اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

کرپٹو مائننگ: کیا یہ پاکستان میں ممکن ہے؟

اب کرپٹو مائننگ کے خواہشمند افراد کے لیے سوال "کیا پاکستان میں کرپٹو مائننگ ممکن ہے؟" کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں کرپٹوکرنسی کا منظرنامہ 2025 میں ایک نمایاں تبدیلی سے گزرا ہے، جو مکمل پابندی سے محتاط قبولیت کی طرف منتقل ہوا ہے۔

اب کرپٹو مائننگ کے خواہشمند افراد کے لیے سوال "کیا پاکستان میں کرپٹو مائننگ ممکن ہے؟” کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔

یہ جامع رہنما پاکستان میں کرپٹو مائننگ کی موجودہ صورتحال، قانونی فریم ورک، ضروری آلات، بجلی کے چیلنجز، اور منافع کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے۔

پاکستان میں کرپٹو مائننگ کے قانونی پہلو کو سمجھنا

پابندی سے ریگولیشن تک: 2025 کی تبدیلی

 

پاکستان نے 2025 میں ایک جامع کرپٹو فریم ورک متعارف کرایا، جس کے تحت پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) اور پاکستان ڈیجیٹل ایسٹس اتھارٹی (PDAA) قائم کی گئیں تاکہ نگرانی اور ضابطہ سازی کی جا سکے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرپٹو کرنسی سے متعلق تمام سرگرمیوں پر عملی طور پر پابندی لگا رکھی تھی۔

پاکستان کرپٹو کونسل کا باضابطہ آغاز 14 مارچ 2025 کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ہوا، جبکہ چینگ پینگ ژاؤ (Changpeng Zhao) کو اسٹریٹیجک ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ حکومت کا مقصد بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں ضم کرنا اور پاکستان کو خطے کی ایک کرپٹو طاقت بنانا ہے۔

تاہم صورتحال ابھی بھی پیچیدہ ہے۔ نئی کوششوں کے باوجود کرپٹو کرنسی اب بھی پاکستان میں ایک "قانونی غیر یقینی” (legal grey area) حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اسٹیٹ بینک نے دوبارہ واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی ٹینڈر تسلیم نہیں کیا گیا۔ ضابطہ جاتی ماحول مسلسل ارتقا پذیر ہے، اور قانون ساز مناسب قانون سازی کے ذریعے فریم ورک کو واضح کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

مائنرز کے لیے موجودہ حیثیت

 

2025 کی تازہ ترین اپڈیٹس کے مطابق، پاکستان میں کرپٹو کرنسی مائننگ قانونی ہے، اگرچہ ماضی میں کچھ غیر یقینی صورتحال رہی۔ حکومت نے مائننگ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، خصوصاً اضافی بجلی کو مائننگ آپریشنز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یکم جولائی 2025 سے کرپٹو کرنسی بیچنے سے حاصل ہونے والے منافع پر 15% کی فلیٹ کیپیٹل گین ٹیکس لاگو ہے، جبکہ مائننگ سے حاصل شدہ کرپٹو کو عمومی آمدنی کے طور پر 5 سے 35 فیصد کے درمیان ٹیکس دیا جائے گا۔ یہ ٹیکس ڈھانچہ مائنرز کے لیے ان کی منصوبہ بندی اور مالیاتی تخمینوں میں وضاحت فراہم کرتا ہے۔

کرپٹو مائننگ کے لیے درکار آلات

 

ASIC مائنرز: صنعت کا معیار

2025 میں کرپٹو کرنسی مائننگ کے لیے خصوصی ہارڈویئر کی ضرورت ہوتی ہے جسے "ایپلیکیشن اسپیسفک انٹیگریٹڈ سرکٹس” (ASICs) کہا جاتا ہے۔ یہ مشینیں مخصوص کرپٹو کرنسیوں کی مائننگ کے لیے بنائی گئی ہیں اور عام کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔

