
جیفری ایپسٹین ایک امیر امریکی سرمایہ دار اور مجرم تھا جس پر کئی دہائیوں تک نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات رہے۔
اس نے 2008 میں فلوریڈا میں نابالغ کے ساتھ فحاشی کی ریاستی دفعات پر قصور قبول کیا اور 18 ماہ کی سزا میں 13 ماہ قید کاٹی۔ بعد ازاں 2019 میں اسے دوبارہ نیا مقدمہ، یعنی نابالغوں کی اسمگلنگ کے وفاقی الزام کے تحت گرفتار کیا گیا، لیکن اسی سال اگست میں Manhattan کی جیل میں اس کا خودکشی سے انتقال ہو گیا۔
اس کیس میں شریک دیگر افراد میں برطانوی سماجی شخصیت گِس لاین میکس ویل بھی شامل تھی جسے سیکسنجرنگ کے جرم میں پکڑا گیا۔
جیفری ایپسٹین کیس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھی کیونکہ اس کے گرد گھومنے والے بہت سے طاقتور افراد کے نام سامنے آئے۔ سنہ 2025 میں کانگریس نے “ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ” منظور کیا جس کے تحت اس سے متعلق تمام دستاویزات عام کرنے کی پابندی تھی۔
جنوری2026 میں امریکی محکمہ انصاف نے تقریباً 3 ملین صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں، لیکن بعد میں کچھ سیکشنز کو ہٹا دیا گیا۔ ان تازہ انکشافات نے کیس کی تفصیلات میں نئے پہلو کھول دیے ہیں۔
حالیہ دستاویزات کا جائزہ
تازہ جاری دستاویزات میں سے ایک (EFTA01660679) میں ایف بی آئی نے موصول ہونے والے اشاروں کا خلاصہ درج کیا ہے۔ ان میں سے ایک میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 35 سال قبل ایک 14-13 سالہ لڑکی کو ٹرمپ کے ساتھ سونے پر مجبور کیا گیا، جس دوران لڑکی نے ٹرمپ کو کاٹ دیا تھا، اور ٹرمپ نے ان پر غصے میں ہاتھ بھی اٹھایا۔
اس خاتون کے مطابق اس کا دوست بھی کئی برس ایپسٹین کے نیو یارک رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی پارٹیوں کا حصہ رہا، جہاں سابق صدر بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی آئے تھے۔ ایک اور موصول شدہ اشارے میں ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ 1995-96 میں ٹرمپ کے گالف کورس (رنچو پالسو وردیس) پر ایک مبینہ جنسی سمگلنگ رینگ کی گواہ تھی۔
اس میں گھس لائین میکس ویل کو مبینہ طور پر پارٹیز کا منظم کرنے والا (Madam) بتایا گیا اور کہا گیا کہ وہاں کچھ لڑکیاں لاپتہ ہو گئیں۔ اس نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کے سکیورٹی ہیڈ نے اس پر دھمکی دی کہ اگر اس نے کچھ بتایا تو وہ دیگر ملوث افراد کی طرح “پیچھلی بال میں کھاد بن جائے گی”۔
ان دستاویزات میں راکنگ ہالیوڈ شوبز شخصیت رابن لیچ کے ساتھ ایپسٹین کے تعلق کا بھی ذکر ہے اور مبینہ طور پر وہ ایک پارٹی کے دوران ایک لڑکی کا گلا گھونٹ کر قتل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے ثبوت کے بغیر ہیں۔ محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات میں شامل بہت سے الزامات قابل بھروسہ نہیں اور بے بنیاد ہیں۔
ایلون مسک
