Techسائنس اور ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت پر مبنی دنیا، فوائد، نقصانات اور مستقبل

مصنوعی ذہانت پر مبنی دنیا کیسے ہماری زندگی بدل رہی ہے؟ جانیں اس کے حیران کن فوائد، نقصانات اور مستقبل کے امکانات۔

مصنوعی ذہانت اب کوئی سائنسی فکشن نہیں رہا، یہ 21 ویں صدی کی تعین کرنے والی قوت ہے۔  

تعلیم ، صحت، کاروبار، روز مرہ کے کام سے لیکر  ریاست و حکومت کے معامالت چالنے تک اب کچھ بھی  مصنوعی ذہانت سے بعید نہیں ہے۔  

لیکن ماہرین اس کو دو دھاری تلوار سے تشبیہ دیتے ہیں۔  اسے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہوئے یہ دھیان بھی رکھنا  ہے کہ ہم اپنا نقصان ہی نہ کر بیٹھیں۔ 

مصنوعی ذہانت کے فوائد: 

جدید دنیا میں مصنوعی ذہانت کو تیز ترین ترقی کے  ٰی چند مضبوطضامن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یہ دعو بنیادوں پر کھڑا ہے جو درج ذیل ہیں:  

بے مثال کارکردگی سے نہ رکنے والی پیداواری صالحیت تک :  

مصنوعی ذہانت کی مدد سے صرف چند سیکنڈز بھی بڑے  بڑے ڈ یٹا سیٹ کو پراسس کر کے نتیجے تک پہنچنا ممکن  ہو رہا ہے۔  

اس مدد نے انسانی کام اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ اب انسان  اس سے بچنے والے وقت کو دیگر فکری سرگرمیوں میں  ی درجے کاٰصرف کر کے پیداواری صالحیت میں اعل اضافہ کر رہا ہے۔  

اسی طرح مصنوعی ذہانت سے روزمرہ کے بار بار  دہرائے جانے والے کام خود کار طریقے سے ممکن ہو  رہے ہیں۔

ریسرچ کی دنیا میں اس نے رسمی کاموں کو چند منٹوں  میں سرانجام دے کر جلد نتائج تک پہنچنے کے قابل بنا دیا  ہے۔  

یوں طب سمیت دیگر شعبوں میں اب جلد نتائج حاصل ہو  رہے ۔ یہ طب کے شعبے میں انقالب کی عالمت ہے۔ 

خطرناک کاموں کی انجام دہی سے جدید سیکورٹی تک:  

مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس بہت سے ایسے خطرناک  کام بھی باآسانی کر پارہے ہیں جو انسانی جان خطرے میں  ڈال دیتے ہیں۔ جیسا کہ کان کنی ہو یا تعمیرات کا شعبہ ہو یا  کسی حد تک جوہری شعبہ بھی۔ 

اسی طرح سائبر سیکورٹی اور دیگر حساس مقامات جیسا  کہ ایئرپورٹ وغیرہ پر اے آئی کی مدد سے سکریننگ سے  ایسے خطرات بھانپ لئےجاتے جو عام انسانی صالحیت  سے سامنے نہیں آسکتے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 5 بہترین ٹیک بزنس آئیڈیاز

مصنوعی ذہانت اور نقصانات کی دنیا: 

چند اخالقی، معاشرتی اور سیکورٹی مسائل کے باعث  مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئے آزاد ی کو خطرے کی نگاہ  سے بھی د یکھا جارہا ہے۔ 

مالزمتوں کے ختم ہونے سے معاشی عدم مساوات کا سفر: 

اے آئی کی مدد سے آٹومشین ممکن ہورہی ہے لیکن یہ  مزدور طبقے کے ساتھ پڑھے لکھے اور پیشہ ورانہ  سرگرمیاں انجام دینے والوں کی نوکریاں بھی خطرے میں  ڈال رہا ہے۔ 

یہ طبقہ جس نظام تعلیم اور تربیت سے پرھ کر آگے بڑھا  ہے اسے نئے سرے سے سکلز سیکھنا بہت مشکل ہو جائے  گا۔ 