2025 کے نمایاں مائننگ آلات

 

Antminer S21 Pro کی ہیش ریٹ 234 TH/s ہے، جس کی کارکردگی 15 J/TH اور بجلی کا استعمال تقریباً 3510 واٹ ہے۔ یہ موجودہ دور کی سب سے طاقتور ایئر کولڈ بٹ کوائن مائننگ مشینوں میں سے ایک ہے۔

دیگر مشہور آپشنز میں شامل ہیں:

ہائی اینڈ مائنرز:

  • Bitmain Antminer S21 XP: 270 TH/s ہیش ریٹ اور 3645W پاور استعمال
  • Whatsminer M60S: 170-186 TH/s ہیش ریٹ اور 18.5 J/TH کی کارکردگی

مڈ رینج آپشنز:

  • Antminer S21+ اور S19K Pro درمیانے درجے کے آپریشنز کے لیے مناسب
  • Fluminer T3 پروفیشنل سیٹ اپ کے لیے مؤثر انتخاب

انٹری لیول مائنرز:

  • Canaan Avalon Q کم بجلی کے استعمال اور بہتر کولنگ کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر مائننگ کے لیے موزوں

لاگت کے عوامل

 

مائننگ ہارڈویئر ایک بڑی ابتدائی سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے۔ جدید مائنرز جیسے MicroBT WhatsMiner M63S کی قیمت تقریباً 9,000 سے 11,000 امریکی ڈالر تک ہے، جبکہ پرانے ماڈلز جیسے Antminer S19 Pro تقریباً 1,600 ڈالر میں دستیاب ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے 25 مئی 2025 کو بٹ کوائن مائننگ آلات پر کسٹم ڈیوٹی سے استثنا کا اعلان کیا، جس سے درآمدی اخراجات میں کمی آئی ہے۔

اضافی انفراسٹرکچر کی ضروریات

 

ایک کامیاب مائننگ آپریشن کے لیے درج ذیل چیزیں ضروری ہیں:

  • مستقل بجلی کی فراہمی
  • کولنگ سسٹم
  • تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن
  • جسمانی سیکیورٹی
  • مانیٹرنگ سافٹ ویئر برائے کارکردگی اور منافع کا جائزہ

بجلی کے اخراجات اور چیلنجز

پاکستان کا توانائی کا تضاد

مارچ 2025 تک، پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46,600 میگاواٹ تھی، جس میں سے تقریباً 14% صلاحیت غیر استعمال شدہ تھی، خاص طور پر سردیوں میں۔ حکومت نے اسی اضافی بجلی کو مائننگ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکومت کا مائننگ منصوبہ

 

پاکستان نے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ابتدائی طور پر 2,000 میگاواٹ بجلی مختص کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر استعمال شدہ وسائل کو منافع میں تبدیل کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

یہ توانائی زیادہ تر کوئلے سے چلنے والے پلانٹس سے فراہم کی جا رہی ہے جو صرف 15% صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔

بجلی کے اخراجات کی حقیقت

 

تاہم، اقتصادی طور پر بجلی کی قیمت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تجارتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت تقریباً 16 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ ہے، جو مائننگ کے لحاظ سے پاکستان کو مہنگے ممالک میں شامل کرتی ہے۔

حکومت نے مائنرز کے لیے رعایتی نرخ تجویز کیے (تقریباً 23-24 روپے یا 0.08 ڈالر فی کلوواٹ گھنٹہ)، لیکن آئی ایم ایف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

منافع کے حسابات

ایک بٹ کوائن مائن کرنے کے لیے تقریباً 600,000 کلوواٹ گھنٹے درکار ہوتے ہیں، جس کی لاگت موجودہ نرخوں پر تقریباً 132,000 امریکی ڈالر بنتی ہے — جو عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

انفراسٹرکچر کے مسائل

 

