
شمالی علاقہ جات جو کہ سرسبز وادیوں اور خوبصورت پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے شدید گرمی کے موسم میں ملک بھر کے باسیوں کیلئے راحت کا سامان ہوتے ہیں، اس سال موت کو دعوت دینے لگے۔
جون کے آخر میں شروع ہونے والی مون سون کی بارشیں خلاف معمول تھیں جنہوں نے سیلابی صورتحال کے خدشات پیدا کئے۔
لیکن جو اس کے بعد ہوا اس کی پیشن گوئی بھی نہ تھی۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں کلاؤڈ برسٹ ہونا شروع ہوئے اور یہ سلسلہ شمالی علاقہ جات سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں اپنی زد میں لے گیا۔
اس موسمیاتی تبدیلی سے وہ مقامات جو کبھی سیاحت کا مرکز سمجھے جاتے تھے اب خوف کی علامت سمجھے جانے لگے ہیں۔
خیبرپختونخوا کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوا۔ بونیر میں صرف ایک کلاؤڈ برسٹ چند منٹوں میں 200 سے 300 انسانی زندگیاں نگل گیا۔
اسی طرح اسی طرح صوابی میں اچانک موسلا دھار بارشیں گھر،سڑکیں، پل ، مال مویشی سب بہا کر لے گئی۔
انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ زراعت جو کہ ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، تباہ و برباد ہو گئی۔
انفراسٹرکچر ایسا تباہ ہوا کہ کئی مقامات پر آبادی کا دوسری آبادی سے رابطہ کٹ گیا۔
بونیر، صوابی سمیت ملک میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں اب تک ان بارشوں کے بعد معاملاتِ زندگی معمول پر نہیں آ پائے ہیں۔
اس تحریر میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟ یہ کیسے رونما ہوتا ہے اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری کیلئے اس میں کیا پیغام ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟
ماہرین موسمیات کے مطابق ایک چھوٹے سے علاقے (مثلاً 20 سے 30 مربع کلومیٹر کا علاقہ) پر ایک گھنٹے کے دوران100 یا اس سے زائد ملی میٹر بارش کا ہونا کلاؤڈ برسٹ کہلاتا ہے۔
یہ بارش ایک محدود علاقے میں کم وقت میں ہوتی ہے، اس لئے یہ نکاسی آب کو ناممکن بنا دیتی ہے۔
اس کی وجہ سے سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات جنم لیتے ہیں جس سے شدید جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کے پس پردہ عوامل:
کلاؤڈ برسٹ کے پچھے کے عوامل میں نمی سے بھرپور ہواؤں کا گاڑھا ہونا ہے۔
یہ نمی سے بھرپور ہوائیں جب اچانک اوپر اٹھتی ہیں تو پہاڑی علاقوں میں ان کو رفتہ رفتہ پانی چھوڑنے کا موقع نہیں ملتا۔
مسلسل نمی سے لدی یہ ہوائیں جمع ہوتی رہتیں اور پھر اچانک یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے جسے ہم کلاؤڈ برسٹ کہتے ہیں۔
کلاؤڈ برسٹ کے ساتھ آسمانی بجلی اور ژالہ باری عموماً نقصان کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان میں پہاڑی سلسلے ٓمون سون ہواؤں کو روک کر بارش برسانے کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان بادلوں کو مزید تقویت ملتی ہے اور یہ عموماً پھٹ جاتے ہیں۔
شمالی علاقہ جات جو کبھی سیاحت کیلئے موزوں ترین جگہ سمجھی جاتے تھے اور ان کیلئے جنت نظیر وادیوں کی اصطلاحات استعمال ہوتی تھیں اب موت کے پروانے سے تشبیہ پا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مسلسل بارش سے کراچی میں سیلاب، محکمہ موسمیات نے نئی وارننگ جاری کردی
کلاؤڈ برسٹ کے واقعات؛ پاکستانی سیاحت کی انڈسٹری کیلئے نقصان کا پیغام:
کاؤڈ برسٹ سے حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری کو شدید نقصانات پہنچے ہیں۔
سیاحوں کی آمدروفت میں کمی:
ناران ، کاغان، چترال، سوات ، بونیرجیسے علاقوں میں حالیہ دنوں میں سیاحوں کی آمدروفت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
حالیہ شدید بارشوں میں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور چند واقعات میں سیاحوں کی گاڑیوں کے اچانک بارش سے ڈوب جانے کی وجہ سے کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔
معاشی نقصانات:
مقامی معیشت جو کہ سیاحت کے بل بوتے پر چلتی ہے، اب شدید زوال کا شکار ہے۔ ہوٹلوں،ریسٹورنٹ ، ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شدید کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اسی طرح مقامی سطح پر ہاتھ سے بنی اشیاء کی خرید و فروحت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس سے مقامی معیشت اور ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
نفسیاتی نقصانات:
سیاحت کے پیچھے ذہن کو سکون دینے کا عنصر کارفرما ہوتا ہے۔ لوگ ان علاقوں کی سیر کو اس لئے جاتے ہیں تا کہ دماغ کو تازگی دی جا سکے۔
اب ان علاقوں کا سفر کرنے والے شدید نفسیاتی دباؤ میں سفر کر رہے ہیں ۔
اس کے علاوہ سیاحت کی نیت باندھے کچھ کم ہمت لوگ اس ایڈونچر سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یوں انہیں تفریح کے مواقع میسر نہیں اور نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے نقصانات؛ حل کیا ہے؟
آج آپ کسی عام آدمی سے لیکر ماہرین موسمیات و ماحولیات تک کسی کا بھی انٹرویو کر لیں آپ کو یہ پتہ چل جائے گا یہ مسائل موسم کو ہماری طرف سے پہنچائے گئے نقصانات کا نتیجہ ہیں۔
یہ بات اکثر بھول جاتے ہیں کہ بارڈر ختم ہونے کے بعد زمینی راستہ بھلے منقطع ہو جائے، ہوائی راستہ کھلا رہتا ہے۔
ایسا نہیں کہ ایک ملک کا ماحول سے چھیڑ چھاڑ ساتھ جڑے ملک کو نقصان نہ پہنچائے۔
کلاؤڈ برسٹ سے اس وقت پاکستان کے علاوہ چائنہ ، بھارت سمیت دیگر ممالک کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
اس مسئلے کو درست کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ماحول کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جائے۔
اس ازالے میں سب شامل ہوں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں بارڈر ختم ہونے کے بعد اپنی اثر نہیں چھوڑتیں۔ اور پھر یہ راستے میں آنے والے ممالک کو بھی نہیں چھوڑتیں۔