اہم خبریںپاکستانعوام

سرکاری اعداد و شمار پر کتنا بھروسہ کیا جائے؟

جب بجلی، گیس، آٹا اور علاج سب مہنگا ہو، مگر رپورٹ کہے کہ افراطِ زر قابو میں ہے، تو اعتماد خود بخود کمزور پڑ جاتا ہے۔

ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا ایک نازک پل ہوتا ہے، اور اس پل کے ستون اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ مہنگائی، غربت، بے روزگاری، شرحِ نمو، آبادی، تعلیم اور صحت — یہ سب وہ حقائق ہیں جن پر پالیسی بنتی ہے، فیصلے ہوتے ہیں اور قوم کا مستقبل ترتیب پاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار پر کتنا بھروسہ کیا جائے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں؟

اعداد و شمار: حقیقت یا بیانیہ؟

 

نظریاتی طور پر اعداد و شمار غیر جانبدار ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ بیانیہ بنانے کا آلہ بھی بن سکتے ہیں۔
ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے پیش کر کے:

  • ترقی کو کامیابی
  • ناکامی کو عارضی مسئلہ
  • اور بحران کو “کنٹرول میں” دکھایا جا سکتا ہے

پاکستان میں اکثر  اعداد و شمار اس انداز میں پیش کیے جاتے ہیں کہ وہ مسئلے کی شدت کم اور کامیابی کا تاثر زیادہ دیں۔

عوامی تجربہ بمقابلہ سرکاری دعویٰ

 

اگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:

  • مہنگائی کم ہو رہی ہے
  • روزگار بڑھ رہا ہے
  • غربت میں کمی آ رہی ہے

تو پھر عام شہری کی زندگی کیوں مشکل تر ہو رہی ہے؟ یہ وہ تضاد ہے جو عوام کے ذہن میں ایک فطری سوال پیدا کرتا ہے:

کیا مسئلہ ہماری سمجھ میں ہے، یا اعداد و شمار میں؟

جب بجلی، گیس، آٹا اور علاج سب مہنگا ہو، مگر رپورٹ کہے کہ افراطِ زر قابو میں ہے، تو اعتماد خود بخود کمزور پڑ جاتا ہے۔

ڈیٹا بنانے کا عمل: شفاف یا محدود؟

 

پاکستان میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل کئی مسائل کا شکار ہے:

  • پرانے طریقۂ کار
  • محدود نمونہ
  • دیہی اور غیر دستاویزی معیشت کا درست احاطہ نہ ہونا
  • سیاسی دباؤ

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اکثر زمینی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، بلکہ ایک جزوی تصویر پیش کرتے ہیں۔

سیاسی حکومتیں اور “پسندیدہ” اعداد و شمار

 

ہر حکومت چاہتی ہے کہ اس کے دور کے اعداد و شمار بہتر دکھائی دیں۔کبھی بنیاد سال بدل دیا جاتا ہے، کبھی اشاریوں کی تعریف، اور کبھی تقابل کے پیمانے۔ یوں ڈیٹا وہی رہتا ہے، مگر نتیجہ بدل جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی ملک کے مختلف پاکستان دکھا رہے ہوتے ہیں — دونوں کے پاس اپنے اپنے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔

ماہرین کیوں محتاط رہتے ہیں؟

 

معاشی ماہرین اور محققین عموماً سرکاری اعداد و شمار کو:

  • “حتمی سچ” نہیں
  • بلکہ “اشارہ” سمجھتے ہیں

وہ زمینی سرویز، آزاد تحقیقی رپورٹس اور عوامی رجحانات کو ساتھ ملا کر نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ یہ احتیاط اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری اعداد و شمار پر اندھا اعتماد خود ماہرین بھی نہیں کرتے۔

میڈیا اور سرکاری اعداد و شمار: سوال یا تکرار؟

 

پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر سرکار کے جاری کردہ  اعداد و شمار کو چیلنج کرنے کے بجائے دہرا دیتا ہے۔
پریس ریلیز خبر بن جاتی ہے، اور گراف سچ مان لیا جاتا ہے۔

اگر میڈیا یہ سوال نہ کرے کہ:

  • ڈیٹا کیسے اکٹھا ہوا؟
  • کن علاقوں کو شامل کیا گیا؟
  • کن طبقات کو نظرانداز کیا گیا؟

تو عوام کے لیے حقیقت اور دعوے میں فرق کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

حل کہاں ہے؟

 

سرکاری اعداد و شمار کو مکمل طور پر رد کرنا بھی دانشمندی نہیں، اور بلا سوال قبول کرنا بھی نہیں۔
درمیانی راستہ یہ ہے کہ:

  • ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل شفاف ہو
  • طریقۂ کار عوام کے سامنے رکھا جائے
  • آزاد اداروں کو تصدیق کی اجازت ہو
  • اور میڈیا و ماہرین کو سوال اٹھانے کی آزادی ہو

اعتماد زبردستی نہیں بنایا جاتا، وہ شفافیت سے پیدا ہوتا ہے۔

نتیجہ: شک نہیں، شعور ضروری ہے

 

سوال یہ نہیں کہ سرکاری اعداد و شمار جھوٹے ہیں یا سچے،
اصل سوال یہ ہے کہ:

کیا ہم انہیں سمجھنے، پرکھنے اور سوال کرنے کی تربیت رکھتے ہیں؟

جب تک عوام، میڈیا اور ماہرین مل کر سرکاری اعداد و شمار کو تنقیدی نظر سے نہیں دیکھیں گے، تب تک یہ اعداد حقیقت کم اور بیانیہ زیادہ رہیں گے۔

اعتماد کا راستہ بند نہیں،بس شرط یہ ہے کہ اعداد و شمار سچ دکھانے کے لیے ہوں، سچ چھپانے کے لیے نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button