پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں؛ رحجانات کا جائزہ
جنوری 2026 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ "ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2035" نے مارکیٹ میں ایک نیا بھونچال پیدا کیا ہے۔

فروری 2026 میں پاکستان کی موبائل فون مارکیٹ ایک انتہائی پیچیدہ اور متنوع دور سے گزر رہی ہے، جس کی تعریف قیمتوں میں شدید تفاوت، میکرو اکنامک استحکام کی کوششوں، اور مقامی سطح پر اسمبلی (Local Assembly) کے مضبوط انفراسٹرکچر سے کی جا سکتی ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں ، درآمدی پالیسیوں، ٹیکس کے ڈھانچے اور صارفین کے رویوں کا ایک جامع اور گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔
2026 کے اوائل تک، مارکیٹ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف الٹرا پریمیم (Ultra-Premium) طبقہ ہے، جہاں ایپل (Apple) اور سام سنگ (Samsung) کی اجارہ داری ہے اور جہاں فلیگ شپ ڈیوائسز کی قیمتیں 7 لاکھ روپے کی نفسیاتی حد کو عبور کر چکی ہیں۔
دوسری طرف، انٹری لیول اور مڈ رینج مارکیٹ ہے، جہاں چینی برانڈز جیسے کہ شاؤمی (Xiaomi)، ٹیکنو (Tecno)، انفینکس (Infinix) اور رئیل می (Realme) نے مقامی اسمبلی کے ذریعے قیمتوں کو ایک خاص حد تک کنٹرول میں رکھا ہوا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے 25,000 سے 60,000 روپے کے درمیان اچھے اسمارٹ فونز کی دستیابی ممکن ہوئی ہے۔
جنوری 2026 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری کردہ "ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2035” 1 نے مارکیٹ میں ایک نیا بھونچال پیدا کیا ہے۔
اس ریگولیٹری اقدام نے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز، خاص طور پر آئی فونز کی کسٹمز ویلیو (Customs Value) میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی اور طلب میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، "میک ان پاکستان” (Make in Pakistan) پالیسی کے تحت مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری اب ملکی طلب کا تقریباً 95 فیصد پورا کر رہی ہے 3، جو کہ معاشی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
معاشی تناظر اور انڈسٹری آؤٹ لک 2026
اقتصادی استحکام اور شرح مبادلہ کے اثرات
فروری 2026 تک، پاکستان کی معیشت 2023-2025 کے شدید اتار چڑھاؤ کے بعد نسبتاً استحکام کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
وزارت خزانہ کی جنوری 2026 کی اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق، مہنگائی میں کچھ حد تک کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی ہے 4۔ یہ استحکام موبائل فون مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ کنزیومر الیکٹرانکس کی قیمتوں کا براہ راست تعلق امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے (PKR) کی قدر سے ہے۔
اگرچہ روپے کی قدر میں کچھ ٹھہراؤ آیا ہے، لیکن مقامی اسمبلی کے لیے درکار درآمدی پرزہ جات (Components) کی قیمتیں اب بھی عالمی سطح پر زیادہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے جنوری 2026 میں اپنی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے 5، جس کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے۔
شرح سود کا یہ تناسب مقامی ڈسٹری بیوٹرز اور مینوفیکچررز کے لیے سرمایہ کاری کی لاگت (Cost of Capital) کو متاثر کرتا ہے، جو بالواسطہ طور پر ہارڈ ویئر کی خوردہ قیمتوں کو اونچی سطح پر رکھنے کا باعث بنتا ہے۔