دوسرے دستاویزات میں ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کا نام بھی آیا ہے۔ سنہ 2012 میں جفری ایپسٹین نے مسک کو اپنے کیریبین جزیرے کا دورہ کرنے کے لیے جہاز بھیجنے کی پیشکش کی، جس پر مسک نے دو سیٹیں چاہی تھیں (اپنی اور اپنی سابقہ اہلیہ کی)۔ مسک نے اس ملاقات کی تاریخ بھی پوچھی کہ “آپ کے جزیرے کی سب سے شاندار پارٹی کب ہوگی؟”۔ ان ای میلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسک کو بارہا ایپسٹین کی دعوت دی گئی، لیکن وہ خود کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے جزیرے جانے کی پیشکشیں ٹھکرادیں۔ مسک نے سماجی رابطوں پر کہا کہ ان کے ایپسٹین کے ساتھ بہت کم مراسلت ہوئی اور وہ ہمیشہ ان دعوتوں سے منکر رہے۔
بل گیٹس
تازہ دستاویزات میں جیفری ایپسٹین کی ایک 2013 کی خود بھیجی گئی ای میل بھی شامل تھی جس میں سابق مائیکرو سافٹ سربراہ بل گیٹس کا ذکر تھا۔ ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ گیٹس نے اپنی بیوی کو چھپ کر کوئی دوا دینے کے لیے ایس ٹی ڈی کی دوائی طلب کی تھی۔ دوسری ای میل میں کہا گیا کہ گیٹس کے لیے “روس کی لڑکیوں” اور شادی شدہ عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات میں مدد کی گئی۔ ان دعووں کے بارے میں گیٹس کے ترجمان نے کہا کہ یہ “بالکل مضحکہ خیز اور جھوٹے” ہیں۔
دیگر شخصیات
دستاویزات میں بل کلنٹن کا تذکرہ پارٹیوں میں موجود شخص کے طور پر آیا، اور رچرڈ برینسن سے 2013 میں ہونے والی ای میلز بھی شامل تھیں۔
دیگر فائلوں میں ہاورڈ لٹنک (جو بعد میں امریکی سیکریٹری برائے تجارت بنے) کے 2012 کے جزیرے کے سفر کے منصوبے بھی سامنے آئے۔ یہ تمام انکشافات اب زیر بحث ہیں، اور تاحال کسی پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ حقائق کی مزید جانچ جاری ہے۔
ملالہ یوسفزئی کا ذکر
جیفری ایپسٹین کی جاری شدہ فائلز میں پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا نام بھی آیا ہے، لیکن کسی جنسی الزامات کے سلسلے میں نہیں۔ 2015 کی ایک ای میل میں ایپسٹین کے معاونین نے ملالہ اور ان کی فاؤنڈیشن کو مالی اور سیاسی سپورٹ دینے کا نظریہ زیرِ غور رکھا تھا۔ ان میں ایک ای میل میں بتایا گیا کہ ایپسٹین کی سوشل سیکریٹری لیسلی گراف نے ملالہ فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے کے خالی ہونے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
کہا جاتا ہے کہجیفری ایپسٹین اپنے اثر کے دائرے میں مقبول چہروں کو شامل کرنا چاہتا تھا۔ تاہم اس ضمن میں کوئی حتمی شواہد سامنے نہیں آئے اور ملالہ یا ان کے ادارے کی جانب سے ان باتوں کی تردید یا تصدیق بھی موصول نہیں ہوئی۔ ملالہ کو ایپسٹین یا ان کے گروہ سے کسی قسم کے رشتے کا کوئی حقیقی ثبوت نہیں ملا ہے۔
عوامی اور میڈیا کا ردعمل
حال ہی میں فائلوں کے اجراء کے بعد میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھا گیا ہے۔ محکمہ انصاف نے اپنی سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جاری کردہ فائلوں میں بعض “جھوٹے یا من گھڑت” دعوے شامل ہوسکتے ہیں اور “ان میں سے زیادہ تر الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں”۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے کو سیاسی سازش قرار دیا اور کہا کہ وہ ایپسٹین کی اسٹیٹ اور ان پر تنقید کرنے والے صحافی مائیکل وولف کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے X پر کہا کہ اس نے “ایپسٹین فائلز” کے جاری کرنے میں سب سے زیادہ زور لگایا اور وہ خوش ہے کہ معاملہ منظر عام پر آیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ایپسٹین کے قریب نہیں تھے اور متعدد بار ان کی دعوتیں ٹھکرا دی تھیں۔ مسک نے تاکید کی کہ اب اصل مسئلہ ان مجرموں کا تعاقب ہے جنہوں نے ایپسٹین کے ساتھ مل کر کمتر عمر لڑکیوں کا استحصال کیا۔
