اہم خبریںسیاست

عمران خان کو "احتجاجی راہ” کی بجائے "سیاسی راہ” اپنانے والوں کے مشورے غلط ثابت

آئینی بینچ نے سویلینز کا ملٹری ٹرائل درست قرار دیا۔ مخصوص نشستوں کا کیس کا فیصلہ بدل ڈالا اور سیٹیں دوسری جماعتوں میں تقسیم کر دیں۔

پیٹرن انچیف و بانی تحریک انصاف عمران خان نے جب مزاحمت کی راہ اپنائی تو انہیں سیاسی، قانونی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے یہ مشورے دیئے جانے لگے کہ وہ مزاحمت نہیں سیاست کی راہ اپنائیں۔

ان مشورے دینے والوں نے جمہوریت کے راگ الاپے، گزشتہ ادوار میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی باتیں کی اور کسی نے سیاسی جماعتوں کے نعرے جیسا کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے” یا "ووٹ کو عزت دو” جیسی باتیں کیں۔

لیکن حالات نے ان تمام سیاست کی راہ اپنانے کے مشورے دینے والوں کو غلط ثابت کیا۔

نہ صرف غلط ثابت کیا بلکہ کئی مواقع ایسے بھی آئے جب جمہوریت اور سیاسی راہ کے راگ الاپنے والوں کو جمہوری قوانین کی پاسداری کے مواقع میسر آئے لیکن انہوں نے اس سے انحراف کر کے اپنے جمہوری ہونے کے دعوؤں کو رد کر دیا۔

 

عمران خان کو سیاسی راہ میں مشکلات:

 

عمران خان نے وفاق سے حکومت جانے کے بعد اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جب خیبرپختونخوا اور پنجاب کی اسمبلی توڑی تو وہ امید کر رہے تھے کہ آئین کے مطابق 90 روز میں الیکشن ہوں گے۔

لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ وفاقی حکومت حتیٰ کہ الیکشن کمیشن اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی انتخابات کرانے سے متعلق حکم نامہ جاری کیا لیکن انتخابات نہ ہو سکے ۔

اس کے بعد جب وفاقی حکومت اپنی مدت کی تکمیل کے بعد ختم ہوئی اور اختیارات نگران حکومت کے سپرد ہوئے تو اسی سیٹ اپ کو چلانے کی باتیں ہونے لگیں۔

ایک بار پھر عمران خان عدالت گئے اور الیکشن کی تاریخ لے کر آئے۔

90 دن کی ڈیڈلائن کے بعد انتخابات ہوئے اور پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تقریباً سال ہونے کو تھا۔

لیکن ان انتخابات کیلئے جب عمران خان سامنے آئے تو پہلے انہیں پے در پے سزائیں دے کر نااہل کر دیا گیا۔ وہ سزائیں بعد میں چند دن بھی نہ ٹھہری اور کچھ ابھی عدالتوں میں زیرسماعت ہی نہیں آرہیں اگر آئیں تو ان کا بھی ویسا ہی حال ہو۔

اس کے ساتھ عمران خان کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا، امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔

 

مزید پڑھیں: پی ٹی ائی کو الیکشن ٹربیونل سے ناک اؤٹ کرنے کا مشن

 

اس کے باوجود عمران خان نے جمہوری جدو جہد جاری رکھتے ہوئے قوم کو الیکشن میں بھرپور طریقہ سے شریک ہونے کا پیغام دیا۔

الیکشن ہوا اور عمران خان کی پارٹی الیکشن کی رات تقریبا دو تہائی اکثریت کی پوزیشن میں سامنے آنے لگی۔

لیکن رزلٹ رک گئے، تبدیل ہوئے اور پھر پارٹی کو چند سیٹوں پر روک لیا گیا۔

اس کے باوجود عمران خان نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرتے ہوئے سیاسی راہ اپنائی اور قانونی طریقے سے دھاندلی کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن یہاں انہیں الیکشن ٹربیونلز سے انصاف نہ مل سکا۔

پارٹی سے نشان چھن جانے کے بعد مخصوص نشستیں چھن کر دوسری جماعتوں میں بانٹیں گئیں تو عمران خان نے پھر قانونی و سیاسی راہ اپنائی۔

سپریم کورٹ میں کیس لڑا، فتح پائی لیکن اس کی بجائے کے انہیں یہ سیٹیں ملتیں، ان کے پاس جو آخری راستہ تھا یعنی کہ عدلیہ، وہ بھی چھن گیا۔

26 ویں ترمیم ہوئی اور عدالتیں ہی بے اختیار ہو گئیں۔

نظام عدل روز بروز کمزور ہونے لگا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اندر عدالت لگ گئی۔

آئینی بینچ نے سویلینز کا ملٹری ٹرائل درست قرار دیا۔ مخصوص نشستوں کا کیس کا فیصلہ بدل ڈالا اور سیٹیں دوسری جماعتوں میں تقسیم کر دیں۔

عمران خان کو جس قدر جلدی میں سزائیں سنائیں گئیں اتنی ہی دیر سے ان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں عدالتوں میں پڑی ہیں لیکن انہیں مقرر ہی نہیں کیا جارہا۔

 

جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے غیر جمہوری رویے:

 

ملک میں آئین کے مطابق الیکشن نہ ہوئے، غیر آئینی ہتکھنڈوں سے آئینی ترمیم ہوئی، حکمران جماعت کو سپریم کورٹ ریگولیٹ کرنے کا موقع ملا ، ایک جماعت کی نشستیں دوسری جماعتوں میں بانٹی گئیں لیکن جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے کوئی رد عمل نہ دیا۔

ان کے کنڈکٹ نے واضح کیا کہ عمران خان اپنے مؤقف میں درست تھا اور سیاسی راہ اپنانے کی بجائے اب مزاحمت ہی واحد راستہ تھا۔

سنا ہے کہ احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرنے پر پنجاب اسمبلی کے اراکین کو نااہل کرانے کیلئے ملک کی بڑی جمہوری جماعت ہونے کی دعویدار حکومت کے سپیکر پنجاب اسمبلی پیش پیش ہیں۔

اگر یہ بھی ہو جاتا ہے تو کل کو یہ عمل جب دوسری جماعتوں کے خلاف استعمال ہوگا تو ہمارے جمہوری راگ الاپنے والے پھر سیاست کی راہ کے مشورے دینے کی بجائے مزاحمت کی راہ اپنانے کا مشورہ دیں گے کیونکہ اب باری ان کی ہو گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button