اہم خبریںپاکستان

مسلسل بارش سے کراچی میں سیلاب، محکمہ موسمیات نے نئی وارننگ جاری کردی

ہر بار کی طرح اس بار بھی سندھ حکومت بارش کے بعد طاقت پانی نکالنے میں لگانے کی بجائے اپنی نااہلی چھپانے میں وقف کرتی رہی۔

"یہ دن ہمارے لئے ایک مشکل ترین دن تھا۔ گھرکے جو افراد باہر تھے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اور گلی محلوں سے لے کر بڑی شاہراہوں تک کوئی ایسی جگہ نہ تھی کہ جہاں پانی نہ ہو۔ اس لئے یہ بھی ممکن نہ تھا کہ گھر سے باہر نکل کر اہلخانہ کی تلاش کر لی جائے”۔

منگل کے روز جب شدید بارشوں نے کراچی کا رخ کیا تو شہریوں کے تاثرات کچھ اس طرح سے تھے۔

جو گھروں میں تھے وہ شدید بارش کی وجہ سے محصور تھے۔ جو دفاتر میں تھے وہ لوڈشیڈنگ، انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر پارہے تھے۔

یہی نہیں وہ دفاتر سے باہر نکل کر گھر کا راستہ بھی نہیں بنا پا رہے تھے۔

ہر سڑک پر پانی کی وجہ سے سیلابی صورتحال تھی اور ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔ ایسے میں بازاروں ، دفاتر میں پھسنے افراد کے پاس بارش کے پانی سے گزر کر گھروں تک پہنچنا ہی واحد راستہ تھا۔

منگل کے روز جب شدید بارشوں نے شہر کا رخ کیا تو ایک بار پھر حکومتی نااہلیوں کا پول کھل گیا۔

 

مسلسل بارش سے کراچی میں سیلاب کی صورتحال، شدید جانی و مالی نقصان:

 

کراچی میں سیلاب کی سی صورتحال کے باعث زندگی جمود کا شکار ہے۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بارشوں میں 20 کے قریب افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تاہم بارش تھمنے اور پانی کی نکاسی کے بعد ہی یہ ممکن ہو پائے گا کہ جانی و مالی نقصان کا مکمل احاطہ کیا جاسکے۔

 

سندھ حکومت کا رد عمل:

 

محکمہ موسمیات کی جانب سے آج جاری ہونے والی خبردار کیا گیا کہ موسلا دھار بارشوں سے سندھ کے نشیبی علاقوں (کراچی، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، عمر کوٹ، میرپورخاص، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، ٹنڈو الیار، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، جامشورو) میں شہری طغیانی آسکتی ہے۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی سندھ حکومت بارش کے بعد طاقت پانی نکالنے میں لگانے کی بجائے اپنی نااہلی چھپانے میں وقف کرتی رہی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب گراؤنڈ پر نظر آئے اور ان علاقوں کی اپڈیٹ جاری کرتے رہے جہاں سے پانی کی نکاسی ہو چکی۔

 

مزید پڑھیں: 78 واں یوم آزادی؛ قربانی والی نسل سے باجے بجانے والی نسل تک کا سفر

 

میئر کراچی سے شہری ناخوش:

 

تاہم شہریوں نے میئر کراچی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موصوف صرف ان علاقوں میں پہنچ جاتے جہاں سے پانی نکل جاتا ہے ۔ لیکن جن علاقوں سے پانی نہیں نکل پارہا وہاں میئر کی نظر نہیں جاتی۔

ایسی ہی ایک ٹویٹ پر صارف نے سوال اٹھایا کہ بارش ہوجائے شہر ڈوب جائے پھر پانی خود نکل جائے تباہی پھیرنے کے بعد تو کریڈٹ لینے موصوف پہنچ گئے کہ دیکھو ہم نے پانی نکال دیا ۔

شہری نے سوال اٹھایا کہ پانی تو بونیر سے اور سوات سے بھی نکل گیا پانی کو بھلا کون روک سکتا ہے بہنے سے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بارش میں شہر ڈوبتا ہی کیوں ہے؟

کیونکہ اس شہر کو آب نکاسی کا سسٹم نہیں دیا جارہا ؟ کیوں اس شہر کی زرخیز زمینوں پر جہاں پانی جذب ہوتا ہے وہاں سوسائٹیاں بننے دی جا رہی ہیں۔”

اب معلوم ہوتا ہے کہ میئر کراچی کی بھی بس ہو گئی ہے۔ وہ ہر نیا سپیل شروع ہونے کے بعد ٹویٹر پر ہاتھ جوڑ کر عوام سے گزارش کرتے کے غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

ساتھ ہی وہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر نہ گھبرانے کے مشورے دیتے بھی نظر آتے ہیں ۔

لیکن میئر کراچی کی اس بات کو نظر انداز کر کے گھبرانا تو بنتا ہے۔

 

لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کا برا حال، کے الیکڑک کی سب اچھا ہے کی رپورٹ:

 

دوسری جانب بجلی کی بندش سے شہریوں کا برا حال ہے۔ کئی علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی نہ ہونے سے معاملات زندگی جمود کا شکار ہیں۔

شہریوں کی جانب سے بجلی کی بندش پر دہائیاں دی جارہی ہیں جبکہ کے الیکٹرک اس معاملے پر مکمل پرسکون دکھائی دے رہی ہے۔

کے الیکٹرک کے سپوک پرسن نے آج دن بارہ بجے اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی جاری کی جس میں انہوں نے بجلی کی سپلائی معمول کے مطابق ہونے کا دعویٰ کیا۔

لیکن انہوں نے اس دعوے کو جھٹلانے کیلئے اپنا کمنٹ سیکشن آف کردیا۔

 

سندھ حکومت کیلئے نئی وراننگ:

 

 

کراچی کا مسئلہ گھمبیر تر ہوتا جارہا ہے، لیکن سندھ حکومت کی روش وہی پرانی ہے۔

لیکن اگر یہ پرانی روش نہ چھوڑی گئی تو خدانخواستہ بڑا نقصان اٹھایا جاسکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ جیسی موسمیاتی تبدیلیوں نے کراچی کے باسیوں کیلئے مزید پریشانی کا سامان پیدا کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارش کی پیشگوئی اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

اس وارننگ کے بعد حکومت سندھ کو اپنی طاقت بارشی پانی کی نکاسی میں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ ناں کہ اپنی ناقص پالیسیوں کے دفاع میں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button