وجود خدا کے موضوع پر مباحثہ؛ مفتی شمائل ندوی کی جاوید اختر پر سبقت
بحث کے آغاز میں ہی مفتی شمائل ندوی نے انتہائی دانشمندی سے بحث کے قواعد طے کیے۔

کنسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی کے ہال میں گویا ایک خاموشی چھائی تھی۔ سینکڑوں نظریں ایک نقطے پر مرکوز تھیں۔ 20 دسمبر، 2025 کو شام ڈھلنے کے موقع پر یہاں ایک ایسا مناظرہ رونما ہونے والا تھا جو نہ تو محض مذہبی تھا، نہ محض فلسفیانہ۔ یہ انسانی شعور کی آخری سرحدوں پر ایک جدوجہد تھی۔
ایک طرف تھے مفتی شمائل ندوی—اسلامی اسکالر، واہییان فاؤنڈیشن کے بانی، جن کی عمر محض تیس برس کے قریب ہے مگر ان کی علمی شہرت ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔
دوسری طرف تھے جاوید اختر—شاعر، فلم کار، سینما اور ادب کی اہم شخصیت ۔
درمیان میں سوربھ دیویدی انڈیا ٹوڈے کے صحافی، جنہوں نے اس پورے مناظرے کو ایک "علمی مکالمہ” کی شکل دی، اور ماڈریٹر کی خدمات سر انجام دیں
بحث کا معیار: سائنس یا منطق؟
بحث کے آغاز میں ہی مفتی شمائل ندوی نے انتہائی دانشمندی سے بحث کے قواعد طے کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ خدا ایک ماورائی حقیقت ہے، اس لیے سائنس (جو صرف مادی دنیا سے بحث کرتی ہے) اس کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کا درست پیمانہ نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے جاوید اختر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آج کی بحث صرف عقل اور منطق کی بنیاد پر ہوگی۔
مفتی شمائل ندوی کا استدلال:
"سائنس کا تعلق مشاہداتی شواہد (Empirical evidence) سے ہے جبکہ خدا ایک ماورائی حقیقت ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جاوید صاحب مجھ سے مطالبہ کریں کہ میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے پلاسٹک تلاش کر کے دکھائیں”۔
دلیلِ امکانیت (Argument of Contingency) اور مفتی صاحب کی جیت
مفتی صاحب کی سب سے طاقتور دلیل "دلیلِ امکانیت” تھی، جسے جاوید اختر پوری بحث کے دوران منطقی طور پر رد کرنے میں ناکام رہے۔
مفتی صاحب نے ایک ‘پنک بال’ (گلابی گیند) کی مثال دی کہ اگر آپ ایک ویران جزیرے پر ایک گیند دیکھیں تو آپ فوراً سوچیں گے کہ اسے کسی نے بنایا ہے، کیونکہ اس کا وجود ‘ضروری’ نہیں تھا۔ اسی طرح یہ کائنات "ممکن” (Contingent) ہے، یعنی یہ اپنے وجود کے لیے کسی اور پر منحصر ہے۔
اسکرپٹ کا اقتباس:
- مفتی شمائل ندوی: "یہ کائنات ‘کونٹنجنٹ’ (Contingent) ہے، یعنی یہ اپنے وجود کے لیے کسی پر منحصر ہے۔ منطق کے مطابق اس کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے ایک ایسی ہستی ر جو ‘واجب الوجود’ (Necessary Being) ہو، جو خود کسی پر منحصر نہ ہو”۔
- جاوید اختر: (جواب میں کوئی منطقی دلیل دینے کے بجائے) "مجھے یہ ‘کونٹنجنٹ’ جیسے الفاظ سمجھ نہیں آ رہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ کائنات انسان کے لیے بنی ہے، اس کی کیا ضرورت تھی؟”۔
جاوید اختر نے ‘انفینٹ ریگریس’ (Infinite Regress) یعنی وجوہات کے لامتناہی سلسلے کا دفاع کرنے کی کوشش کی، لیکن مفتی صاحب نے واضح کیا کہ عملی دنیا میں یہ ناممکن ہے۔
شر (Evil) اور انسانی مصائب کا سوال
جاوید اختر نے اپنے روایتی انداز میں غزہ کے بچوں اور دنیا میں پھیلے ہوئے مظالم کا حوالہ دے کر خدا کے وجود پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قادرِ مطلق خدا ہے تو وہ ان مظالم کو کیوں نہیں روکتا؟۔
مفتی صاحب نے اس جذباتی وار کا جواب "اخلاقیات اور امتحان” کے فلسفے سے دیا:
"اگر دنیا میں ‘شر’ (Evil) نہ ہوتا تو آپ ‘خیر’ (Good) کی تعریف کیسے کرتے؟ خدا نے انسان کو ‘فری ول’ (اختیار) دیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیا جا سکے،۔ اگر امتحانی پرچے میں صرف درست جوابات لکھے ہوں تو امتحان کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاوید اختر کے پاس ‘شر’ کو ‘شر’ کہنے کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے، کیونکہ الحاد کی بنیاد پر اخلاقیات صرف سماجی ترجیحات کا نام ہے، جبکہ اسلام میں یہ خدا کی طرف سے ایک معروضی (Objective) معیار ہے،۔
جاوید اختر کا جذباتی دفاع اور مفتی صاحب کا طنز:
جاوید اختر نے بارہا یہ کہا کہ مذہب صرف ‘عقیدے’ (Faith) کا نام ہے جس کے پیچھے کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ انہوں نے مذہب کو سے تشبیہ دی جو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے،۔
اس کے جواب میں مفتی صاحب کا ایک جملہ محفل میں قہقہے بکھیر گیا:
مفتی شمائل ندوی: "جاوید صاحب! اگر آپ دو پیک الحاد (Atheism) کے لیں گے، تو وہ بڑھتے بڑھتے نارتھ کوریا بن جائے گا”۔
خلاصہ:
اس بحث کا اختتام اس تاثر کے ساتھ ہوا کہ جہاں جاوید اختر کے دلائل زیادہ تر جذبات، تاریخی قصوں اور انسانی ہمدردی کے گرد گھومتے رہے، وہیں مفتی شمائل ندوی نے خالص علمی اور فلسفیانہ سطح پر خدا کے وجود کو ایک منطقی ضرورت کے طور پر پیش کیا۔
جاوید اختر کا یہ اعتراف کہ "میری سائنس کی نالج معمولی ہے” اور ان کا ‘کونٹنجنسی’ جیسے بنیادی فلسفیانہ دلائل کو سمجھنے سے قاصر رہنا، مفتی صاحب کی فکری برتری پر مہر ثبت کر گیا۔



