
سترہ برس قبل، 27 دسمبر کو چیئرمین پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے قتل نے تشدد کی ایسی لہر کو جنم دیا جس نے کراچی کی صورت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
اگرچہ بہت سے لوگ اس رہنما کی شہادت کو یاد رکھتے ہیں، مگر اس کے بعد کراچی کی سڑکوں پر جو قیامت ٹوٹی، اس کی ہولناک کہانیاں بڑی حد تک ڈیجیٹل ریکارڈز میں دب گئیں یا بھلا دی گئیں۔
اس دور کے عینی شاہدین اور اعداد و شمار ایک ایسے شہر کی تصویر پیش کرتے ہیں جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھوڑ دیا تھا اور جو تین خوفناک دنوں تک لٹیروں اور آتش زنوں کے رحم و کرم پر رہا۔
بے نظیر کی شہادت اور سلگتا کراچی:
اگرچہ کچھ لوگ ان فسادات کا موازنہ 12 مئی کے واقعات سے کرتے ہیں، مگر زندہ بچ جانے والوں کے مطابق اگر 12 مئی ایک “ٹریلر” تھا تو 27 دسمبر پوری کی پوری “فل مووی” تھا۔
جیسے ہی بے نظیر کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، شہر کا بنیادی ڈھانچہ منظم انداز میں تباہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق تباہی کا دائرہ کچھ یوں تھا:
- 968 گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔
- 300 بینک اور 807 سرکاری دفاتر جلا کر خاک کر دیے گئے۔
- 1,700 دکانیں لوٹ کر جلائی گئیں۔
- 10 ٹرینیں اور 45 ریلوے اسٹیشن تباہ ہوئے، جس سے ریلوے کے شعبے کو 2 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
- 100 سے زائد اسکولز، 75 پیٹرول پمپس اور 50 فیکٹریاں ہجوم کا نشانہ بنیں۔
ریاست کے بغیر ایک شہر
تین دن تک “ریاست کی رِٹ” کہیں نظر نہ آئی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اپنی حفاظت کے لیے تھانوں کے اندر رہی اور سیکیورٹی فورسز سرحدوں پر تعینات تھیں، جبکہ مجرم اور موقع پرست لٹیرے سڑکوں کے مالک بن گئے۔نجی نیوز چینل کے رپورٹر فیض اللہ خان نے شہر کو شدید ٹریفک جام اور فیکٹریوں میں اجتماعی جنسی زیادتیوں کی خوفناک افواہوں سے مفلوج بتایا۔
افراتفری ہائی ویز تک پھیل گئی۔ معروف فوٹوگرافر زاہد حسین بے نظیر بھٹو کی تدفین کے لیے گڑھی خدا بخش پہنچنے کی جدوجہد بیان کرتے ہیں۔
اُن کے مطابق پیٹرول پمپس خوف کے مارے بند تھے اور ڈرائیور زندہ جلائے جانے کے خدشے سے سفر سے انکار کر رہے تھے۔ ایک موقع پر انہیں خود کو اسسٹنٹ کمشنر ظاہر کرنا پڑا تاکہ ایک خوفزدہ پمپ مالک سے محض 10 لیٹر ایندھن حاصل کر سکیں—وہ مالک اس ڈر سے کانپ رہا تھا کہ اگر پمپ چلتا ہوا دکھائی دیا تو اسے جلا دیا جائے گا۔
سیاسی نتائج
فسادات کے بعد سیاسی محاذ پر بھی ہنگامہ برپا ہوا۔ سندھ حکومت نے تھرپارکر اور خیرپور جیسے علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کیں۔ پی پی پی قیادت نے احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایک طرف وہ اپنی قائد سے محروم ہو چکے ہیں اور دوسری
طرف ان کے کارکنوں کو ناحق آتش زنی کے الزام میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بالآخر حکومت نے کہا کہ جہاں شواہد نہ ملے، وہاں ایف آئی آرز سے نام نکال دیے جائیں گے۔
آج اگرچہ 27 دسمبر کے جسمانی زخم مدھم پڑ چکے ہیں، مگر جو لوگ اُس وقت سڑکوں پر تھے، ان کے لیے یہ صدمہ آج بھی ایک انمٹ نشان ہے۔ ایک زندہ بچ جانے والے کے مطابق، جو شہر سب کو روزی دیتا ہے، وہی شہر اُن تین دنوں میں ایسا لگا جیسے سب اسے تباہ کرنے پر تُلے ہوں۔
بے نظیر کی شہادت کے ساتھ وہ شہادتیں جو بھلا دی گئیں:
27 دسمبر کا انتشار ایک عظیم بند کے ٹوٹنے جیسا تھا۔ بے ظیر کی شہادت اس شگاف کی مانند تھا، اور اس کے بعد تشدد کا سیلاب صرف سڑکیں ہی نہیں بہا لے گیا بلکہ بے گناہ راہگیروں اور مجرموں—سب کو اپنی لپیٹ میں لے کر—منظرنامہ ایسا بدل گیا کہ پانی اترنے کے بعد بھی سب کچھ اجنبی محسوس ہوا۔



