اہم خبریںمتفرق

ہنزہ ویلی سیاحت کی مکمل گائیڈ

اسلام آباد سے گلگت کیلئے روزانہ پی آئی اے کی پروازیں چلتی ہیں جن کا دورانیہ تقریباً 50–60 منٹ ہوتا ہے۔ پروازیں صبح کے وقت چلائی جاتی ہیں تاکہ مسافر نانگا پربت اور قراقرم کی چوٹیاں فضاء سے دیکھ سکیں۔

ہنزہ ویلی گلگت‑بلتستان کے ضلع نگر اور گوجال کے درمیان واقع ایک بلند و بالا وادی ہے۔ یہ وادی سطح سمندر سے تقریباً 2٬438 میٹر بلند ہے اور چاروں طرف سے راکا پوشی، التر سر، لیڈی فنگر اور گولڈن پیک جیسے برف پوش پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔

صاف ہوا، نیلی جھیلیں اور دوستانہ لوگ اس علاقے کو ’’شنگریلا‘‘ کا سا تصور دیتے ہیں، تاہم یہاں کے لوگوں کی غیر معمولی طویل عمری کے بارے میں پھیلائی گئی کہانیاں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں؛ ماہرین کے مطابق ہنزہ کے باشندوں کی صحت کا راز پودوں پر مبنی غذا، خوب پیدل چلنا اور مضبوط سماجی رشتے ہیں۔

یہ گائیڈ ’’ہنزہ ویلی سیاحت‘‘ کے لئے مفصل رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ آپ اپنا سفر بہتر طریقے سے منصوبہ کر سکیں۔

ہنزہ ویلی سیاحت  کا بہترین وقت

 

ہنزہ ویلی سیاحت چاروں موسموں میں الگ الگ رنگ دکھاتی ہے۔ موسم اور منظر کے اعتبار سے اپنا سفر اس طرح منصوبہ کریں:

بہار اور چیری بلاسم (مارچ‑اپریل)

 

  • مارچ کے وسط سے اپریل کے وسط تک ہنزہ میں چیری بلاسم کا موسم ہوتا ہے جس کے دوران سردیوں کے خاتمے اور بہار کی شروعات کا جشن منایا جاتا ہے۔ اس وقت سفید، گلابی اور سرخ پھولوں سے بھرے درخت برف پوش پہاڑوں کے ساتھ دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔

    مورخین کے مطابق یہ درخت کئی صدیوں قبل جاپانی مسافروں نے یہاں لگائے تھے اور اب یہاں آڑو، سیب، اخروٹ، ناشپاتی اور بادام کے باغات بھی موجود ہیں۔ اس وقت میں ہنزہ ویلی سیاحت لطف دوبالا کردیتی ہے۔

گرمیوں کا موسم (مئی‑ستمبر)

 

  • مئی سے ستمبر تک ہنزہ ویلی میں گرمیوں کا موسم ہوتا ہے۔ دن میں درجۂ حرارت 15–30 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ اس عرصے میں عطاء آباد جھیل، پاسو کونز، حسینی معلق پل اور خنجراب پاس کے دوروں کا بہترین وقت ہے۔
  • یہ سیاحوں کا عروج کا موسم ہے، اس لئے ہوٹلوں کی بکنگ پہلے سے کروانا ضروری ہے۔
  • جولائی اور اگست میں دریا زیادہ بھرے ہوتے ہیں لہٰذا پل پار کرتے وقت احتیاط کریں۔

خزاں کا موسم (ستمبر‑نومبر)

  • ستمبر سے نومبر تک وادی سنہری پتوں اور نقرئی روشنیوں سے ڈھک جاتی ہے۔ درجۂ حرارت 5–20 ڈگری سیلسیس رہتا ہے اور سیاحوں کا رش کم ہو جاتا ہے۔
  • اس موسم میں فوٹو گرافی کے لئے شاندار مناظر ملتے ہیں اور مقامی لوگ سیب، خوبانی اور اخروٹ کی فصل کا جشن مناتے ہیں۔

سردی کا موسم (دسمبر‑فروری)

 

