
انڈیا کی جانب سے پانی کے اخراج اور مسلسل جاری مون سون بارشوں کے باعث پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
راوی ، ستلج اور بیاس میں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب ہے اور اس سے ملحقہ علاقوں کو خالی کرائے جانے کا سلسلہ جاری ہے
سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو مال مویشی اور ضروری سامان سمیت محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
سیلابی صورتحال میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اسی کے پیش نظر پنجاب حکومت نے 6 اضلاع لاہور، سیالکوٹ، قصور، فیصل آباد، ناروال اور اکاوڑہ میں امدادی کارروائیوں کیئے فوج طلب کر لی ہے۔
پنجاب سمیت ملک بھر میں آئندہ چوبیس گھنٹے اہم تصور کئے جارہے ہیں۔
پنجاب میں سیلاب کی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟
پاکستان میں جاری مون سون بارشوں کے باعث پہلے ہی سیلابی صورتحال تھی لیکن یہ صورتحال اس وقت گھمبیر ہوئی جب انڈیا کی جانب سے گزشتہ روز آبی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔
انڈیا نے پاکستانی دریاؤں میں تقریباً 2 لاکھ کیوسک پانی چھوڑ دیا جس سے پہلے سے سیلابی صورتحال میں گھرے دریاؤں میں پانی بپھر گیا۔
انڈیا نے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستان کو پانی چھوڑنے کی اطلاع دی۔
انڈیا نے سندھ طاس کمیشن کی بجائے سفارتی ذرائع سے تفصیل جاری کرتے ہوئے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ اس کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہے۔
لاہور سیالکوٹ سمیت دیگر اضلاع میں سیلابی صورتحال
پنجاب کے کئی مقامات پر سیلابی صورتحال:
پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں گزشتہ روز تباہ کن رہا جب 24 گھنٹوں کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ ریکارڈ بارش کے بعد پورا شہر زیر آب آگیا۔
دوسری جانب انڈیا کی جانب سے چھوڑے گئے پانی سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر اونے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے راوی میں انڈیا کی جانب سے چھوڑے گئے پانی سے لاہور میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
"پنجاب اس وقت خوفناک سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ پانی کے بے قابو ریلے سب کچھ بہا کر لے جا رہے ہیں۔ کھیت اجڑ گئے، بستیاں ڈوب گئیں اور لوگوں کے مال مویشی بھی پانی کی نذر ہو گئے۔ کسان اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کی جمع پونجی ڈوبتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ pic.twitter.com/UGrX4TLPb1
— Shakir Mehmood Awan (@ShakirAwan88) August 27, 2025
شاہدرہ کے قریب نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سیلابی صورتحال کے باعث انفراسٹرکچر کی تباہی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص لاہور اسلام آباد موٹروے کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث حفاظتی بنڈ ٹوٹنے سے نارووال کے مقام پر کرتار پور پانی میں ڈوب گیا ۔ پانی سکھوں کے مذہبی ار تاریخی مقام گردوارہ میں داخل ہوگیا۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے قصور، پاکپتن اور بہاولنگر میں سیلاب سب بہا کر لے گیا۔
مزید پڑھیں: کلاؤڈ برسٹ کا ہے؛ اور اس میں پاکستانی کی سیاحت کیلئے کیا پیغام ہے؟
پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ جاری:
پنجاب میں سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریش جاری ہے۔
متاثرہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقام پر متنقل کرنے کیلئے تمام ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
احتیاطی تدابیر
شہری دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) August 26, 2025
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔
این ڈی ایم نے مزید ہدایات جاری کیں کہ پیشگی اطلاعات کے لیے "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” ڈاؤن لوڈ کریں اور درج حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔
شہریوں کیلئے خصوصی ہدایات :
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کیلئے اس وقت محفوظ مقامات پر منتقل ہونا نا گزیر ہو چکا ہے۔
اس حوالے سے شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں کوقبل از وقت خالی کردیں۔
جن علاقوں میں پانی کے باعث نقل مکانی مشکل ہو رہی ہے وہاں اداروں کو آگاہ کریں اور اداروں سے تعاون بھی کریں۔
این ڈی ایم کی ایپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فالو کریں۔ غیرضروری سفر سے گریز کریں۔