کئی قانون سازوں اور حقوقِ نسواں کے کارکنان نے اس میں شفافیت نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ کانگریس کے ڈیموکریٹ رابرٹ کھنہ نے کہا ہے کہ ابھی تک کم از کم آدھی فائلیں ہی جاری ہوئی ہیں اور وہ اس مسئلے پر سخت ایکشن چاہتے ہیں۔
خاتون وکیل جینیفر پلاٹکن نے کہا کہ انکشاف شدہ فائلز نے واضح کیا کہ حکومت نے متاثرین کے ساتھ بارہا غداری کی ہے۔ ان کے مطابق بہت ساری فائلیں اب بھی چھپائی گئی ہیں، اور “ہمیں صرف ایپسٹین کی بے حیائی کے بارے میں نہیں بلکہ اس پاور ہاؤس کو بچانے میں ملوث حکومتی شخصیات کے بارے میں حقائق جاننے کی ضرورت ہے”۔
مرکزی شخصیات اور الزامات کا خلاصہ
| شخصیت | الزام یا تعلق |
|---|---|
| ڈونلڈ ٹرمپ | متعدد جریدہ دستاویزات میں ان پر نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ہیں (ایسا قول ایک ایف بی آئی رپورٹ میں آیا)۔ ساتھ ہی الزام ہے کہ وہ ایپسٹین کے جنسی پارٹیز میں شریک رہے۔ ٹرمپ نے ہر الزام کی تردید کی ہے۔ |
| ایلون مسک | جاری فائلوں میں مسک نےجیفری ایپسٹین کو اپنے جزیرے پر آنے کے لیے دعوت دی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ دعوتیں مسترد کیں اور ان کے پاس ایپسٹین سے بہت کم رابطہ تھا۔ |
| بل گیٹس | ڈاکیومنٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ گیٹس نے اپنی بیوی کو چھپ کر دوا دینے کے لیے ایس ٹی ڈی کی دوا مانگی۔ بل گیٹس کے ترجمان نے ان دعوؤں کو سراسر جھوٹا قرار دیا۔ |
| بل کلنٹن | مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین کی پارٹیوں میں مہمان رہے (بعض گواہوں نے ان کو وہاں دیکھا)۔ ان کا موقف ہے کہ وہ بچیوں کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔ |
| ملالہ یوسفزئی | دستاویزات میں ان کے مالی تعاون کا ذکر آیا (ایپسٹین کے معاونین نے ان کے فاؤنڈیشن کو سپورٹ دینے کی بات کی)، مگر کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ملالہ نے اس سلسلے میں کوئی فعل کیا۔ انہوں نے بھی ان شمولیت کی تردید کی ہے۔ |
| پرنس اینڈریو | 2010 میں ان کا ایپسٹین کے ساتھ اجلاس اور بکنگھم پیلس میں کھانا شامل ہے۔ بعد میں اینڈریو نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد انہوں نے ایپسٹین سے تعلق ختم کر لیا تھا۔ |
| نریندر مودی | بھارتی وزیراعظم کا نام ایپسٹین فائلز میں آیا، جہاں بتایا گیا کہ جیفری ایپسٹین نے ان سے ملاقات کی کوشش کی۔ بھارتی حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ |
خلاصہ:
مذکورہ تمام الزامات تحقیقات اور ایف بی آئی کی رپورٹس میں دئے گئے ہیں، لیکن تاحال کسی بھی الزم کو قانونی طور پر ثابت نہیں کیا گیا۔ الزام لگانے والی معلومات اکثر ثبوت کے بغیر ہیں، اور ان کی صداقت پر تفتیش جاری ہے۔ مزید تحقیقات کے بعد ہی کسی کی قانونی کاروائی ممکن ہو سکے گی۔



