پاکستانسیاست

پسِ پردہ سیاست ؛ پاکستانی سیاست کے پوشیدہ فیصلے

ریاستی طاقت، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ، عدالتی کردار اور بین الاقوامی دباؤ — یہ سب پسِ پردہ سیاست کے اہم ستون رہے ہیں۔

 

پاکستان کی سیاست کو اگر صرف جلسوں، پارلیمنٹ کی تقاریر اور ٹی وی ٹاک شوز کی بنیاد پر سمجھا جائے تو یہ ایک ادھوری تصویر ہوگی۔ اصل سیاست اکثر اس اسٹیج سے کہیں دور، بند کمروں، غیر اعلانیہ ملاقاتوں اور خاموش معاہدوں میں جنم لیتی ہے۔

یہی وہ دنیا ہے جسے پسِ پردہ سیاست کہا جاتا ہے — جہاں فیصلے عوام نہیں کرتے، بلکہ عوام کے نام پر کیے جاتے ہیں۔

پسِ پردہ سیاست کیا ہے؟

 

پسِ پردہ سیاست سے مراد وہ سیاسی عمل ہے جو:

  • عوامی فورمز سے دور ہو
  • آئینی اداروں کے علاوہ دیگر طاقتور حلقوں میں طے پائے
  • میڈیا اور عوامی بحث سے چھپا رہے

یہ وہ فیصلے ہوتے ہیں جن کا اعلان تو بعد میں کیا جاتا ہے، مگر سمت پہلے ہی متعین ہو چکی ہوتی ہے۔

پاکستان میں پسِ پردہ سیاست کی جڑیں

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ ابتدا ہی سے عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔

  • بار بار مارشل لاء
  • کمزور جمہوری ادارے
  • طاقتور غیر منتخب عناصر

ان عوامل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں اصل اختیار اور ظاہری اختیار الگ الگ نظر آنے لگے۔

ریاستی طاقت، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ، عدالتی کردار اور بین الاقوامی دباؤ — یہ سب پسِ پردہ سیاست کے اہم ستون رہے ہیں۔

بڑے فیصلے، خاموش راستے

1. حکومتوں کی تشکیل اور تحلیل

اکثر دیکھا گیا ہے کہ:

  • الیکشن سے پہلے اتحاد بن جاتے ہیں
  • نتائج کے بعد وفاداریاں بدلتی ہیں
  • عدم اعتماد کی تحریکیں اچانک متحرک ہو جاتی ہیں

یہ سب کچھ محض پارلیمانی عددی کھیل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے خاموش یقین دہانیاں اور طاقت کا توازن کارفرما ہوتا ہے۔

2. پالیسی فیصلے اور عالمی دباؤ

 

آئی ایم ایف معاہدے، خارجہ پالیسی کے یو ٹرن، یا سیکیورٹی سے متعلق فیصلے —یہ معاملات عوامی مشاورت سے کم اور عالمی و داخلی طاقتوں کے دباؤ سے زیادہ طے ہوتے ہیں۔

اکثر اوقات حکومتیں وہ فیصلے بھی کرتی ہیں جن کی مخالفت وہ خود ماضی میں کر چکی ہوتی ہیں۔

3. سیاسی بیانیہ اور میڈیا مینجمنٹ

 

پسِ پردہ سیاست صرف فیصلوں تک محدود نہیں، بلکہ:

  • کون سا بیانیہ چلے گا
  • کون سی آواز دبے گی
  • کون سا اسکینڈل ابھرے گا

یہ سب بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے۔ میڈیا کبھی لاشعوری اور کبھی شعوری طور پر اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے۔

سیاستدان: فیصلے کرنے والے یا مہرے؟

 

یہ سوال اہم ہے کہ:کیا پاکستانی سیاستدان خود فیصلے کرتے ہیں یا فیصلوں کا اعلان؟

حقیقت شاید دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
کچھ سیاستدان طاقت کے مراکز کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہیں، کچھ مزاحمت کرتے ہیں، اور کچھ وقت کے ساتھ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

پسِ پردہ سیاست کے اثرات عوام پر

 

  • ووٹ کی بے توقیری
  • جمہوری عمل پر عدم اعتماد
  • سیاسی مایوسی اور لاتعلقی
  • ایک ہی چہرے، ایک ہی پالیسیاں، مختلف نعرے

جب عوام کو بار بار یہ احساس ہو کہ اصل فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں، تو جمہوریت محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔

کیا پسِ پردہ سیاست ناگزیر ہے؟

 

دنیا کی ہر سیاست میں کچھ نہ کچھ پسِ پردہ عمل ہوتا ہے، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب:

  • شفافیت ختم ہو جائے
  • ادارے کمزور ہو جائیں
  • عوام کو مسلسل لاعلم رکھا جائے

پس پردہ سیاست کی زیادتی، جمہوریت کی موت بن جاتی ہے۔

عوام کا کردار: تماشائی یا نگران؟

 

پسِ پردہ سیاست کو کمزور کرنے کا واحد راستہ:

  • باشعور عوام
  • آزاد صحافت
  • مضبوط پارلیمان
  • آئین کی بالادستی

جب سوال پوچھے جائیں، تاریخ کو یاد رکھا جائے، اور ہر بیانیے کو سچ نہ مانا جائے — تب ہی پردہ آہستہ آہستہ اٹھتا ہے۔

نتیجہ: پردہ ہٹانا ضروری ہے

 

پاکستانی سیاست کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فیصلے ہوتے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ وہ فیصلے عوام سے چھپا کر ہوتے ہیں۔

پسِ پردہ سیاست ایک حقیقت ہے، مگر اسے معمول مان لینا سب سے بڑا نقصان ہے۔جب تک فیصلے عوام کے سامنے نہیں آئیں گے،جمہوریت ایک خواب ہی رہے گی۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button