب سے دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اکثر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تشہیری مہمات اور اخبارات میں فرنٹ پیج اشتہارات کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں ’ٹک ٹاک حکومت‘ کے طعنے دیتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ حکومتی اشتہارات پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرنا کسی بھی صورت جائز نہیں، لیکن کیا کے پی حکومت اپنی ان حرکات سے اس دوڑ میں مریم نواز کو بھی پیچھے نہیں چھوڑ رہی؟

جب آپ خود اسی راستے پر چل نکلیں جس کی کل تک آپ شدید مخالفت کرتے تھے، تو پھر عوام آپ کے سادگی کے دعووں پر کیسے یقین کرے گی؟ عمران خان نے تو ہمیشہ سادگی اور سرکاری اخراجات میں کٹوتی کا پیغام دیا تھا، لیکن آج ان کی اپنی جماعت کی حکومت اس پیغام کی دھجیاں اڑاتی نظر آ رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا دیا گیا شعور خود ہی گلے پڑنے لگا

 

عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی اپوزیشن والے دعوے کیسے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ چاہے وہ پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا حکومت ، حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام کی فلاح سے زیادہ اپنی تشہیر، سیاسی وفاداریاں نبھانے کے لیے کابینہ میں توسیع اور تصویریں چھپوانا شامل ہے۔

اگر گڈ گورننس واقعی موجود ہے تو اسے مہنگے اخباری سپلیمنٹس کے بجائے عام آدمی کی زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ کاش کوئی تو ایسا ہو جو صرف زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر سادگی اپنائے اور غریب کے خون پسینے کی کمائی کو اپنی سیاسی تشہیر کی بھینٹ نہ چڑھائے۔ تبدیلی اشتہارات میں نہیں، حالات بدلنے میں ہوتی ہے۔

یہ وہی عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے جو اب پی ٹی آئی کے گلے پڑ رہا ہے۔ اب پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اپنے بانی کے فلسفے پر ہی عمل کر لے تو فائدہ ہوگا، سیاسی بھی اور عوام کا بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں