
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو واحد ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔ 2021 میں پاکستان میں اس وائرس کے خاتمے کی امید اس وقت نظر آئی جب پورے سال میں اس کا ایک کیس رپورٹ ہوا۔
یہ امید 2022 اور 2023 کے دوران برقرار رہی، جب بالترتیب 20 اور 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ رجحان 2024 کی پہلی ششماہی تک جاری رہا، جب جولائی تک صرف 9 کیسز رپورٹ ہوئے؛ مگر پھر وائرس نہ صرف واپس آیا بلکہ شدت اختیار کر گیا۔
اگست سے لے کر اس کی گنتی 7، 8، 19، 13 اور 12 اور یوں سال کے اختتام تک اس کے 68 کیسز رپورٹ ہوئے۔ لیکن 2024 کی گنتی میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ اس سال جمع کیے گئے نمونے ابھی تک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) میں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا، گزشتہ سال کے حتمی اعداد و شمار جنوری کے چند ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔
اب تک سامنے آنے والے 68 کیسز میں سے 27 بلوچستان سے، 20 خیبر پختونخوا سے، 19 سندھ سے، اور ایک ایک کیس پنجاب اور اسلام آباد سے رپورٹ ہوئے۔
اضلاع کے لحاظ سے، سب سے زیادہ 10 کیسز ڈیرہ اسماعیل خان سے رپورٹ ہوئے، اس کے بعد 7 کیسز قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوئے ۔دسمبر کے آخری دو ہفتوں میں جمع کیے گئے نمونوں کے نتائج ابھی باقی ہیں۔
مزید پڑھیں:وہ پانچ کھانے کی چیزیں جو آپکو بچوں کیلئے گھر نہیں لانی چاہیں
پولیو وائرس کے خاتمے کے بڑے چیلنجز میں ویکسین لینے سے انکار، ڈیٹا کی جعلسازی، اور ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے شامل ہیں، جو اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا ہونے سے روکتے ہیں۔
وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو، عائشہ رضا فاروق نے ڈیٹا کی جعلسازی کو بھی ایک بڑی وجہ کے طور پر بتایا، کیونکہ کئی کیسز میں بچوں کی انگلیوں پر ویکسین دیے جانے کا نشان لگایا جاتا ہے، حالانکہ انہیں ویکسین نہیں دی جاتی۔
"