اہم خبریںکھیل

پاکستان کی انڈر 19 ایشیا کپ میں فتح، سرفراز احمد کی مینٹور شپ جادو دکھا گئی

سرفراز احمدنے مینٹورشپ اور رہنمائی سے  یہ  ثابت کر دیا کہ "سرفراز دھوکہ نہیں دے گا۔"

پاکستان نے انڈر-19 ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو 191 رنز سے شاندار شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔

اس بڑے مقابلے میں پاکستان نے شاندار بلے بازی اور بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا، جس سے ٹیم نے فائنل میں بھارت کو صرف 156 رنز پر آؤٹ کیا۔

لیکن اس فتح کے پیچھے ایک ایسا نام ہے جس کی قیادت، تجربہ اور مشورے نے اس نوجوان ٹیم کو تاریخی کامیابی تک پہنچایا — سابق کپتان اور اب پاکستان انڈر-19 ٹیم کے مینٹور، سرفراز احمد۔

 

سرفراز احمد ؛ فیلڈ پر قائد اور مینٹورشپ میں استاد

 

سرفراز احمد کا سفر پاکستان کرکٹ میں خاص مقام رکھتا ہے۔ ایک بہترین وکٹ کیپر-بیٹسمین اور کپتان کے طور پر انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ٹیم کو بڑے فائنل میں فتح دلائی۔ آج وہ اپنے عروج کے بعد ایک موثر مینٹور اور منیجر کے طور پر نوجوانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

دبئی میں فائنل کے موقع پر، سرفراز صرف ایک سپورٹ سٹاف کے رکن نہیں تھے؛ اپنے تجربات، حکمت عملی اور ذہنی مضبوطی کے مشوروں کے ساتھ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے موقع پر کھیلے جانے کے لئے تیار کیا۔

 

فائنل میں فتح کا راز: رہنمائی، حکمت عملی اور ٹیم ورک

 

سرفراز نے کھلاڑیوں کو نفسیاتی مضبوطی، حکمت عملی اور ڈسپلن جیسی باتوں پر زور دیا، جس کا اثر فائنل میں واضح طور پر دکھائی دیا۔ انہوں نے خاص طور پر سمیر منہاس کی شاندار 172 رنز کی اننگز کو سراہا — جو کہ اس سطح کے فائنل میں ایک بہت بڑی اننگ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کا مقصد واضح تھا: محنت، ایک ہی سمت میں مشترکہ مقصد اور مضبوط تیاری۔ انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ شخصی کارکردگی سے زیادہ مجموعی کوشش نے پاکستان کو یہ ٹائٹل دلایا۔

 

سرفراز احمد کی قیادت کا تاریخی پس منظر

 

سرفراز احمد نے ماضی میں کئی بڑے مقابلوں میں پاکستان کو جیت دلائی — چاہے وہ 2006 میں انڈر-19 ورلڈ کپ ہو یا 2017 میں چیمپیئنز ٹرافی۔

اب انہوں نے بطور مینٹور بھی ایک بار پھر بھارت کے خلاف فائنل میں فتح دلوائی ہے، جس سے ان کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے کہ وہ ہر دور میں نوجوانوں کو مثبت طریقے سے متاثر کر سکتے ہیں۔

انہیں فینز نے "ایک آئیکونک لیڈر” قرار دیا، جنہوں نے مختلف ادوار میں بھارت کے خلاف فائنل میں پاکستان کو فتح دلوائی — بطور کپتان اور اب مینٹور کے طور پر۔

 

کل وقتی رہنما: مینٹور سے مستقبل کے لئے مشیر تک

 

سرفراز کا کردار صرف ٹیم کو میچ جیتنے تک محدود نہیں رہا — انہوں نے کھلاڑیوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور ٹیم ورک جیسی اقدار کو تقویت دی، جو نہ صرف آج کی فتح کے لئے مفید تھیں بلکہ مستقبل کے ٹورنامنٹس جیسے انڈر-19 ورلڈ کپ کے لئے بھی حوصلہ افزا ہیں۔

انہوں نے خود کہا کہ یہ فتح ٹیم کی مضبوط بساط اور مشترکہ مقصد کی وجہ سے ممکن ہوئی، نہ کہ کسی ایک ہی بات سے۔

 

فخر، جشن اور مستقبل کی امیدیں

 

پاکستان کی اس فاتح ٹیم کو وطن واپسی پر شاندار استقبال اور قائدین کی طرف سے خراج تحسین ملا، جس نے اس تاریخی کامیابی کو مزید معنٰوی بنا دیا۔

پاکستان انڈر-19 ٹیم کی یہ کامیابی نہ صرف ایک ٹرافی ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں میں اعتماد اور مستقبل کے بڑے انٹرنیشنل مقابلوں کے لئے امید بھی جگاتی ہے ۔ جس میں سرفراز احمدنے مینٹورشپ اور رہنمائی سے  یہ  ثابت کر دیا کہ "سرفراز دھوکہ نہیں دے گا۔”

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button