برف کے پہاڑ سے 28 سال بعد درست حالت میں لاش برآمد
مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ شخص 28 سال قبل پراسرار طور پر انہی پہاڑوں میں گم ہوگیا تھا۔ ممکنہ طور پر وہ گلیشیئر میں گر گیا تھا۔

کوہستان کے برفیلے اور سنگلاخ پہاڑوں سے تقریباً 3 دہائی قبل لاپتہ ہونے والے شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جس نے اس شخص کے اہلخانہ کا انتظار ختم کر دیا ہے جن کا پیارا 28 سال قبل انہی پہاڑوں کی نظر ہو گیا تھا۔
حیرت انگیز طور پر تین دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی یہ لاش برف کے پہاڑ سے برآمد ہوئی تو یہ درست حالت میں تھی، کپڑے بھی نہ پھٹے تھے اور جیب میں موجود شناختی کاغذات بھی محفوظ تھے جن کی مدد سے شناخت ممکن ہوئی۔
برف کے پہاڑ سے 28 سال بعد لاش برآمد:
تفصیلات کے مطابق کوہستان کے پہاڑی لیدی ویلی سے ایک مقامی شخص کو لاش برآمد ہوئی جس نے اسے درست حالت میں پایا۔
لاش کی تلاش لی تو جیب سے پرانے طرز کا شناختی کارڈ برآمد ہوا جس پر نام ‘نصیرالدین’ درج تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ شخص 28 سال قبل پراسرار طور پر انہی پہاڑوں میں گم ہوگیا تھا۔ ممکنہ طور پر وہ گلیشیئر میں گر گیا تھا۔
جون 1997 کی بات ہے جب متاثرہ شخص نصیرالدین اپنے بھائی کثیرالدین کے ساتھ ایک تجارتی سفر کے بعد واپس آرہا تھا۔ نصیر اور اس کا بھائی گھوڑے پر سفر کر رہے تھے۔
اس سفر کے دوران ایک غیر روایتی راستے پر سفر کرتے ہوئے انہیں اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔
یہ فائرنگ کہاں سے ہوئی اس کا تو متاثرہ شخص کے ہمسفر بھائی کو نہیں معلوم، تاہم انہوں نے میڈیاکو بتایا کہ ان کے بھائی فائرنگ کے بعد ایک برف کے غار میں چلے گئے۔
لیکن وہ جب اپنے بھائی کے پیچھے اس مقام پر پہنچے تو انہیں برف کے غار سے بھائی نہ ملے۔
مقامی افراد کی مدد سے کثیرالدین نے اپنے بھائی کی تلاش کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ بالاآخر انہوں نے خاندان کے مشورے پر گلیشیئر پر ہی اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کر دی تھی۔
وہ غیر روایتی راستوں سے اس لئے سفر کرتے تھے کیونکہ وہ خاندانی دشمنی کے باعث وہ ان پہاڑی علاقوں میں آ بسے تھے۔ اسی خاندانی دشمنی میں ان کا ایک بھائی قتل بھی ہوا تھا۔
تین دہائیوں کے بعد لاش کیسے برآمد ہوئی؟
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل بہت تیز ہو چکا ہے اور ایسا ہی کوہستان کے ان برفیلے پہاڑوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔
مقامی افراد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آج سے پہلے کبھی یہاں ایسا گرم موسم اور تیزی سے پگھلتے برف کے پہاڑ نہیں دیکھے گئے۔
ممکنہ طور پر برف کے غار میں پھنسنے والے نصیر الدین کی لاش بھی اسی موسمیاتی تبدیلی کے بعد برف پگھلنے پر دریافت ہوئی۔
لاش دریافت کرنے والے شخص نے اہلخانہ کو اطلاع کرنے کرنے کے بعد مقامی افراد سے مل کر لاش کو امانتاً دفن کر دیا ہے۔
ان کے مطابق اگر وہ ایسا نہ کرتے تو لاش کے خراب ہونے کا خدشہ تھا کیونکہ اب وہ گلیشیئر کا حصہ نہیں رہی تھی۔
گھر کے افراد لاش کے حصول کے بعد اس سے متعلق فیصلہ کریں گے کہ اس یہیں رہنے دیا جائے یا کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ٹانگ کے ساتھ پہاڑسر کرنے والا کوئٹہ کا کوہ پیما
اتنے سال لاش کیسے محفوظ رہی؟
اگرچہ تین دہائیوں بعد گھر کے فرد کی لاش ملنے نے اہلخانہ کو ذہنی طور پر مطمئن کر دیا ہے لیکن جدائی کا زخم ایک بار پھر تازہ ہو گیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لاش اتنے سال برف پوش پہاڑوں میں کیسے محفوظ رہی۔ اس کے پیچھے قدرت کا کیا کرشمہ تھا۔
لاش کو محفوظ بنانے کے عمل کو سائنسی زبان میں "ممیفیکیشن” کا نام دیا جاتا ہے۔
یوں تو دنیا بھر میں مصنوعی طریقوں سے لاش کو محفوظ بنایا جاتا ہے لیکن برف پوش ان پہاڑوں میں لاش قدرتی طور پر محفوظ رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب انسانی جسم ان برف پوش علاقوں میں داخل ہوتا ہے تو شدید سردی کی وجہ سے منجمند ہونے لگتا ہے۔
اس منجمند ہونے کی وجہ سے گلنے سڑنے کا عمل رک جاتا ہے کیونکہ گلنے سڑنے کو تحریک دینے والے انزائمز اور بیکٹریا اتنے سرد موسم میں غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح بیکٹریا کو توڑ پھوڑ کا عمل شروع کرنے کیلئے جو آکسیجن چاہیے ہوتی ہے وہ بھی ان پہاڑوں پر میسر نہیں آتی ۔
اس کے علاوہ یہاں نمی کا تناسب کم ہونے کی وجہ سے جسم کا پانی بھی خشک ہونے لگتا ہے اور لاش قدرتی طور پر خشک ہو جاتی ہے۔
یوں قدرتی طور پر "ممیفیکیشن” کا یہ عمل مکمل ہوتا ہے اور لاش محفوظ ہو جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ برف پوش پہاڑوں سے کسی شخص کی اتنے عرصے بعد لاش برآمد ہوئی ہے۔
سال 2023 میں سوئزرلینڈ کے قریب ایک گلیشیئر کے پگھلنے کی وجہ سے ایک جرمن کوہ پیما کی باقیات برآمد ہوئی تھیں جو تقریبا 37 برس قبل لاپتہ ہوا تھا۔
جہاں برف کے پہاڑوں کا پگھلنا لوگوں کو دہائیاں قبل گم ہونے والے پیاروں کو ان کے اہلخانہ سے ملوا رہا ہے وہیں یہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بھی پردہ اٹھا رہا ہے۔