کنزیومر الیکٹرانکس پر مہنگائی کا دباؤ
اگرچہ ہیڈ لائن مہنگائی کے FY2026/27 تک 5-7 فیصد کی حد میں آنے کی توقع ہے، لیکن قلیل مدتی آؤٹ لک یہ بتاتا ہے کہ یہ ہدف فی الحال پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا 5۔ اسمارٹ فون مارکیٹ کے لیے، اس کا مطلب ہے کہ قیمتیں بدستور زیادہ رہیں گی۔
مزید برآں، عالمی رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2026 میں اسمارٹ فونز کی فروخت کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ متوقع ہے 6۔ اس کی بنیادی وجہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی خصوصیات کا انضمام ہے، جو میموری کی سپلائی پر دباؤ ڈالتا ہے اور بل آف میٹریلز (BOM) کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے۔
درآمدی حجم بمقابلہ مقامی اسمبلی
درآمدی ادائیگیوں اور طبعی درآمدی حجم کے درمیان تضاد مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے پانچ مہینوں میں، موبائل فون کی درآمدات (جو زیادہ تر اسمبلی کے لیے پرزہ جات پر مشتمل ہیں) گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈالر کی مد میں 40 فیصد سے زائد بڑھ کر 801.14 ملین ڈالر ہو گئیں ۔
تاہم، اسی عرصے کے لیے اسٹیٹ بینک کا ادائیگیوں کا ڈیٹا نمایاں طور پر کم اعداد و شمار (104.5 ملین ڈالر) ظاہر کرتا ہے 7۔ یہ فرق CKD (Complete Knocked Down) کٹس کی درآمد کے مالیاتی طریقہ کار اور مؤخر ادائیگیوں (Deferred Payments) کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تفاوت مقامی اسمبلی پالیسی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں 2025 کے پہلے دس مہینوں میں 25.11 ملین یونٹس مقامی طور پر تیار کیے گئے، جبکہ کمرشل بنیادوں پر تیار شدہ فونز کی درآمد محض 1.7 ملین یونٹس رہی 7۔ نتیجتاً، فروری 2026 میں مشاہدہ کی جانے والی قیمتوں کی ساخت میں مقامی طور پر تیار کردہ فونز درآمدی ڈیوٹیوں کے بھاری بوجھ سے کافی حد تک محفوظ ہیں، جبکہ درآمد شدہ فلیگ شپ فونز پر ٹیکسوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔
ریگولیٹری فریم ورک اور ٹیکس کا تجزیہ
پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں کیسے طے ہونگی یہ ٹیکس کے نظام کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ صارف کے لیے حتمی قیمت C&F (کاسٹ اینڈ فریٹ) ویلیو، کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی (RD)، سیلز ٹیکس (18-25 فیصد)، ودہولڈنگ ٹیکس، اور پی ٹی اے (PTA) اپروول لیوی کا مجموعہ ہوتی ہے۔
ڈیوائس آئی ڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS)
پی ٹی اے کا DIRBS نظام ٹیکس وصولی کے لیے نفاذ کا سب سے مؤثر ذریعہ بنا ہوا ہے۔ 2026 میں، مقامی نیٹ ورکس پر چلنے والی تمام ڈیوائسز کے لیے DIRBS کی تعمیل لازمی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو 120 دنوں کے لیے عارضی رجسٹریشن کی سہولت میسر ہے، لیکن مستقل استعمال کے لیے مکمل ٹیکس کی ادائیگی ضروری ہے 8۔ اس نظام نے نئے فونز کے لیے گرے مارکیٹ (Grey Market) کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے، جس سے صارفین سرکاری ڈیوٹی ادا کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ہائی اینڈ فونز کے لیے لاکھوں میں ہے۔
ایف بی آر ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2035 (2026)
