ایلون مسک کی ٹیکنالوجی نے 8 سال سے مفلوج نوجوان کی زندگی بدل ڈالی
چپ نصب ہونے کے بعد اب نولینڈ اپنی سوچ کی مدد سے کمپیوٹر سکرین کنٹرول کرنے کی قابل ہو گئے ہیں اور وہ اس عمل کو لے کر بہت پر جوش بھی ہیں۔

یہ آٹھ سال قبل کے بات ہے نولینڈ آرباؤ نامی نوجوان دوستوں کے ساتھ تیراکی کر رہا تھا جہاں سوئمنگ کے دوران ایک حادثے میں ان کا جسم مفلوج ہو گیا۔
تقریباً ڈوبے ہوئے اس نوجوان کو بروقت ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچا کر جان تو بچا لی گئی لیکن گردن کی ہڈیوں کے مہرے ختم ہونے کی وجہ سے اس کا جسم مفلوج ہو گیا تھا اور اب اسے اسی کےساتھ رہنا تھا۔
رواں سال جنوری میں8 سال سے مفلوج نولینڈ کو اس تکلیف سےنجات کا ایک موقع تب ملا جب ایلون مسک کی ٹیکنالوجی کمپنی نیورالنک نے ایسی چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا جس کی مدد سے مفلوج انسان صرف اپنی سوچ کی مدد سے آلات کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
ایلون مسک کی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے والا پہلا انسان:
نولینڈ وہ پہلے انسان تھے جن پر کلینکل ٹرائل کے طور پر یہ چپ انکے دماغ میں بذریعہ سرجری ایمپلانٹ کی گئی۔
چپ نصب ہونے کے بعد اب نولینڈ اپنی سوچ کی مدد سے کمپیوٹر سکرین کنٹرول کرنے کی قابل ہو گئے ہیں اور وہ اس عمل کو لے کر بہت پر جوش بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نےاس کیلئے اپلائی کیا تھا تو وہ پر امید نہ تھے کہ انہیں چنا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کے دل میں کچھ وسوسے بھی تھے کیونکہ وہ پہلے انسان تھے جو اس سرجری میں جا رہے تھے۔
مزید پڑھیں: دماغ کو کنٹرول کرنے والی ایلون مسک کی ٹیکنالوجی کیا ہے؟
جہاں وہ کامیاب آپریشن کے بعد اپنی زندگی میں بدلاؤ محسوس کر رہے ہیں، وہیں اس بات کاخطرہ بھی برقرار تھا کہ اگر یہ سرجری ناکام ہوتی ہے تو وہ اپنے خاندان پر مزید بوجھ بن جاتے۔
اگرچہ اس ڈیوائس کو انسانوں پر ٹیسٹ کرنے سے قبل بندروں پر بھی چیک کیا گیا تھا تاہم اب بھی چند ماہرین اس چپ کو انسانی ذہن میں نصب کرنے پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ طویل مدت میں یہ خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔
تاہم نولینڈ اس سرجری کے بعد مطمئن دکھائی دیتے ہیں اور وہ پرجوش ہیں کہ وہ اب مفلوج زندگی سے نارمل زندگی کی طرف آرہے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے ناقد کیا کہتے ہیں؟
یہ چپ اب انسٹالیشن کی طرف جا چکی ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں لیکن ناقدین اس کے کئی اخلاقی پہلو سامنے لاتے ہوئے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
نیورو سائنس کے ایک پروفیسر نے اس کی اخلاقی پہلو پر نظر ڈالتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ اس میں سارا مسئلہ رازداری کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی چیز کو سر کے اندر تک کی رسائی دے رہے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہے کہ اب کچھ راز نہیں بچتا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں یہ سب کچھ اب راز نہیں رہا ہے۔
لیکن اس سرجری سے گزرنے والے نولینڈ ان اخلاقی پہلوؤں کو بھاؤ نہیں دیتے ہیں۔ ان کی نزدیک زندگی کی طرف واپس آنا اہم تھا اور اب وہ اس ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
One Comment