
جب کسی ریاست میں احتساب کا لفظ بولا جاتا ہے تو سب سے پہلے انگلی سیاست دانوں، بیوروکریسی اور عدلیہ کی طرف اٹھتی ہے۔
مگر ایک طاقتور ستون ایسا بھی ہے جو خود احتساب کا مطالبہ تو سب سے زیادہ کرتا ہے، مگر جب بات خود پر آتی ہے تو سوال کرنے والوں کو خاموش کرا دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے: کیا میڈیا خود احتسابی کے لیے واقعی تیار ہے؟
میڈیا: نگران یا خود ایک طاقت؟
میڈیا کو جمہوریت کا نگہبان کہا جاتا ہے۔ وہ جو ہر روز احتساب کے کٹہرے سجاتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اسکینڈلز بے نقاب کرتا ہے اور طاقتور حلقوں کو جواب دہ بناتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خود طاقت بن چکا ہو، اس کا احتساب کون کرے؟
وقت کے ساتھ میڈیا محض اطلاع دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک رائے ساز صنعت بن چکا ہے۔ خبر اور بیانیہ، اطلاع اور تاثر، رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ — سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ ایسے میں میڈیا کا احتساب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
خود احتسابی: ادارہ جاتی کمزوری یا نیت کا بحران؟
اکثر کہا جاتا ہے کہ میڈیا کے لیے پیمرا، ایڈیٹوریل بورڈز اور ضابطہ اخلاق موجود ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے یا تو کمزور ہیں یا پھر طاقتور میڈیا ہاؤسز کے سامنے بے بس۔
اصل مسئلہ ضابطے کا نہیں، نیت اور مفاد کا ہے۔
جب خبر کاروبار بن جائے، ریٹنگ سچ سے زیادہ قیمتی ہو جائے، اور اشتہار ادارتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تو خود احتسابی ایک غیر ضروری بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
اینکر، ایڈیٹر اور ادارہ: ذمہ داری کہاں رکے؟
میڈیا کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ غلطی کبھی ادارہ قبول نہیں کرتا۔
اگر خبر غلط ہو تو کہا جاتا ہے:
- "اینکر کی ذاتی رائے تھی”
- "ایڈیٹنگ میں غلطی ہو گئی”
- "سورس نے گمراہ کیا”
لیکن سوال یہ ہے کہ:
کیا کسی خبر کے سماجی، نفسیاتی اور سیاسی اثرات کی ذمہ داری بھی کوئی لیتا ہے؟
میڈیا کے ذریعے بننے والی نفرت، کردار کشی اور جھوٹے بیانیے معاشرے کو خاموش زخم دیتے ہیں، مگر ان زخموں پر کبھی کوئی میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا نے آئینہ دکھا دیا
روایتی میڈیا شاید خود احتسابی سے بچتا رہا، مگر سوشل میڈیا نے ایک نیا منظرنامہ پیدا کر دیا ہے۔ اب خبر دینے والا بھی سوالوں کے گھیرے میں آتا ہے۔
جھوٹی خبر، ایڈیٹ شدہ ویڈیو اور یکطرفہ تجزیہ — سب کچھ عوام کی نظروں میں ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں میڈیا کا احتساب پہلی بار عوامی سطح پر ممکن ہوا، مگر اس کا ردِعمل اکثر دفاعی، جارحانہ یا طنزیہ رہا، اصلاحی نہیں۔
کیا میڈیا احتساب سے ڈرتا ہے؟
سچ یہ ہے کہ میڈیا احتساب سے نہیں، اپنی طاقت کھونے سے ڈرتا ہے۔
خود احتسابی کا مطلب ہے:
- غلطی ماننا
- معافی مانگنا
- اصلاح کرنا
- اور سب سے بڑھ کر، مفادات پر سمجھوتہ کرنا
یہ وہ قربانی ہے جس کے لیے میڈیا بطور ادارہ ابھی ذہنی طور پر تیار نظر نہیں آتا۔
حل کیا ہے؟
میڈیا کا احتساب کسی ایک ادارے یا قانون سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے:
- ادارتی شفافیت
- خبر اور رائے میں واضح فرق
- غلط خبر پر عوامی معذرت
- آزاد میڈیا محتسب
- اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت
سب سے بڑھ کر، میڈیا کو یہ ماننا ہوگا کہ وہ بھی غلط ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: احتساب کا مطالبہ کرنے والا خود بھی جواب دہ ہو
جب تک میڈیا خود کو مقدس گائے سمجھتا رہے گا، میڈیا کا احتساب ایک ادھورا خواب رہے گا۔
جمہوریت کی اصل روح یہ نہیں کہ ایک ادارہ سب کو کٹہرے میں کھڑا کرے، بلکہ یہ ہے کہ ہر طاقت خود کو بھی کٹہرے میں کھڑا ہونے کے لیے تیار رکھے۔
سوال اب بھی وہی ہے —کیا میڈیا خود احتسابی کے لیے تیار ہے؟ یا پھر وہ صرف دوسروں سے جواب مانگنے تک ہی محدود رہے گا؟