  • دسمبر سے فروری تک ہنزہ ویلی میں برف باری اور شدید ٹھنڈ ہوتی ہے؛ دن کا درجۂ حرارت منفی ڈگری تک گر جاتا ہے۔
  • اس دوران ہوٹلوں کے نرخ کم ہوتے ہیں اور سیاح نسبتاً کم آتے ہیں۔ تہہ دار گرم کپڑے، دستانے اور برفیلی جوتیاں ساتھ رکھیں۔
  • حالیہ برسوں میں عطاء آباد جھیل پر سات روزہ سرمائی میلہ منعقد کیا جانے لگا ہے جس میں برف پر ہاکی، فٹ بال، اسکیٹنگ اور مقامی کھیل ’’بصرہ‘‘، ’’پنڈوک‘‘ اور ’’بال بُت‘‘ شامل ہوتے ہیں، جبکہ شام کو مقامی رقص اور ’’مےفُنگ‘‘ کی روایتی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ 2023ء کی رپورٹ کے مطابق اس میلے میں گلگت‑بلتستان کے 10 اضلاع سے 300 سے زائد مرد و خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔

اہم سیاحتی مقامات

عطاء آباد جھیل

 

2010ء میں گوجال کے گاؤں عطاء آباد کے قریب بڑے لینڈ سلائیڈ نے ہنزہ دریا کو روک دیا جس کے نتیجے میں ایک طویل و عریض فیروزہ رنگ جھیل وجود میں آئی۔ یہ جھیل تقریباً 20–25 کلومیٹر لمبی اور 300 فٹ سے زیادہ گہری ہے۔ یہاں آپ کشتی رانی، جیٹ اسکی، کاکنگ، کیمپنگ اور فوٹو گرافی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ جھیل کریم آباد سے صرف 20 کلومیٹر اور گلگت شہر سے 125 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

بلتت قلعہ اور التیت قلعہ

 

کریم آباد کے بالائی حصے میں واقع بلتت  قلعہ کم و بیش سات سو سال قدیم ہے اور کبھی ہنزہ کے میر کی رہائش گاہ تھا۔ قلعہ مستطیل شکل کا ہے اور تین منزلوں پر مشتمل ہے؛ اس کا قدیم دفاعی برج آٹھویں صدی کا ہے جبکہ بعد میں مختلف ادوار میں وسعت دی گئی۔
مضبوط لکڑی اور پتھر کی تعمیر زلزلہ مزاحمت کے لیے موزوں ہے۔ حکومت پاکستان اور آغا خان ٹرسٹ نے اس کی بحالی کر کے اسے سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے، جس سے مقامی کاریگروں کے ہنر دوبارہ زندہ ہوئے۔

التیت قلعہ بلتت قلعہ سے بھی زیادہ قدیم (تقریباً ایک ہزار سال) سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی میر کی سابق رہائش گاہ تھی اور آج ’’رائل گارڈن‘‘ کے خوبصورت باغوں کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ چیری بلاسم کے موسم میں رائل گارڈن کے بادام اور خوبانی کے درخت ناقابلِ فراموش منظر پیش کرتے ہیں۔

پاسو کونز اور بوریتھ جھیل

 

ہنزہ کے بالائی علاقے میں واقع ’’پاسو کونز‘‘ یا ٹوپ پاپ ڈن (معنی ’’سورج کی روشنی میں چمکنے والا پہاڑ‘‘) مخروطی چوٹیوں کا دلکش سلسلہ ہے جس کی سب سے اونچی چوٹی کی بلندی 6٬106 میٹر ہے۔ مئی سے اکتوبر تک یہاں جانے کا بہترین وقت ہے جب درجۂ حرارت 5–20 ڈگری سیلسیس رہتا ہے۔ قریب ہی بوریتھ جھیل اور پاسو معلق پل واقع ہیں۔

حسینی معلق پل

حسینی پل ہنزہ دریا پر لکڑی کے تختوں اور رسیوں سے بنایا گیا 660 فٹ لمبا پل ہے جس میں 472 تختے لگے ہیں اور دریا سے تقریباً 50–100 فٹ اونچائی پر معلق ہے۔ یہ پل 1968ء میں مقامی لوگوں نے تیار کیا تھا اور آج اسے دنیا کے خطرناک ترین پلوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ مرمت سے اس کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ پل کے نزدیک زپ لائن، فوٹو گرافی اور مقامی دستکاریوں کی خریداری ممکن ہے۔

خنجراب پاس

پاکستان اور چین کے درمیان واقع خنجراب پاس سطح سمندر سے 4٬693 میٹر کی بلندی پر دنیا کا سب سے اونچا پختہ سرحدی گذرگاہ ہے۔ یہ مقام قراقرم شاہراہ کا بلند ترین نقطہ بھی ہے اور اسے 1982ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں کا موسم اکثر برفیلا رہتا ہے؛ 30 نومبر سے یکم مئی تک یہ راستہ بھاری گاڑیوں کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔

