اسلامی تعلیمات اور نئی نسل: راہنمائی یا بے ربطی
نئی نسل کی کردار سازی، روحانی ترقی اور معاشرتی فلاح کے لیے اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور ان کے عملی نفاذ کا جامع تجزیہ

فیس بک پر ایک نوجوان کی پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس نے لکھا کہ اسے ایک دینی موضوع پر کچھ حوالہ جات درکار تھے اور اس کیلئے اس نے چیٹ جی پی ٹی کو چند لنک اور کتاب کا بتاتے ہوئے حوالے تلاش کرنے کا ٹاسک دیا۔ چیٹ جی پی ٹی حوالے نکال لایا اور ساتھ صفحات بھی بتائے کہ کتاب کے فلاں صفحے پر فلاں حوالہ درج ہے۔ اب نوجوان نے وہ صفحہ کھولا لیکن حوالہ نہ ملا۔ پھر اس نے پڑھتے پڑھتے کتاب پڑھ ڈالی لیکن اسے وہ حوالہ نہ ملا۔
یہ نوجوان نئی نسل کا وہ نوجوان ہے جو کہ تحقیق کرنے کیلئے نکلا ہے لیکن اسے سیر حاصل معلومات میسر نہیں آئی۔اسی نوجوان کی نسل کا ایک اور طبقہ بھی ہے جو کہ سرے سے دین پر عمل کرنے سے ہی انکاری ہے اور اپنے آپ کو فخریہ انداز میں ملحد کہتا ہے۔
یہ گفتگو اس بحث کو ایک بار پھر تقویت دیتی ہے جس میں سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور عمل کرنے میں نئی نسل کا نوجوان راہنمائی کی طرف جا رہا ہے یا بے ربطی کی طرف۔ 21 ویں صدی کا مسلمان نوجوان تاریخ کے ایک منفرد موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس اس کا واسطہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول سے پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ عجب بے چینی کا شکار ہے۔
بالخصوص جنریشن زی اور جنریشن الفا کے نوجوان جو کہ ہر چیز کے جواب کیلئے ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتے ہیں جب اسلامی تعلیمات کیلئے اس کا استعمال کرتے ہیں تو ان کا ذہن الجھاؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سب کو اپنی رائے دینے کی آزادی ہے اور جہاں معتبر دینی ذرائع موجود ہیں وہیں غیر تصدیق شدہ اور غیر معتبر ذرائع بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں جو نوجوانوں کو غیر مربوط روحانی سفر کی طرف گامزن کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عصر حاضر میں نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کو درپیش مسائل
جدید دور کے مسلم نوجوان اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کیللئے فکری اور عملی طور پر بے ربطی کا شکار ہیں اور نہیں درجنوں مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں۔
مسلم شناخت کی تشکیل:
آج کا مسلم نوجوان بالخصوص مغربی ممالک میں مقیم نوجوان اپنی مسلم شناخت بنانے ، اسے مکمل طور پر اپنانے اور اسے زندگی کا اصول بنا لینے میں مشکلات کا شکار ہے۔
مغربی ممالک میں مکین مسلمان نوجوان دو طرفہ کشمکش کا شکار ہوتا ہے۔ ایک طرف اس پر جس ملک کا مقیم ہے اس کی ثقافت اپنانے کا دباؤ ہوتا ہے اور دوسری طرف خاندان اور دینی ضروریات کے مطابق مسلم اقدار کو برقرار رکھنا۔
وہ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکال پاتا تو درمیان میں لٹکا سا رہتا ہے اور مسلم شناخت کو مکمل طور پر اپنا کر اسے طرزِ زندگی نہیں بنا پاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی مختلف تعبیرات؛ قدامت پسند اور ترقی پسند کی بحث:
