اہم خبریںپاکستان

پاکستان کے پانی کے مسائل؛بھارت کا پانی بطور ہتھیار استعمال یا ہماری بدانتظامی

اس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک جملہ ٹرینڈ کر رہا ہے کہ مطالعہ پاکستان کے مطابق پاکستان میں دنیا کا سب سے بہترین نہری نظام ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کی خرابی کا ایک بڑا عنصر پانی  رہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے بار ہا پاکستان میں بہنے والے دریاؤں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی جس نے کئی بارمعاملات کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

ان دنوں بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں بڑا ہاتھ انڈیا کی جانب سے پاکستانی دریاؤں میں دو لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل حکومتی حلقوں میں ایک جملہ دوبارہ سننے کو مل رہا ہے کہ ” انڈیا پانی کو بطور ہتھیار” استعمال کر رہا ہے۔

اس جملےکی صداقت میں کوئی دو رائے نہیں۔لیکن  پاکستان میں پانی کی قلت، اور مون سون کے دوران سیلابی صورتحال کو صرف انڈیا سے جوڑ دینا کافی نہیں۔

اس میں ملکی سطح پربھی  شدید بد انتظامی کے مسائل ہیں۔ پانی سٹوریج کرنے کے بہتر نظام کا نہ ہونا، پرانا اور ناکافی نہری نظام ، اندرونی سطح پر صوبوں میں پانی کی تقسیم کے مسائل اور صدیوں سے اس شعبے میں انویسٹمنٹ کا نہ ہونا ملک میں پانی کے مسائل کی وجوہات ہیں۔

 

سندھ طاس معاہدہ اور انڈیا کا پانی بطور ہتھیار استعمال کرنا:

 

بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے مسائل کے حل کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھی اب مسائل کے حل کیلئے ناکافی رہا ہے۔

رواں سال بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام میں ہونے والے واقعہ نے دونوں ممالک کو ایک بار بھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

انڈیا کی جانب سے ابتدائی طور پر پاکستان پر حملے کا الزام عائد کر کے کئی شہروں پر رات گئے حملہ کیا گیا۔

پاکستان کے مؤثر جواب کے بعد دنیا کے کئی ممالک ثالثی کو کودے اور پھر دونوں ممالک میں روایتی جنگ تو اختتام پذیر ہوئی لیکن پانی کی جنگ شروع ہو گئی۔

انڈٰیا نے ایک بار پھر پانی بطور بتھیار استعمال کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔

اس کے بعد بھارت نے پاکستان کے پانی کو روکنا شروع کیا اور کئی نئے منصوبے بھی بنانا شروع کر دیئے جس کی وجہ سے مستقبل میں پانی کے مسئلے پر دونوں ممالک ایک بار پھر آمنے سامنے آ سکتے ہیں ۔

دوسری طرف انڈیا نے زیادہ بارشوں کے موقع پر پانی نہ سنبھالے جانے کی وجہ سے آبی جارحیت کرتے ہوئے پانی پاکستانی دریاؤں میں چھوڑا جو سیلابی صورتحال کی وجہ بنا۔

انڈیا نے پانی چھوڑنے کی اطلاع کیلئے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع سے سرسری سا پیغام بھجوا دیا۔

اس پیغام سے اس نے یہ ثابت کیا کہ انڈیا کے نزدیک اب سندھ طاس معاہدہ کوئی معانی نہیں رکھتا۔

اس لئے وہ پانی بطور ہتھیار استعمال کرتا رہے گا ۔ اب پاکستان نے جب بھی اس معاملے پر جوابی وار کیا، معاملہ پھر جنگ کی طرف بڑھے گا۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں سیلاب کی صورتحال، امدادی کارائیوں کیلئے فوج طلب

 

پاکستان میں آبی وسائل کی بد انتظامی:

 

اس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک جملہ ٹرینڈ کر رہا ہے کہ مطالعہ پاکستان کے مطابق ملک میں دنیا کا سب سے بہترین نہری نظام ہے۔

اس جملے کو بطور میم شیئر کیا جارہا ہے ، اور لوگ اس پر لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں ۔

ملکی سطح پر پانی سے متعلق مسائل کی پیچھے نااہلیوں کی داستان ہے جس میں سے چند نالائقیاں درج ذیل ہیں۔

 

پانی ذخیرہ کرنے کا مناسب انتظام نہ ہونا:

 

پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے دو بڑے مقامات منگلا اور تربیلا آہستہ آہستہ بھرتے جارہے ہیں  اور اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی قوت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔

ملکی سطح پر نئے اور بڑے ڈیمز کی تعمیر کا کام ترجیحاتی بنیادوں پر نہیں ہورہا ہے۔

کالاباغ ڈیم جیسے بڑے منصوبے، جو کہ پانی ذخیرہ کرنے کے مسائل کا واحد حل ہو سکتے تھے، اندرونی خلفشار کے باعث کبھی تکمیل کی طرف نہیں بڑھے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

 

زراعت سمیت دیگر معاملات میں پانی کا بے رحمانہ استعمال:

 

پاکستان کے 80 فیصد سے زائد پانی زراعت میں صرف ہوتا ہے، لیکن جدید زرعی علوم پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے پانی بڑے پیمانے پر ضائع ہوتا ہے۔

آجکل دنیا بھر میں زراعت میں ڈرپ اور واٹر سپرنکلر جیسے ذرائع اپنائے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں اس سے متعلق آگاہی اور قوانین موجود نہیں۔

پاکستان کے جس نہری نظام کو مطالعہ پاکستان کی کتاب میں  دنیا کا سب سے بہترین نہری نظام کہا جاتا ہے اس کی وجہ سے پانی کی ایک بڑی مقدار فصلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔

 

صوبوں میں پانی کی تقسیم کے اندرونی مسائل:

 

پاکستان پانی کے مسئلے پر انڈیا سے بذریعہ مذاکرات کیسے جیت سکتا ہے جب ملکی سطح پر ہی صوبوں میں پانی کی تقسیم کے مسائل حل نہیں ہو پاتے۔

ہر سال پانی کو صوبائی سطحوں پر بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی صوبوں میں اسی ہتھیار کو عوام کو دکھا کر اور آپ کا پانی چوری ہورہا ہے جیسی گمراہ کن باتیں پھیلا کر ووٹ بھی وصول کئے جاتے ہیں۔

 

اختتامیہ:

 

انڈیا کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اصطلاح بلکہ درست ہے لیکن یہ پانی کے مسئلہ کا 100 فیصد ذمہ دار نہیں ہے۔

ملکی سطح پر پانی ذخیرہ کرنے کیلئے انفراسٹرکچر نہ ہونا، قدیم اور ناقص نہری نظام ، پانی کے معاملے پر اندرونی لڑائیاں اور پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے قوانین کا نہ ہونا بھی پانی کی قلت کے ذمہ دار عوامل ہیں۔

انڈیا کو سندھ طاس معاہدے پر عمل کروانے کیلئے عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی کرنا، ملکی سطح پر پانی کے ضیاع کو روکنے سے متعلق اقددامات کرنا اور پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے نئے پراجیکٹس ترجیحاتی بنیادوں پر شروع اور تکیمل تک پہنچانا پاکستان کےپانی کے مسائل کا حل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button