دیگر مقامات

  • گنش گاؤں: ہنزہ کا قدیم ترین بسا ہوا بستی، جہاں صدیوں پرانی مساجد اور کارواں سرائے موجود ہیں۔
  • ایگلز نیسٹ کے نزدیک مختصر ٹریک اور فوٹو گرافی کے لئے مِنی ہائکس۔
  • ہوپر ویلی (ہوپر ناگار): پڑوسی نگر وادی کی یہ جگہ بلتی زبان میں ’’گلیشیروں کی وادی‘‘ کہلاتی ہے اور چیری بلاسم کے دوران سنہری مناظر پیش کرتی ہے۔

ثقافت اور روایات

زبان اور مردم مزاج

ہنزہ میں بروشسکی، شینا اور واخی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مقامی لوگ مہمان نواز، امن پسند اور ثقافتی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ علاقے کی شہرت طویل عمری کے حوالے سے بھی ہے، لیکن طبی رپورٹس کے مطابق ان کی اچھی صحت کا راز زیادہ تر پھلوں، سبزیوں، خشک خوبانی، اناج اور کم چکنائی والی غذاؤں پر مبنی خوراک، پہاڑی علاقوں میں روزمرہ کی جسمانی سرگرمیوں اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔

ہنزہ پہنچنے کے طریقے

ہوائی سفر

اسلام آباد سے گلگت کیلئے روزانہ پی آئی اے کی پروازیں چلتی ہیں جن کا دورانیہ تقریباً 50–60 منٹ ہوتا ہے۔ پروازیں صبح کے وقت چلائی جاتی ہیں تاکہ مسافر نانگا پربت اور قراقرم کی چوٹیاں فضاء سے دیکھ سکیں۔ گلگت ایئرپورٹ کی بلندی اور موسم کی وجہ سے پروازیں اکثر تاخیر یا منسوخ ہو سکتی ہیں لہٰذا بکنگ پہلے سے کریں اور موسم کی معلومات لیں۔
گلگت سے کریم آباد کی سڑک تقریباً 100 کلومیٹر ہے جسے نجی ٹیکسی یا وین کے ذریعے 2–3 گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے؛ کرایہ 6٬000 سے 8٬000 روپے کے درمیان ہوتا ہے جبکہ شیئرڈ وین کا کرایہ 500 سے 1٬000 روپے فی فرد ہے۔

سڑک کے ذریعے

اسلام آباد سے ہنزہ کا فاصلہ تقریباً 600–700 کلومیٹر ہے۔ دو راستے عام ہیں:

  1. قراقرم شاہراہ (کے کے ایچ) روٹ: یہ روٹ سال بھر کھلا رہتا ہے اور اسلام آباد → ایبٹ آباد → مانسہرہ → بشام → داسو → چلاس → گلگت → ہنزہ پر مشتمل ہے۔ ذاتی گاڑی پر یہ سفر 12–16 گھنٹے جبکہ بس پر 14–18 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ یہ راستہ قراقرم پہاڑوں اور دریائے سندھ کے نظارے دکھاتا ہے۔
  2. ناران‑بابوسر پاس روٹ: یہ راستہ صرف مئی سے ستمبر تک کھلا رہتا ہے۔ اسلام آباد سے مانسہرہ، بالاکوٹ اور ناران کے بعد بابوسر ٹاپ سے گزر کر چلاس پہنچا جاتا ہے اور پھر گلگت اور ہنزہ کی طرف جایا جاتا ہے۔ یہ راستہ قدرے مختصر (12–14 گھنٹے) اور زیادہ خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ:

ہنزہ ویلی سیاحت ایک ایسا فیصلہ ہے جسے آپ کو اپنے ٹریول پلان کا حصہ ضرور بنانا چاہیے۔ ہنزہ ویلی قدرتی حسن، تاریخی ورثے، مہمان نواز لوگوں اور متنوع ثقافت کا حسین امتزاج ہے۔ بہار میں چیری بلاسم کے رنگ، گرمیوں میں جھیلوں اور پہاڑوں کی سیر، خزاں کے سنہری مناظر اور سرما کے آئس فیسٹیول اس وادی کو چاروں موسموں میں منفرد بنا دیتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button