اہم خبریںپاکستانسیاست

ہائبرڈ نظام اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز: ایک آئندہ محاذ !

قانونی اور صحافتی حلقوں کے نزدیک ہائبرڈ نظام کا اگلا ٹارگٹ اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز ہیں۔

خط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے  ججز ایک بار پھر زیر عتاب آنے کی پیشن گوئیاں جاری ہیں۔

ان پیش گوئیوں نے اس وقت جنم لیا جب چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 12 جولائی کو طلب کیا۔

اس کےبعد چہ مگوئیاں شروع ہوئیں کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان ججز کو سپریم جوڈیشل کونسل کی شکایات کی آڑ میں عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان ججز کے خلاف سنیارٹی کیس کا فیصلہ بھی ان ججز کے خلاف آچکا ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہو کر آنے والے جسٹس سرفراز ڈوگر چیف جسٹس بن چکےہیں۔

خط لکھنے والے ان ججز سے عدالتی امور کے کی انتظامی عہدے بھی واپس لے لئے گئے ہیں۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ میں اس حوالے سے ایک حیران کن واقعہ بھی پیش آیا جب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن اور سینئر وکیل احسن بھون اور اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

کورٹ رپورٹر احتشام کیانی کے مطابق احسن بھون نے عدالت میں کہا کہ کیس میں تو آج التواء ہی لینا تھا میں اس لیے آیا ہوں کہ جج صاحب کو دیکھ آؤں کہ کیا چل رہا ہے۔

اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ آخری چند دنوں کیلئے جو ہیں اُن کو دیکھ آئیں۔

اس پر وکیل احسن بھون نے کہا کہ میرا یہ مقصد نہیں تھا لیکن سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ بھون صاحب آپ مجھے آخری بار عدالت دیکھنے آئے ہیں آپکا بہت شکریہ۔

 

خط لکھنے والے ججز ہائبرڈ نظام کا اگلا نشانہ:

 

صحافی اور کورٹ رپورٹر وسیم ملک نے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ 12 جولائی کے کونسل اجلاس میں تو نہیں مگر آئین کے تابع ججز کو سبق سکھانے کا نہ صرف فیصلہ ہوچکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے وہ پانچ ججز جنہوں نے عدالتی خودمختاری پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی دراندازی کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اس سازش سے سپریم جوڈیشل کونسل، ساتھی ججز اور عوام کو برملا آگاہ بھی کیا، اب ہائبرڈ نظام کی زد پر ہیں۔

 

مزید پڑھیں: قائمقام چیف جسٹس کے اختیارت میں مزید کمی، جسٹس منصور نشانہ؟

 

صحافی وسیم ملک نے مزید لکھا کہ یہ بات بھی کسی راز کی محتاج نہیں کہ ان ججز کے خلاف پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایات دائر کر چکے ہیں۔ یہ شکایات سراسر بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور سیاسی ایجنڈے کے تابع ہیں۔

 

کیا سپریم جوڈیشل کونسل ان پانچ ججز کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے؟

 

اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین میں جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جنید غفار شامل ہیں۔

بظاہر ان اراکین سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ 12 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل یہ درخواستیں خارج کر دے گا۔

مگر خطرہ یہاں نہیں، خطرہ آگے ہیں۔ قانونی ماہرین اور صحافی برادری کا خیال ہے کہ متوقع 27 ویں ترمیم میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں کچھ ایسی شقیں ڈالیں جائیں گے جس سے سپریم کورٹ کے طرز سے سپریم جوڈیشل کونسل پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

اگر ہائبرڈ نظام ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اس سے یقیناً ان پانچ ججز کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا اور ان کے پاس استعفیٰ یا پھر برطرفی کے علاوہ تیسرا آپشن نہیں بچے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button