کھیل

شکست دینے کے بعد انڈیا چیمپئنز ٹرافی فائنل بھی دبئی لے گیا

ایونٹ سے باہر ہونے کے بعد شائقین کی خواہش باقی تھی کہ کاش وہ فائنل اپنی سرزمین پر دیکھ سکیں پر ایسا نہ ہو سکا۔

گزشتہ سال سے ہی پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی 2025  کو لے کر جوش ہو جنون پایا جارہا تھا ۔

اس بار میزبانی ہمارے ذمے تھی اور اپنے ہوم گراؤنڈ پر سٹار کرکٹرز کو کھیلتے دیکھنا ایک بہت اچھا تجربہ ہوتا ہے۔

پاکستان نے سٹیڈیمز کی تعمیر نو  کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹرز اور شائقین کیلئے کئی اقدامات بھی کر رکھے تھے۔

اس سلسلے میں پہلا دھچکا پاکستان کو تب لگا جب تمام تر کوششوں کے باوجود انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد انڈیا کے میچز دبئی منتقل ہو گئے اور پاکستانی شائقین کا دل ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد امید کی جارہی تھی کہ پاکستان انڈیا کو دبئی میں شکست دے گا اور وہیں سے وہ ایونٹ سے باہر ہو کر واپس چلے جائیں گے۔

لیکن ہوا اس کے برعکس اور انڈیا نے ہمیں شکست دے کر اپنے ملک دوبارہ واپس بھیج دیا۔

اس کے بعد ایک کسک اور باقی تھی کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست پا کر انڈیا ایونٹ سے باہر ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

 

مزید پڑھیں:ہائبرڈ ماڈل چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کا انڈیا کو کیا فائدہ ہوگا؟

 

انڈیا چیمپئنز ٹرافی فائنل دبئی لے گیا:

 

آسٹریلیا کو شکست دے کر انڈیا تو فائنل میں پہنچ گیا اور اب دوسرا سیمی فائنل نیوزی لینڈ جیتے یا جنوبی افریقہ، پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کا سفر تمام ہو جائے گا اور چیمپئنز ٹرافی فائنل میں کھیلا جائے گا۔

سیمی فائنل میں ایک بار پھر ذمہ درانہ اننگز کھیلتے ہوئے ویرات کوہلی نے 84 رنز کے وننگ اننگز کھیل کر نہ صرف ٹیم کو فائنل تک پہنچایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ لمبے عرصے تک کرکٹ کھیلنے اور کئی بار آؤٹ آف فارم جانے کے بعد بھی وہ کم بیک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں آخری میچ، پی سی بی شائقین کو افطار دے گا

 

دوسری جانب نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے دوسرے اور حتمی سیمی فائنل میں بدھ 5 مارچ کے روز شائقین کرکٹ کو پی سی بی کی جانب سے افطار مہیا کیا جائےگا۔

میچ دیکھنے کیلئے پہنچنے کے بعد شائقین کرکٹ اپنا اصل ٹکٹ دکھا کر کھجور، جوس اور منی پیزا پر مششمل افطار باکس حاصل کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ شائقین کو سٹیڈیم کے اندر موجود فوڈ سٹالز پر کھانے پینے کی دیگر اشیاء بھی میسر ہوں گے۔

اس سہولت کا مقصد یہ ہے کہ شائقین اپنے ہوم گراؤنڈ پر مہمان ٹیموں کو اچھا تجربہ اور سپورٹ فراہم کرنے کے ساتھ روزے کے فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی سستی نہ برتیں۔

دوسرا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے شروع ہو گا اور افطار کا وقت تقریباً 6 بج کر 5 منٹ ہوگا۔

 

پاکستان کی طرز میزبانی پر سوالات اٹھنے لگے :

 

دوسری جانب شائقین کرکٹ نے سوالات اٹھانے شروع کر دیئے کہ یہ کیسا طرز میزبانی ہے کہ انڈین میڈیا اپنی  مرضی سے جیسے چا رہا ہے، ایونٹ چلا رہا ہے۔

شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ ایسے طرز میزبانی سے اچھا تھا کہ ایونٹ کسی نیوٹرل وینیو پر ہوتا۔ اس سے میچز پروٹوکول کے باعث اذیت جھیلنے والے پاکستانیوں کی تکلیف میں کچھ کمی ہوتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button