15 جنوری 2026 کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیو ایشن کی جانب سے جاری کردہ "ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2035/2026” 2 ایک اہم ریگولیٹری تبدیلی تھی۔ اس رولنگ نے تجارتی مقدار میں درآمد کیے جانے والے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیو پر نظر ثانی کی۔
اس رولنگ کے اہم اثرات:
- فرسودگی (Depreciation) کا اعتراف: ایف بی آر نے تسلیم کیا کہ 2024 کی پچھلی ویلیو ایشن اب متروک ہو چکی تھی اور اس میں آئی فون 12، 13، اور 14 سیریز جیسے پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا احاطہ نہیں کیا گیا تھا 1۔
- استعمال شدہ آئی فونز کی قیمتوں میں کمی: استعمال شدہ آئی فونز کی تشخیص شدہ قیمت (Assessed Value) میں نمایاں کمی کی گئی۔ مثال کے طور پر، آئی فون 12 پرو کی ویلیو 280 ڈالر سے کم کر کے 155 ڈالر، اور آئی فون 13 پرو میکس کی ویلیو 430 ڈالر سے کم کر کے 295 ڈالر کر دی گئی 10۔
- معیاری کاری: یہ ویلیوز فون کی طبعی حالت سے قطع نظر لاگو ہوتی ہیں، بشرطیکہ ڈیوائس پاکستان برآمد ہونے سے کم از کم چھ ماہ قبل ایکٹیویٹ ہو چکی ہو 1۔
ٹیبل 1: ویلیو ایشن رولنگ 2035 کے تحت استعمال شدہ آئی فونز کی ویلیو میں تبدیلی
| ڈیوائس ماڈل | پرانی ویلیو (ڈالر) | نئی ویلیو 2026 (ڈالر) | ٹیکس پر متوقع اثر |
| iPhone 12 Pro | $280 | $155 | نمایاں کمی |
| iPhone 12 Pro Max | $340 | $215 | نمایاں کمی |
| iPhone 13 Pro | $360 | $225 | نمایاں کمی |
| iPhone 13 Pro Max | $430 | $295 | درمیانی کمی |
| iPhone 14 Pro | N/A | $290 | نئی بنیاد قائم |
| iPhone 15 Pro Max | N/A | $460 | نئی بنیاد قائم |
اس رولنگ نے پرانی فلیگ شپ ڈیوائسز کو سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں زیادہ قابل رسائی بنا دیا ہے، حالانکہ نئی آئی فون 17 سیریز پر ٹیکس اب بھی ان کی مکمل انوائس ویلیو کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ سطح پر ہیں۔
سیلز ٹیکس اور لیویز
2025-26 کے بجٹ میں موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے درآمدات پر مزید لیویز کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں
مقامی طور پر اسمبل شدہ فونز کے لیے، ٹیکس کا بوجھ درآمد شدہ تیار مال کے مقابلے میں کم ہے، جس سے مقامی یونٹس کو قیمت میں تقریباً 15-20 فیصد کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔
ہاکستان میں پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں برانڈ وائز تجزیہ (فروری 2026)
یہ سیکشن فروری 2026 تک پاکستانی مارکیٹ میں دستیاب موبائل فونز کی قیمتوں کا تفصیلی بریک ڈاؤن فراہم کرتا ہے۔
ایپل (Apple): پریمیم مارکیٹ کا بے تاج بادشاہ
ایپل پاکستان میں مہنگی ترین قیمتوں کا معیار بنا ہوا ہے۔ آئی فون 17 سیریز کی ریلیز نے قیمتوں کی چھت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ چونکہ ایپل کی ڈیوائسز مقامی طور پر تیار نہیں ہوتیں، اس لیے ان پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کا سب سے زیادہ اطلاق ہوتا ہے۔
تازہ ترین آئی فون کی قیمتیں (PTA منظور شدہ اور مارکیٹ ریٹس)
| ماڈل | ویرینٹ | قیمت (پاکستانی روپے) | تفصیلات/نوٹس |
| iPhone 17 Pro Max | 1TB Storage | 712,999 | پاکستان کا بہترین اور مہنگا ترین موبائل 15 |
| iPhone 17 Pro Max | 256GB (Non-PTA) | 444,999 | بغیر ٹیکس کے درآمد شدہ 15 |
| iPhone 17 Pro | 256GB (Non-PTA) | 414,999 | بغیر ٹیکس کے 15 |
| iPhone Air | 1TB (PTA Approved) | 586,999 | نیا سلم ماڈل، اسٹیٹس سمبل 15 |
| iPhone Air | 256GB (PTA Approved) | 429,999 | 15 |
| iPhone 16 Pro | Standard | 479,999 | 16 |