پاکستان میں بجلی کی فراہمی غیر مستحکم ہے، اور ترسیل کے نقصانات بھی زیادہ ہیں، جس سے مائننگ آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔

مائننگ پولز اور آمدنی

مائننگ پول کیوں جوائن کریں؟

ابتدائی دنوں میں بٹ کوائن کو انفرادی طور پر مائن کرنا ممکن تھا، مگر اب کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت بڑھنے سے پولز میں شامل ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔

2025 کے نمایاں مائننگ پولز

  • Foundry USA Pool: 30% نیٹ ورک ہیش ریٹ کے ساتھ سب سے بڑا پول
  • Antpool: بٹ مین کی ملکیت، روزانہ ادائیگی کے نظام کے ساتھ
  • F2Pool: 40 سے زائد کرپٹو کرنسیوں کی سپورٹ
  • ViaBTC: 150+ ممالک میں خدمات فراہم کرتا ہے

ادائیگی کے نظام

  • PPS: ہر شیئر پر فوری ادائیگی
  • FPPS: ٹرانزیکشن فیس بھی شامل
  • PPLNS: مخصوص شیئرز کے بیچ انعام کی تقسیم

پاکستانی مائنرز کے لیے:

  • نئے مائنرز کے لیے PPS یا FPPS بہتر ہیں
  • تجربہ کار مائنرز کے لیے PPLNS زیادہ منافع بخش ہو سکتا ہے

پاکستانی مائنرز کے لیے مواقع

مارکیٹ پوٹینشل

پاکستان اب کرپٹو اپنانے کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے، جہاں اندازاً 2 سے 2.7 کروڑ صارفین ہیں۔

پاکستان کے فوائد

  • اضافی بجلی کے وسائل
  • نوجوان آبادی (60% 30 سال سے کم عمر)
  • سرکاری حمایت اور ٹیکس وضاحت
  • ڈیوٹی میں رعایت

درپیش چیلنجز

  • قانونی غیر یقینی صورتحال
  • بجلی کی فراہمی کے مسائل
  • اعلیٰ لاگت
  • آئی ایم ایف کے خدشات
  • سرمایہ کاری کے تقاضے

پاکستان میں کرپٹو مائننگ کیسے شروع کریں

  1. تحقیق اور منصوبہ بندی
  2. آلات کا انتخاب
  3. بجلی کا بندوبست
  4. انفراسٹرکچر کی تیاری
  5. پول کا انتخاب
  6. ٹیکس کی تعمیل
  7. مانیٹرنگ اور بہتر کاری

کرپٹو مائننگ مستقبل کا جائزہ

ریگولیٹری ارتقا

جون 2025 میں پاکستان کرپٹو کونسل نے اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، وزارت قانون اور آئی ٹی کے ساتھ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی تاکہ قومی ڈیجیٹل اثاثہ فریم ورک تیار کیا جا سکے۔

ترقی کی سمت

2025 تک کرپٹو مائننگ سیکٹر قومی جی ڈی پی میں 0.5% حصہ ڈالنے اور 10,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی توقع ہے۔

پائیداری کے پہلو

حکومت نے ماحول دوست مائننگ کے لیے ہائیڈرو پاور پر مبنی پائلٹ منصوبے شروع کیے ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں۔

نتیجہ

پاکستان میں کرپٹو مائننگ ممکن ہے، لیکن کامیابی کے لیے محتاط منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، اور قانونی آگاہی ضروری ہے۔

اہم نکات:

  • قانونی اور ٹیکس فریم ورک کو سمجھنا
  • سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کا حصول
  • جدید مؤثر آلات میں سرمایہ کاری
  • مستحکم مائننگ پولز میں شمولیت
  • بدلتی ریگولیشنز کے مطابق لچک اختیار کرنا

پاکستان میں کرپٹو مائننگ کی قانونی حیثیت ایک اہم سنگ میل ہے جو ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے دروازے کھولتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button