اسلامی تعلیمات ہر دور کے مسلمان کیلئے ایک طرز حیات کا کام کرتی ہیں لیکن مغرب اور بعض اوقات مسلمانوں کے اندر سے بھی ایسا اختلاف پیدا ہوتا ہے جس کی بنا پر اسلامی تعلیمات کی مختلف تعبیرات کی جاتی ہیں۔
اس میں سے ایک بڑی بحث قدامت پسندی اور ترقی پسندی کی ہے۔
قدامت پسند روایات کے امین اس بار پر زور دیتےہیں کہ اسلامی تعلیمات پر من و عن اس طرح ہی عمل کیا جائے جیسا کہ ابتداء اسلام اور احکامات کے نزول کے وقت ہوتا تھا ۔
جبکہ ایک ترقی پسند یا لبرل نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اکیسویں صدی کےمطابق مختلف احکامات پر اجتہاد کیا جائے۔
ان مسائل کا حل دینی طور میں اجتہاد کے ذریعے ممکن ہوتا ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات کے حساب سے رہنمائی مہیا کی جاتی ہے۔
نئی نسل اس بحث سے کسی طور نہیں نکل پاتی ہے اوربے ربطی کا شکار رہتی ہے۔
اسلامی تعلیمات: بے ربطی سے راہنمائی تک کا سفر:
اسلامی تعلیمات میں عصر حاضر کے مسائل کا سیر حاصل جواب موجود ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
بس سمجھنےمیں کمی کوتاہی ہو سکتی ہے جسے ذیل میں چند مثالوں کے ذریعے واضح کیا جائے گا۔
جدید دور کے نوجوانوں کے مسائل اور اسلامی تعلیمات بطور رہنما:
آج کے نوجوان کا ایک بڑا مسئلہ چند نفسیاتی الجھنیں اور دیگر نفسیاتی بیماریاں ہیں۔
نفسیاتی الجھنوں کی بات کر لی جائے تو ایک نوجوان جب اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے تو وہ روح کی سطح تک تسکین پاتا ہے۔
خدا پر یقین کامل رکھنے والا نوجوان کبھی ذہنی صحت کی خرابی کا شکوہ نہیں کرے گا۔
اسی طرح اللہ پر توکل اسے حسد، کیرئیر کی پریشانی اور مایوسی جیسی بیماریوں سے نجات عطاء کرے گا۔
اسلامی تعلیمات پرعمل کرنے والا نوجوان بطور ذمہ داری شہری:
اسلامی تعلیمات کو اپنا طرز حیات یا لائف سٹائل بنا لینے والا نوجوان کسی بھی معاشرے میں قیام پذیر ہو وہ اس معاشرے کا اثر قبول کرنے کی بجائے خود اس معاشرے پر اثر چھوڑے گا۔
مثال کے طور پر اسلامی تعلیمات میں صفائی مومن کا نصف ایمان بتایا گیا ہے۔ اب کوئی نوجوان جب اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی صفائی اور اپنے اردگرد کی صفائی میں کردار ادا کرے گا تو وہ چاہیے غیر مسلم معاشرے کا مقیم ہو، قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
یہی نوجوان اگر اسراف سے متعلق دینی احکامات پر عمل کرے گا تو یہ پانی کے بچاؤ میں ذمہ درارانہ کردار ادا کرے گا جبکہ ماحول دوست سرگرمیوں کو حصہ بھی رہے گا۔
یوں بس اسلام کو طرز حیات بنانا ہی اسے معاشرے کا کارآمد شہری بنا دے گا۔
ماحصل :
جنریشن زی ہو، جنریشن الفا ہو یا کسی اور نسل کا مسلم نوجوان، وہ اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوگا کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے کیونکہ یہ اس کے ایمان کا بنیادی نقطہ ہے۔
اب مسئلہ اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا ہے جس کا اسے سیر حاصل جواب چاہیے ہوتا ہے۔
سوال کو علم کی کنجی کہا گیا ہے اس لئے اگر ایسے نوجوان کو کسی صاحبِ علم کی صحبت میسر آ جائے تو اسے سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔ وہ اسلامی تعلیمات کو ہر دور میں مشعلِ راہ بنا لے گا۔
اس کے برعکس اگر اسے ان سوالات کا جواب نہ مل سکے اور وہ کسی کم علم شخص کی صحبت سے اپنے سوالات کے جوابات پانا چاہے تو وہ بے ربطی کا شکار رہے گا۔