| iPhone 15 Pro Max | Standard | 499,000 | 16 |
بصیرت: پی ٹی اے اپرووڈ اور نان پی ٹی اے قیمتوں کے درمیان فرق (جیسے آئی فون 17 پرو میکس کے لیے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار روپے) ٹیکس کے بھاری بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ 2026 میں متعارف کرایا گیا "آئی فون ایئر” (iPhone Air) ایک لگژری لائف اسٹائل ڈیوائس کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کی قیمت 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
استعمال شدہ آئی فون مارکیٹ (رولنگ 2035 کے بعد)
ایف بی آر کی ویلیو ایشن اپ ڈیٹ کے بعد، پی ٹی اے سے منظور شدہ استعمال شدہ آئی فونز کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے:
- iPhone 15 Pro Max (Used): ~175,000 روپے (ٹیکس سمیت کل لاگت کا تخمینہ) 12۔
- iPhone 14 Pro (Used): ~150,000 – 170,000 روپے (ریٹیل ویلیو) 11۔
- iPhone 12 Pro (Used): ~153,999 روپے 17۔
سام سنگ (Samsung): ہر طبقے میں موجودگی
سام سنگ واحد برانڈ ہے جس کا پورٹ فولیو انٹری لیول کے مقامی طور پر اسمبل شدہ یونٹس سے لے کر درآمد شدہ الٹرا پریمیم فولڈ ایبلز تک پھیلا ہوا ہے۔
فلیگ شپ S اور Z سیریز
- Galaxy Z Fold 7 (12GB/512GB): 494,999 روپے (Non-PTA) 15۔ فولڈ ایبل ٹیکنالوجی میں سام سنگ کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے اب دیگر برانڈز بھی میدان میں ہیں۔
- Galaxy S25 Ultra: 264,999 روپے 15۔ نوٹ: مارکیٹ لسٹنگ میں فرق پایا جاتا ہے، کچھ ذرائع 249,999 روپے 16 بتاتے ہیں جبکہ آفیشل وارنٹی والے یونٹس کی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے۔ آئی فون کے مقابلے میں اس کی نسبتاً کم قیمت سام سنگ کی مقامی مارکیٹ کے لیے جارحانہ قیمتوں کی حکمت عملی کی عکاس ہے۔
A-سیریز (مڈ رینج کا ستون)
اے سیریز (A-Series) پاکستان میں سام سنگ کے مارکیٹ شیئر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ فونز اکثر مقامی طور پر اسمبل کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں مسابقتی رہتی ہیں۔
- Galaxy A56 5G: 138,999 روپے 18۔ یہ ماڈل A55 کی جگہ لے رہا ہے اور اس میں 5G کی خصوصیت شامل ہے جو کہ اب صارفین کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔
- Galaxy A55: 139,999 روپے 16۔ A56 کے مارکیٹ میں آنے کے ساتھ اس کی قیمتوں میں استحکام متوقع ہے۔
- Galaxy A35: 144,999 روپے 16۔ (تضاد نوٹ: کچھ ذرائع A35 کی قیمت A55 سے زیادہ بتاتے ہیں، جس کی وجہ اسٹاک کی کمی یا مخصوص ویرینٹ کا فرق ہو سکتا ہے)۔
- Galaxy A25: 84,999 روپے 15۔
شاؤمی (Xiaomi): ویلیو فار منی لیڈر
شاؤمی قیمت اور کارکردگی کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے مارکیٹ میں جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہے۔ ان کا مقامی اسمبلی آپریشن انہیں سام سنگ یا ایپل کے مقابلے میں کم قیمت پر بہتر خصوصیات پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
- Redmi A5: 26,999 روپے 15۔ فروری 2026 میں معروف برانڈڈ کیٹیگری میں اسے سب سے کم قیمت موبائل قرار دیا گیا ہے۔
- Redmi Note 14 Pro (12GB/512GB): 84,999 روپے 20۔ ایک لاکھ روپے سے کم کی رینج میں یہ ایک اہم کھلاڑی ہے، جو زیادہ ریم اور اسٹوریج فراہم کرتا ہے۔
- Redmi Note 12 Pro 5G: 108,999 روپے 16۔
- Xiaomi Mix Flip: 313,999 روپے 16۔ شاؤمی کا فولڈ ایبل مارکیٹ میں داخلہ مہنگا ثابت ہوا ہے اور یہ سام سنگ کی فلپ سیریز کا مقابلہ کر رہا ہے۔
- Xiaomi 12 Lite: 63,999 روپے 16۔