اس کے ساتھ ہی بڑی کمپنیاں تو اس سہولت سے فائدہ اٹھا  پائیں گیں لیکن چھوٹی کمپنیوں کیلئے ان جدید ٹولز پر آنے 

واال خرچ برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ نتیجتاً معاشی عدم مساوات جنم لے گا۔ 

ڈیپ فیک اور پرائیویسی کے خطرات : 

جہاں یہ ٹولز آپکی تصاویر کو بہترین بناتے اور آپکے ڈیٹا  کو منٹوں میں پراسس کر رہے ہیں وہیں یہ آپ کی  پرائیویسی کیلئے بھی شدید خطرہ بن رہے ہیں۔ 

ڈیپ فیک کی مثال لے لی جائے تو یہ حقیقی اور مصنوعی  ذہانت پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز کے درمیان کا فاصلہ  ختم کر رہا ہے۔ 

اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز بار ہا اپنی اخالقی حدوں  کا جائزہ پیش کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہی  ٹولز کے استعمال سے غیر اخالقی مواد بھی بنایا جارہا ہے۔  

جس تیزی سے یہ غیر اخالقی مواد جنم لے رہا ہے ، اس  کے اخالقی پہلوؤں پر اس تیزی سے کام نہیں ہورہا جو  شخصی وقار کے خالف ہے۔

مستقبل کی دنیا، مصنوعی ذہانت کی دنیا: 

مصنوعی ذہانت کا مستقل پیشن گوئی کے قابل نہیں۔ یہاں  ماہرین کے پاس بھی صرف قیاس آرائیاں اور مفروضے  ہیں۔ 

اس لئے اس کے مستقبل سے متعلق ٹیکنالوجی کے ناقدین  اور حمایتیوں کے درمیان ویسے تقسیم پائی جاتی ہے۔  

ان دو گروپوں کے اپنے اپنے تحفظات اور دالئل ہیں، لیکن  دونوں جس بات پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ مستقبل کی دنیا  مصنوعی ذہانت کی دنیا ہے۔  

مشترکہ خدشات اور امید پسندی: 

جہاں دونوں دھڑے اس بات پر متفق ہیں کے آنے واال دور  مصنوعی ذہانت کا دور ہے، امید پسندی میں فرق دیکھنے  کو مل رہا ہے۔

امریکہ پر کی گئی ایک ریسرچ میں 56 فیصد ماہرین اے  آئی کے مثبت اثر سے متعلق قائل نظر آئے۔ اسی طرح 17  فیصد اس رائے سے اختالف کرتے نظر آئے۔ 

تاہم ذاتی کنٹرول سے لیکر حکومتی کنٹرول تک کے  معامالت میں دونوں دھڑے مشترکہ خدشات رکھتے ہیں اور  زندگی کے چند شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے کنٹرول پر  عدم اعتماد کرتے ہیں۔ 

اے آئی یا اسلحہ اور سائبر سکیورٹی کی جنگ:

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دور کا اسلحہ مصنوعی  ذہانت ہو گا اور اسے کے وار بہت خطرناک ہونگے ۔  دونوں فریقین کو علم نہیں ہوگا کہ اگال پتہ کیا ہوگا اور یہ  جنگ سنگین ہو گی۔ اسلئے دفاع بھی مشکل ہو گا۔ 

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہاں انسان بصیرت کا زیادہ عمل  دخل ہوگا کیونکہ اگر مصنوعی ذہانت کا اسلحہ کنٹرول سے  باہر ہوا تو ی ہ اپنے پرائے کا فرق نہیں کر پاتا۔

حتمی دلیل:

مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق قبل اس وقت رائے  دنیا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس کے حتمی اثرات کیلئے چند  عوامل پر اندرونی اور بیرونی سطح پر ایک ہونا پڑے گا۔  

ان میں پرائیویسی سے متعلق قوانین ترتیب دینا اور ان پر  عمل کرانا اور اخالقی مسائل پر احتسابی ڈھانچے کا قیام  شامل ہے۔ 

اس سے وہ مستقبل تشکیل پائے گا جس میں انسانیت اپنی  سب سے طاقتور تخلیق ) مصنوعی ذہانت ( سے مل کر  آگے بڑھے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button