اہم خبریںپاکستانعوام

اگر ٹریفک پولیس اہلکار "ای لائسنس” تسلیم نہ کرے تو آپکو کیا کرنا ہوگا؟

عوام حکومت کے قوانین پر عملدرآمد کرانے کے فیصلے سے متفق نظر آتی ہے، لیکن خلاف ورزی پر مقرر کئے گئے جرمانوں کی بھاری رقوم سے بے حد پریشان ہے۔

پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی کے بعد سے عوام کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

عوام حکومت کے قوانین پر عملدرآمد کرانے کے فیصلے سے متفق نظر آتی ہے، لیکن خلاف ورزی پر مقرر کئے گئے جرمانوں کی بھاری رقوم سے بے حد پریشان ہے۔

شہری جہاں بھاری جرمانوں سے پریشان ہیں وہیں کچھ شہری یہ بھی گلہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ اگر ٹریفک پولیس اہلکار آپکو روک لیں اور آپ کے پاس سب لوازمات پورے بھی ہوں تب بھی وہ آپکو جرمانہ کرتے ہیں۔

اس وقت ہیلمنٹ ، ٹریفک لائسنس نہ ہونے، فٹنس سرٹیفکیٹ، اوور سپیڈنگ، رانگ وے ڈرائیونگ اور کم عمری میں ڈرائیونگ کرنے پر جرمانے عائد کئے جارہے ہیں۔

ان تمام شرائط میں سے سب سے زیادہ سختی اور چالان ہیلمنٹ نہ پہننے اور ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر کئے جارہے ہیں۔

عوام کی بڑی تعداد ان دنوں ٹریفک چالان سے بچنے کیلئے لائسنس بنوانے کیلئے تگ و دو کر رہی ہے۔

یوں تو ڈرائیونگ لائسنس منٹوں میں بن جاتا ہے، لیکن ہارڈ کاپی میں لائسنس آپ کے پاس آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

تاہم ای لائسنس فوراً ہی آپکو موصول ہو جاتا ہے جسے آپ ٹریفک وارڈن کو دکھا کر جان بخشی کرا سکتے ہیں۔

لیکن شہریوں کی مشکلات یہاں بھی کم نہیں۔ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے نظر آرہے ہیں کہ ٹریفک وارڈن ای لائسنس تسلیم نہیں کر رہے اور چالان کر رہے ہیں۔

ایسے میں پنجاب پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو بھی شہریوں کیلئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار ای لائسنس تسلیم نہ کرے تو شہری کیا کرسکتے ہیں؟

اگر ٹریفک پولیس اہلکار "ای لائسنس” تسلیم نہ کرے

 

ٹریفک پولیس پنجاب کے ٹویٹر ہینڈل سے جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں اہلکار فواد نے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” کچھ روز پہلے ہم نے ای لائسنس کے حوالے سے فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی تھی، اور نیچے بڑی تعداد میں ہمارے بھائی ایک ہی کمنٹ کر رہے تھے کہ جناب ٹریفک پولیس اہلکار اور دیگر ادارے جو سڑکوں پر ڈیوٹی کرتے ہیں، وہ ای لائسنس کو نہیں مانتے۔”

ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا تھا کہ "2023 میں جب ای لائسنس کا آغاز ہوا تھا، تو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب کی جانب سے پورے پنجاب میں یہ لیٹر بھیجا گیا تھا کہ ای لائسنس کو باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس تصور کیا جائے گا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ "حالیہ مہینوں کے نفاذ کے بعد، جہاں سختی کا عمل تیز ہو چکا ہے، وہاں بڑے پیمانے پر ڈرائیونگ لائسنس بنائے جا رہے ہیں۔ ”

"اگر آپ اپنا ڈرائیونگ لائسنس ٹیسٹ دے چکے ہیں لیکن ابھی تک لائسنس آپ کے پاس نہیں پہنچا، تو آپ اپنا ای لائسنس استعمال کر سکتے ہیں۔”

انہوں نے واضح کیا کہ "اگر کوئی بھی ٹریفک پولیس اہلکار یا دیگر اداروں کا کوئی بھی فرد ای لائسنس کو ماننے سے انکار کرتا ہے، تو آپ فوری طور پر اس کے خلاف کمپلینٹ رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے جاری کردی نمبرز میں آئی جی صاحب پنجاب کا کمپلینٹ سیل نمبر 1787 ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کا کمپلینٹ سیل واٹس ایپ نمبر 0318-4642936 ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ شہری ایسے اہلکار کے خلاف ان نمبرز پر فوراً کمپلینٹ درج کروائیں، اور یہ یقین رکھیں کہ جو کمپلینٹ آپ درج کروائیں گے، اس پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔

 

عوامی مطالبہ:

 

آپ نے حکام سے گزارش کی ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد لازمی ہے، تاہم جرمانے کی رقوم بہت زیادہ ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ جرمانے کی رقم کو کم کریں، اور ہیلمنٹ کی خلاف ورزی پر جرمانے کی بجائے ہیلمنٹ جبکہ لائسنس نہ ہونے پر جرمانے کی بجائے لائسنس بنائیں تا کہ شہری ٹریفک قوانین پر باآسانی عمل کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button