
پاکستان میں جاری سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کو عموماً حکومتوں یا شخصیات سے جوڑا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی زوال کی اصل وجہ افراد نہیں بلکہ ادارہ جاتی ناکامیاں ہیں۔
ریاستیں نعروں سے نہیں، اداروں سے چلتی ہیں، اور جب ادارے کمزور ہو جائیں تو مضبوط ترین قیادت بھی نظام کو سہارا نہیں دے سکتی۔
ادارے اور ریاست کا تعلق
ادارہ محض ایک عمارت، ایک دفتر یا چند افسران کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ قوانین، ضابطوں، روایات، احتساب اور تسلسل کا نام ہے۔
جب ادارے افراد کے تابع ہو جائیں اور اصول شخصیات کے مطابق بدلنے لگیں تو ادارہ اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔ پاکستان میں یہی عمل دہائیوں سے جاری ہے۔
ادارہ جاتی ناکامیاں ؛ شخصیات بمقابلہ نظام
اداروں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں نظام کے بجائے شخصیات کو طاقت کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ ہر نیا سربراہ یا حکمران اپنے ساتھ نئی ترجیحات، نئی ٹیم اور نئی سمت لے کر آتا ہے، جبکہ پچھلے فیصلوں اور پالیسیوں کو یا تو نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا دانستہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
اس تسلسل کے فقدان نے اداروں کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے جہاں ہر فرد اپنی مرضی کا نظام آزمانا چاہتا ہے۔
سیاسی مداخلت
سیاسی مداخلت نے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید کھوکھلا کیا ہے۔ بھرتیوں، ترقیوں اور تبادلوں میں میرٹ کے بجائے وفاداری کو معیار بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اہل افراد سسٹم سے باہر اور نالائق افراد فیصلہ سازی کے مراکز میں پہنچ گئے۔ جب ادارے کارکردگی کے بجائے اطاعت مانگنے لگیں تو ان سے بہتری کی توقع عبث ہو جاتی ہے۔
احتساب کا بحران
احتساب کا نظام بھی ادارہ جاتی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے۔ پاکستان میں احتساب نہ تو یکساں ہے اور نہ ہی غیر جانبدار۔ کمزور کے لیے قانون سخت اور طاقتور کے لیے لچکدار نظر آتا ہے۔ اداروں کے اندر جب جوابدہی کا خوف ختم ہو جائے تو بدعنوانی، نااہلی اور اختیارات کا ناجائز استعمال معمول بن جاتا ہے۔ اس ماحول میں دیانت داری ایک استثنا بن جاتی ہے، اصول نہیں۔
قانون اور عمل درآمد
قانون سازی اور عمل درآمد کے درمیان بڑھتا ہوا خلا بھی اداروں کی ناکامی کا سبب ہے۔ قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عمل کم ہی ہوتا ہے۔ عدالتوں میں برسوں چلنے والے مقدمات، سرکاری دفاتر میں فائلوں کی گردش اور عام شہری کی مسلسل تذلیل اس نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں قانون طاقتور کے لیے سہولت اور کمزور کے لیے سزا بن چکا ہے۔
وسائل اور ترجیحات
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اداروں کو مزید مفلوج کر دیا ہے۔ تعلیم، صحت، تحقیق اور مقامی حکومتیں مسلسل وسائل کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ غیر پیداواری شعبے قومی بجٹ کا بڑا حصہ ہضم کر جاتے ہیں۔
جب ریاستی ترجیحات عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی فائدے پر مبنی ہوں تو ادارے ترقی کے بجائے بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔
عوامی اعتماد کی ٹوٹ پھوٹ
ادارہ جاتی ناکامی کا سب سے خطرناک نتیجہ عوامی اعتماد کا خاتمہ ہے۔ جب شہری بار بار دیکھتے ہیں کہ ادارے انصاف فراہم نہیں کر پا رہے، خدمات دینے میں ناکام ہیں اور طاقتور کے سامنے بے بس ہیں، تو وہ ریاست سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی جگہ طاقت اور نظام کی جگہ انتشار لے لیتا ہے۔
کیا ناکامی مقدر ہے؟
یہ کہنا کہ اداروں کی ناکامی پاکستان کا مقدر ہے، ایک آسان مگر غلط مؤقف ہے۔ دنیا کی وہ ریاستیں جو آج مضبوط سمجھی جاتی ہیں، کبھی شدید بحرانوں سے گزریں، مگر انہوں نے افراد کے بجائے اداروں کو مضبوط کیا، قانون کو بالادست بنایا اور احتساب کو بلاامتیاز نافذ کیا۔
پاکستان میں مسئلہ صلاحیت یا وسائل کی کمی نہیں، بلکہ سنجیدہ اصلاحات کے فقدان کا ہے جو ادارہ جاتی ناکامیاں اپنے ساتھ لاتا ہے۔
اصلاح کی سمت
جب تک اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں کیا جاتا، میرٹ کو حقیقی معنوں میں نافذ نہیں کیا جاتا اور قانون سب کے لیے برابر نہیں بنتا، تب تک ہر نئی حکومت ایک نئے نعرے کے ساتھ آئے گی اور پرانا بحران نئی شکل اختیار کر لے گا۔
نتیجہ
پاکستان کا اصل سوال یہ نہیں کہ کون اقتدار میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے کب مضبوط ہوں گے؟ کیونکہ جب ادارے بچیں گے، تبھی ریاست بچے گی — ورنہ افراد بدلتے رہیں گے اور ناکامیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔



