بی بی سی ٹرمپ تنازعہ؛ صحافتی اخلاقات اور عالمی تنازعہ
یہ دعویٰ فلوریڈا کے وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ بی بی سی نے ان کی تقریر کے کچھ حصوں کو جوڑ کر پیش کیا، جس سے عوام میں غلط تاثر گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کا دعویٰ دائر کیا ہے۔اس دعوے میں وہ الزام لگاتے ہیں کہ نشریاتی ادارے نے ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کو غلط انداز میں ایڈٹ کیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کی حوصلہ افزائی کی۔
یہ دعویٰ فلوریڈا کے وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ بی بی سی نے ان کی تقریر کے کچھ حصوں کو جوڑ کر پیش کیا، جس سے عوام میں غلط تاثر گیا۔
بی بی سی نے “غلط فیصلے” (error of judgment) کا اعتراف کیا اور معافی مانگی، مگر ہتکِ عزت کے قانونی دعوے کو مسترد کیا ہے اور مقدمے کا دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ بی بی سی کی یہ حرکت انتخابی مداخلت اور برے ارادہ پر مبنی تھی، اور اس نے ان کی ساکھ اور مالی مفادات کو نقصان پہنچایا۔
President Trump has filed a multi-billion dollar lawsuit accusing the BBC of defamation over the way his speech was edited ahead of the US Capitol riot in 2020. 🎧 #GlobalNewsPod https://t.co/aaMjeoXan4
— BBC World Service (@bbcworldservice) December 16, 2025
پہلے 5 ارب ڈالر کا عندیہ — اب 10 ارب کا دعویٰ
ابتدائی طور پر ٹرمپ نے بی بی سی کو 1 ارب ڈالر کے مطالبے کے ساتھ خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے کہا کہ بی بی سی معافی کے ساتھ مناسب تلافی بھی کرے، ورنہ قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ بی بی سی نے صرف معافی دی لیکن مالی ردعمل نہیں دیا، جس کے بعد 10 ارب ڈالر کا باضابطہ مقدمہ دائر کیا گیا۔
یہ دعویٰ دو الگ الگ مقدمات پر مبنی ہے:
- 5 ارب ڈالر ہتکِ عزت کے دعوے کے لیے
- 5 ارب ڈالر غلط اور دھوکہ دہ مواد کی نشریات اور تجارتی طریقوں کی خلاف ورزی کے لیے
صحافتی اخلاقیات: غلط ایڈیٹنگ، صداقت اور معافی
ایڈیٹنگ اور سیاق و سباق
اکثر صحافتی رہنما اصولوں کے مطابق مواد کی ایڈیٹنگ کو حقیقت اور تناظر کے ساتھ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایڈیٹنگ سے اصل پیغام بدل جائے تو یہ اخلاقی اعتبار سے مسئلہ بن سکتا ہے۔
معافی اور اصلاح
بی بی سی نے اعتراف کیا کہ ایڈیٹنگ نے غلط تاثر دیا، اور اس ضمن میں معافی بھی دی، لیکن اس نے قانونی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کسی صحافتی ادارے کی جانب سے معافی دینا ایک عام عمل ہے، مگر کیا وہ “مناسب” معافی تھی اس پر بحث جاری ہے۔
عوامی شخصیت اور ہتکِ عزت کے قانونی معیار
امریکی قانون کے تحت عوامی شخصیات کو ہتکِ عزت کے دعوے میں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اشاعت کنندہ نے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائیں یا بے پرواہی سے سچائی کو نظرانداز کیا (actual malice) — جو کہ ایک سخت معیار ہے۔
قانونی مسئلے: دائرہ اختیار، نشریات، اور اثرات
قانونی ماہرین بی بی سی ٹرمپ تنازعہ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے لیے چند بڑے چیلنجز ہیں:
- اس دستاویزی فلم کا براہِ راست امریکی نشریات میں نشر نہ ہونا ہتکِ عزت کے دعوے کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔
- بی بی سی کا قانونی موقف یہ ہے کہ یہ پروگرام امریکہ میں براہِ راست نشر نہیں ہوا، اس لیے امریکی عدالت میں دائر ہونا صحیح نہیں۔
- ٹرمپ کے وکیل استدلال کرتے ہیں کہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، جیسے BritBox، نے اسے امریکہ میں دستیاب بنایا، جس سے عدالت میں مقدمہ چلانے کا جواز بنتا ہے۔
بی بی سی اور جمہوری مباحثے پر اثرات
یہ مقدمہ پریس کی آزادی، عوامی اعتماد، اور میڈیا کی ذمہ داری کے درمیان ایک اہم تنازعے کو اجاگر کرتا ہے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ بڑے معاوضے کے دعوے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہو سکتے ہیں اور صحافتی آزادی کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اصرار کرتے ہیں کہ غلط رپورٹنگ پر احتساب ہونا چاہیے۔
بی بی سی جیسا ادارہ عالمی سطح پر قابلِ احترام ہے، مگر عوامی فنانسنگ اور غیر جانبداری کی ذمہ داری کی وجہ سے اسے سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بی بی سی ٹرمپ تنازعہ: صحافتی احتساب بمقابلہ آزادی اظہار
بی بی سی ٹرمپ تنازعہ نہ صرف قانونی اعتبار سے اہم ہے، بلکہ صحافتی اخلاقیات، نشریاتی معیارات، اور عوامی رہنماؤں کے حقوق کے حوالے سے عالمی مباحثے کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔ چاہے یہ مقدمہ عدالت میں کامیاب ہو یا نہ ہو، یہ میڈیا کی ذمہ داری اور احتساب کے بارے میں گہری بحث کا سبب بن چکا ہے۔



