
آج کا انسان دن کا آغاز بھی خبروں سے کرتا ہے اور اختتام بھی خبروں پر کرتا ہے۔ موبائل اسکرین، ٹی وی، سوشل میڈیا — ہر طرف خبریں ہی خبریں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ خبریں صرف معلومات نہیں دیتیں بلکہ ہمارے دماغ، جذبات اور فیصلوں سے کھیلتی بھی ہیں؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں خبروں کی نفسیات (Psychology of News) سامنے آتی ہے۔
خبروں کی نفسیات کیا ہے؟
خبروں کی نفسیات اس بات کا مطالعہ ہے کہ خبریں انسانی دماغ پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں، ہماری سوچ کیسے بدلتی ہیں، خوف، غصہ یا بے بسی جیسے جذبات کیوں پیدا کرتی ہیں، اور ہم غیر محسوس طریقے سے کن رویّوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں:
خبریں صرف بتاتی نہیں، بلکہ تشکیل دیتی بھی ہیں۔
خبریں دماغ سے کیسے کھیلتی ہیں؟
1. خوف کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے
انسانی دماغ فطری طور پر منفی اور خطرناک معلومات پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ اسی لیے اکثر خبریں سنسنی خیز، خوفناک یا ہنگامی انداز میں پیش کی جاتی ہیں:
- بریکنگ نیوز
- خطرہ!
- ہنگامہ!
یہ انداز دماغ کے امیگڈالا (خوف کے مرکز) کو متحرک کرتا ہے، جس سے ہم خبریں چھوڑ نہیں پاتے۔
2. بار بار دہرانا — حقیقت کا وہم
ایک ہی خبر کو مختلف انداز میں بار بار دکھایا جاتا ہے۔
دماغ بار بار سنی گئی بات کو زیادہ سچ ماننے لگتا ہے، چاہے وہ ادھوری یا جانبدار ہی کیوں نہ ہو۔
یہی تکنیک عوامی رائے بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔
3. منفی خبریں زیادہ یاد رہتی ہیں
خبروں کی نفسیات بتاتی ہے کہ دماغ مثبت خبروں کے مقابلے میں منفی خبروں کو زیادہ دیر تک یاد رکھتا ہے۔
نتیجہ؟
دن بھر میں ایک اچھی خبر ہو اور دس بری — تو دماغ صرف بری خبروں پر اٹک جاتا ہے۔
4. “ہم بمقابلہ وہ” کا بیانیہ
خبریں اکثر معاملات کو دو حصوں میں بانٹ دیتی ہیں:
- ہم درست ہیں
- وہ غلط ہیں
یہ تقسیم دماغ میں قطبیت (Polarization) پیدا کرتی ہے، جس سے برداشت، مکالمہ اور غیر جانبدار سوچ کمزور ہو جاتی ہے۔
5. جذباتی زبان کا استعمال
الفاظ جیسے:
“شرمناک”، “تباہ کن”، “ہولناک”
یہ الفاظ معلومات سے زیادہ جذبات پیدا کرتے ہیں، جس سے خبر ذہن میں گہرے اثر چھوڑتی ہے۔
خبروں کے نفسیاتی اثرات
ذہنی صحت پر اثر
- اینگزائٹی
- مستقل بے چینی
- خوف کا احساس
- سائلنٹ برن آؤٹ
دنیا کو خطرناک سمجھنے کا رجحان
زیادہ خبریں دیکھنے والا فرد دنیا کو حقیقت سے زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ اس کی ذاتی زندگی میں کچھ بھی برا نہیں ہو رہا ہوتا۔
فیصلہ سازی پر اثر
خبریں ہمارے سیاسی، سماجی اور ذاتی فیصلوں کو بھی متاثر کرتی ہیں — اکثر غیر محسوس انداز میں۔
سوشل میڈیا اور خبروں کی نفسیات
سوشل میڈیا نے خبروں کو مزید طاقتور بنا دیا ہے:
- الگورتھم وہی خبریں دکھاتے ہیں جو آپ کو جذباتی ردِعمل پر مجبور کریں
- غصہ، خوف اور نفرت زیادہ شیئر ہوتی ہے
- غلط خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں
یوں دماغ ایک جذباتی لوپ میں پھنس جاتا ہے۔
خبروں کا زیادہ استعمال کیوں نقصان دہ ہے؟
- دماغ کو مسلسل الرٹ موڈ میں رکھتا ہے
- سکون اور توجہ ختم ہو جاتی ہے
- حال پر جینے کے بجائے مستقبل کے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے
اسی کو ماہرین News Fatigue یا Information Overload کہتے ہیں۔
خبروں سے ذہنی حفاظت کیسے کریں؟
1. خبروں کا وقت مقرر کریں
دن میں مخصوص وقت پر ہی خبریں دیکھیں۔
2. معتبر ذرائع کا انتخاب کریں
ہر بریکنگ نیوز پر یقین نہ کریں۔
3. جذباتی ردعمل کو پہچانیں
اگر کوئی خبر آپ کو حد سے زیادہ غصہ یا خوف دے رہی ہے، تو رک کر سوچیں۔
4. مثبت مواد بھی شامل کریں
دماغ کو صرف منفی خوراک نہ دیں۔
5. خود سے سوال کریں
“کیا یہ خبر میرے کنٹرول میں ہے؟”
اگر نہیں — تو خود کو اذیت دینے کی ضرورت نہیں۔
ذمہ دار ناظر بننا کیوں ضروری ہے؟
خبریں تبھی دماغ سے کھیلتی ہیں جب ہم بغیر شعور کے انہیں قبول کرتے ہیں۔
جب ہم سوال کرنا، تجزیہ کرنا اور حدود مقرر کرنا سیکھ لیتے ہیں، تو خبریں ہمیں کنٹرول نہیں کرتیں۔
خلاصہ
خبروں کی نفسیات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ خبریں صرف معلومات نہیں بلکہ ایک طاقتور نفسیاتی ہتھیار بھی ہو سکتی ہیں۔
یہ ہمارے خوف، امید، غصے اور سوچ کو شکل دیتی ہیں۔
یاد رکھیں:
خبر جاننا ضروری ہے،
مگر خبر میں گم ہو جانا نہیں۔
اگر ہم خبروں کو شعور کے ساتھ دیکھیں، تو ہم ذہنی سکون، بہتر فیصلوں اور ایک متوازن زندگی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔



