
جنوری 2026 کے آخر میں عمران خان کی صحت، خصوصاً بینائی سے متعلق خدشات منظرِ عام پر آئے، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر بیرسٹر سلمان صفدر کو بطور امیکس کیوری یعنی عدالتی معاون مقرر کیا گیا تاکہ وہ اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کریں اور ان کی صحت اور قید کے حالات سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ
12 فروری 2026 کو جمع کرائی گئی سات صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے ملاقات کے دوران بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی معمول کے مطابق تھی، تاہم اس کے بعد دائیں آنکھ میں مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کی کمزوری شروع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل حکام کو متعدد بار شکایت کی، لیکن بروقت ماہر امراضِ چشم سے معائنہ نہیں کرایا گیا۔
بعد ازاں انہیں اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا جہاں انہیں “رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن” کی تشخیص ہوئی، جو آنکھ کی رگ میں خون کے لوتھڑے کی وجہ سے بینائی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رپورٹ میں درج ہے کہ تاخیر سے علاج کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد رہ گئی ہے، یعنی وہ تقریباً 85 فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس، واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی اور عدالتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے اپنے وکیل کو شدید بینائی کے نقصان سے آگاہ کیا۔
عدالت کا حکم اور فوری اقدامات
رپورٹ جمع ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے فوری طور پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تاکہ عمران خان کی آنکھ کا آزادانہ اور مکمل معائنہ کیا جا سکے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ 16 فروری تک طبی جانچ مکمل کی جائے اور عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی اجازت دی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو دیگر قیدیوں کی طرح مساوی طبی سہولت ملنی چاہیے، نہ کہ خصوصی رعایت یا امتیاز۔
پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں سنگین غفلت برتی گئی اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث ان کی بینائی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کے دور میں عمران خان کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور یہ معاملہ محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ علیمہ خان نے رپورٹ کو “دل دہلا دینے والی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کو بروقت معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور مناسب طبی سہولت تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالیں گئیں۔ علیمہ خان پریس کانفرنس میں عمران خان کی بینائی کے معاملے پر آبدیدہ بھی ہوگئیں۔
ان آنسوؤں کا حساب دینا ہوگا ہم کوئی جانور نہیں جو اس طرح کر رہے ہو pic.twitter.com/4yygRih8cz
— Saeed Afridi (@MPASaeedAfridi) February 12, 2026
پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ اگر عمران خان کی صحت کو مزید نقصان پہنچا تو ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عمران خان کی بینائی کا معاملہ اور حکومتی ردعمل
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی “تفصیلی” میڈیکل رپورٹ ان کے اہل خانہ کو فراہم کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی رپورٹ میں بیماری کی تشخیص واضح طور پر درج ہے اور ایک مختصر طبی طریقہ کار مکمل کیا گیا تھا جس کے دوران عمران خان کی حالت مستحکم رہی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جیل قوانین کے مطابق تمام قیدیوں کو مناسب طبی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور عمران خان کو بھی اسی اصول کے تحت علاج دیا گیا۔
سینیٹ میں بھی حکومتی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قانونی اور طبی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ذاتی معالج کے تحفظات
دوسری جانب عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا کہ فراہم کردہ رپورٹ میں بیماری کی تشخیص تو موجود ہے، لیکن مکمل علاج کے منصوبے اور آئندہ لائحہ عمل کی وضاحت نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق یہ ایک خصوصی نوعیت کی آنکھوں کی بیماری ہے جس کے لیے ریٹینا اسپیشلسٹ کی نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید تاخیر مستقل نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے قیدیوں کے بنیادی حقوق اور بروقت طبی سہولت کی فراہمی پر سوالات اٹھائے۔ کچھ حلقوں نے اسے ریاستی غفلت قرار دیا، جبکہ دیگر نے عدالت کی مداخلت کو مثبت پیش رفت کہا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس معاملے کو نمایاں کوریج دی، جس سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث آ گیا۔
موجودہ صورتحال
اس وقت معاملہ عدالتی نگرانی میں ہے اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی اور صحت کے معاملے کو انسانی حقوق اور سیاسی انتقام کے تناظر میں دیکھ رہی ہے، جبکہ حکومت جیل قوانین کے مطابق علاج کی فراہمی کا دعویٰ کر رہی ہے۔
عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد رہ جانے کی بات عدالتی رپورٹ میں درج ہے اور حتمی طبی تشخیص سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن قرار دی گئی ہے۔
آنے والے دنوں میں میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ اور عدالتی کارروائی اس معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گی، جبکہ سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔



