اہم خبریںپاکستانجرم و سزا

صحافی خرم اقبال پر جھوٹا مقدمہ اور پیکا ایکٹ پر ایک بار پھر اٹھتے سوالات

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے ٹویٹ کیا کہ خرم اقبال کو لاپتا کرنے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے اور ایسا اقدام آمریتوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔

اسلام آباد کے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے اسلام آباد سے وابستہ صحافی خرم اقبال کو 13 فروری 2026ء کی دوپہر لاہور میں ان کی بہن کے گھر سے نامعلوم افراد نے اٹھا لیا۔

میڈیا رپورٹس کے  مطابق، ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ مسلح افراد سادہ لباس میں آئے اور انہیں لے گئے جس پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے وفاقی و صوبائی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور پریس تنظیموں نے اسے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا جاری رجحان قرار دیا۔

گرفتاری اور حکومتی موقف

 

چند گھنٹوں بعد قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے تصدیق کی کہ خرم اقبال ان کی تحویل میں تھے اور انہیں پوچھ گچھ کیلئے بلایا گیا تھا۔ تاہم گرفتاری کی وجہ یا الزامات فوری طور پر سامنے نہ آئے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بعدازاں ایک ٹویٹ میں واضح کیا کہ خرم اقبال لاپتا نہیں بلکہ پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت زیرِ حراست ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صحافی نے ایک “جعلی ویڈیو” بنائی اور پھیلائی، جو صحافتی اقدار کے خلاف ہے، اور کہا کہ ان کی سوشل میڈیا ٹائم لائن کو دیکھیں تو وہ کسی پروپیگنڈا سیل کے رکن نظر آتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ ایسی حرکت کو صحافت نہیں کہا جا سکتا۔

رہائی اور ردِّعمل

 

صحافی کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی صحافتی تنظیمیں اور سوشل میڈیا صارفین متحرک ہو گئے۔ اے ای مینڈ (AEMEND) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) نے اسے اغوا قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی اور پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افراد سادہ کپڑوں میں گھر میں داخل ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل خاموش رہے۔ PBA نے کسی بھی صحافی کی بغیر عدالتی کارروائی حراست کو آئین اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا اور فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا

دریں اثنا، سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے ٹویٹ کیا کہ خرم اقبال کو لاپتا کرنے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے اور ایسا اقدام آمریتوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے عظمیٰ بخاری، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔

خرم اقبال کو اسی روز رات کو رہا کر دیا گیا اور ذرائع نے بتایا کہ ان کے خلاف کوئی باضابطہ فردِ جرم سامنے نہیں آئی۔ رہائی کے باوجود واقعہ نے صحافیوں کی سلامتی اور اظہارِ رائے پر قانون کے بے جا استعمال پر بحث چھیڑ دی۔ صحافتی تنظیموں نے کہا کہ پیکا جیسے قوانین کا استعمال صحافیوں کو ڈرانے اور زبان بند کرنے کیلئے ہو رہا ہے۔

صحافتی آزادی اور قانونی سوالات

 

قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قیام کا مقصد سائبر جرائم سے نمٹنا ہے، تاہم اس کیس میں گرفتاری کے قانونی پہلو واضح نہیں ہوئے۔ صحافتی ماہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ویڈیو کے اصل ہونے یا نہ ہونے پر تنازع ہے تو صحافی کو بغیر وارنٹ اٹھا کر لے جانا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ جرنلزم پاکستان نے لکھا کہ اس واقعے نے یہ بحث زور پکڑ لی ہے کہ ڈیجیٹل رپورٹنگ اور جرم کے درمیان حد بندی کہاں ہو گی۔

پیکا کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ قانون سیاسی شخصیات کو تنقید سے بچانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے؛ اس کے تحت گرفتاریوں میں شفافیت اور تناسب کا فقدان ہے۔ صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں تفصیلی وضاحت دے اور کسی بھی صحافی کے خلاف کارروائی میں آئین میں ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق اور عدالتی طریقۂ کار کی پاسداری کرے۔

پنجاب حکومت پر تنقید

 

پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ خرم اقبال نے جعلی ویڈیو پھیلائی، اس لئے ان کے خلاف پیکا کے تحت کارروائی ہوئی۔ تاہم ابھی تک اس مبینہ ویڈیو کی نوعیت اور جعلی ہونے کے شواہد عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔ اسی وجہ سے اسے اختیارات کے غلط استعمال اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔

صحافی خرم اقبال کا رد عمل

 

صحافی خرم اقبال نے رہائی کے بعد اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انہیں دورانِ حراست بار بار کہا جاتا رہا انہوں نے ویڈیو کو ترمیم کر کے شیئر کیا ہے۔ تاہم انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔

یہ ویڈیو وزیر اعلیٰ مریم نواز کے میانوالی جلسے سے متعلق تھی جہاں ان کی زبان پھسل گئی اور وہ بولیں کہ ‘مریم نواز، نواز شریف کے طرح دعویٰ نہیں کرتی، کام کر کے دکھاتی ہے’۔ یہ جملہ سلپ آف ٹنگ تھا اور اسے شیئر کرنے کے جرم میں ایک صحافی کی بہن کے گھر کا چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔

یہی نہیں پنجاب حکومت بڑ ھ چڑھ کر سامنے آئے اور صحافی پر الزامات بھی عائد کئے، تاہم بعدازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

نتیجہ

 

خرم اقبال کی گرفتاری اور رہائی نے پاکستان میں صحافتی آزادی اور سائبر قوانین کے استعمال پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ واضح کرے کہ کس بنیاد پر صحافی کو گرفتار کیا گیا، اور ثبوت عوام کے سامنے لائے۔ دوسری طرف صحافیوں اور میڈیا اداروں کو بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور معلومات کی تصدیق کو یقینی بنانا ہوگا۔

دوسری جانب یہ سوال بھی باقی ہے کہ فیک نیوز پھیلانے کی مرتکب پنجاب حکومت خود پر کارروائی کرے گی یا تمام قوانین صرف تنقیدی آوازوں کو کچلنے کا نیا طریقہ ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button