کھیل

سابق کرکٹر محمد حفیظ کا ’اووو، اووو‘ احتجاج

 پچھلے کچھ دنوں سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس طرزِاحتجاج کو اپناتے ہوئے اپنے مسائل کے خلاف اپنی اپنی آوازیں بلند کی ہیں۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کے جاپانی طرزِ احتجاج ’اووو، اووو‘ کا حوالہ دینے کے بعد سے یہ احتجاج پورے ملک بھر میں کافی مشہور ہو رہا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس طرزِاحتجاج کو اپناتے ہوئے اپنے مسائل کے خلاف اپنی اپنی آوازیں بلند کی ہیں۔

اب کی بار سابق کرکٹر محمد حفیظ بھی اس احتجاج کا سہارا لیکر خود کو اس فہرست اور ٹرینڈ میں میں شامل کرلیا ہے۔

 

شہباز شریف نے جاپانی طرز احتجاج پاکستان میں متعارف کرا دیا:

 

تفصیلات کے مطابق ، وزیراعظم شہباز شریف نے ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کی تقریب میں جاپانی طرز کے احتجاج کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جاپان میں لوگ ’’اووو، اووو‘‘ کر کے اپنے مسائل پر احتجاج کرتے ہیں، جس کے بعد یہ احتجاج پاکستان میں بھی کافی مقبول ہو گیا ہے ۔

کراچی کے تاجروں نے بھی وزیراعظم کے شہر میں موجود ہونے کے باوجود انہیں نظر انداز کرنے پر ’’اووو، اووو‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ناراضی ظاہر کی۔

اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس ٹرینڈ کو اپناتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہےہیں جسے بہت پسند کیا جارہا ہے۔

 

مزید پڑھیں:فخر زمان واپس آرہا ہے

 

محمد حفیظ بھی اوو کر کے احتجاج کرنے لگے:

 

اسی ٹرینڈ کے پیش نظر محمد حفیظ نے بھی اپنا منفرد احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ’’اووو، اووو‘‘ لکھ کر ڈومیسٹک کرکٹ کی حالتِ زار پر آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

حفیظ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ مختلف ہیش ٹیگز کا استعمال بھی کیا جن میں ’پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ‘، ’پریزیڈنٹ ٹرافی‘ اور ’ڈیپارٹمنٹ کرکٹ‘ شامل ہیں۔ جس سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے مسائل اور حکومتی توجہ نہ ملنے پر شدید ناراض ہیں۔

محمد حفیظ کی یہ پوسٹ پورے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد صارفین کی جانب سے بھی منفرد ردعمل سامنے آئے۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’مسٹر پروفیسر! ہو سکتا ہے کہ اب آپ کے احتجاج پر غور کیا جائے کیونکہ آپ نے بالکل صحیح طریقہ اپنایا ہے۔

کئی دوسرے صارفین نے بھی ان کے احتجاج کو خوب سراہا اور ان کی اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈومیسٹک کرکٹ واقعی نظرانداز ہو رہی ہے اور حکومت کو اس کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیئے۔

 

خاموش احتجاج اور احتجاج کو خاموش کرانے کی بحث:

 

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے جب یہ احتجاج کا طریقہ متعارف کرایا گیا تو ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

یہ بحث خاموش احتجاج اور احتجاج کو خاموش کرانے سے متعلق تھی۔

عوام کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بیرون ملک کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن وہاں اگر ایسا احتجاج ہوتا ہے تو یہ خاموش احتجاج ہے۔ لیکن دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں احتجاج کو بطورِ طاقت کچلا نہیں جاتا۔

پنجاب حکومت ہو یا وفاقی حکومت، احتجاج کرنے والی کوئی سیاسی جماعت ہو یا کوئی اور طبقہ ، احتجاج کے حق کو دبایا جارہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button