ٹرانشن ہولڈنگز (Infinix اور Tecno): بجٹ کے بادشاہ
انفینکس اور ٹیکنو والیوم مارکیٹ، خاص طور پر 30,000 سے 80,000 روپے کی رینج میں غالب ہیں۔ ان کی حکمت عملی زیادہ ریم/روم کنفیگریشنز اور بڑی بیٹریوں پر مرکوز ہے، جو پاکستانی صارفین کی اولین ترجیح ہے۔
Infinix کی قیمتیں
- Infinix Note 50 Pro (12GB/256GB): 79,999 روپے 21۔ اسے خصوصیات کے لحاظ سے "بہترین انفینکس موبائل” قرار دیا گیا ہے۔
- Infinix Hot 60 Pro Plus: 58,999 روپے 21۔
- Infinix Hot 60 Pro: 47,999 روپے 21۔
- Infinix Hot 60i: 35,999 روپے 21۔
Tecno کی قیمتیں
- Tecno Phantom V2 Fold: 334,999 روپے 16۔ ٹیکنو کی جانب سے پریمیم مارکیٹ میں داخل ہونے کی ایک کوشش۔
- Tecno Spark 30 Pro: ~41,000 – 43,000 روپے 22۔ بجٹ سیگمنٹ میں ایک انتہائی مقبول ماڈل۔
- Tecno Spark Go 2: 22,600 روپے 16۔ انتہائی کم بجٹ والوں کے لیے ایک آپشن۔
بی بی کے الیکٹرانکس (Vivo, Oppo, Realme)
یہ برانڈز ڈیزائن کی جمالیات (Oppo/Vivo) اور کارکردگی (Realme) پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
- Vivo Y100: 61,999 روپے 23۔
- Vivo X Fold 3 Pro: 398,999 روپے 16۔
- Oppo Find X8 Pro: 209,999 روپے 16۔
- Oppo A60: 54,999 روپے 16۔
- Realme 13 Plus: 89,999 روپے 24۔
- Realme C75 (8GB/256GB): 46,499 روپے 25۔
طبقہ وار سفارشات اور تجزیہ
پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں ہر طبقے کیلئے مختلف معنی رکھتی ہیں۔ اس لئے ذیل میں چند سفارشات درج کی گئی ہیں:-
تیس ہزار روپے سے کم (Under Rs. 30,000)
انتہائی کم بجٹ والے صارفین کے لیے اختیارات محدود لیکن فعال ہیں۔
- Xiaomi Redmi A5 (26,999 روپے): اس بریکٹ میں بہترین سافٹ ویئر استحکام اور برانڈ کی وشوسنییتا پیش کرتا ہے۔
- Tecno Spark Go 2 (22,600 روپے): بنیادی مواصلاتی ضروریات کے لیے ایک قابل عمل متبادل۔
تیس ہزار سے ساٹھ ہزار روپے (Rs. 30,000 – 60,000)
یہ سب سے زیادہ مسابقتی طبقہ ہے، جہاں چینی اسمبلرز کا راج ہے۔
- Realme C75 (46,499 روپے): 8 جی بی ریم اور 256 جی بی اسٹوریج کے ساتھ بہترین ویلیو۔
- Infinix Hot 60 Pro (47,999 روپے): میڈیا کے استعمال کے لیے موزوں بڑی ڈسپلے اور جدید ڈیزائن۔
- Oppo A60 (54,999 روپے): ڈیزائن اور بلڈ کوالٹی پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جو آف لائن ریٹیل خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
ساٹھ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے (Rs. 60,000 – 150,000)
مڈ ٹو ہائی رینج، جہاں 5G اب ایک معیار بن چکا ہے۔
- Redmi Note 14 Pro (84,999 روپے): اس طبقے میں کارکردگی کا لیڈر، جو سام سنگ کی اجارہ داری کو چیلنج کر رہا ہے۔
- Samsung Galaxy A56 (138,999 روپے): چینی حریفوں کے مقابلے میں زیادہ قیمت کے باوجود، کارپوریٹ صارفین اور طویل مدتی سافٹ ویئر سپورٹ چاہنے والوں کے لیے محفوظ انتخاب۔
فلیگ شپ ٹئیر ( ڈھائی لاکھ روپے سے زائد)
- Samsung Galaxy S25 Ultra (264,999 روپے+): اینڈرائیڈ کا مکمل ترین تجربہ پیش کرتا ہے۔ اس کی قیمت، اگرچہ زیادہ ہے، لیکن آئی فون 17 پرو میکس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
- iPhone 17 Pro Max (712,999 روپے): ایک اسٹیٹس سمبل اور تخلیقی پیشہ ور افراد کے لیے پاور ہاؤس۔ تاہم، قیمت کا تعین اسے انتہائی امیر یا کارپوریٹ خریداری تک محدود کرتا ہے، جبکہ بہت سے انفرادی خریدار نان پی ٹی اے یونٹس یا پرانے پرو ماڈلز کا انتخاب کرتے ہیں۔
نتیجہ
خلاصہ یہ کہ فروری 2026 میں پاکستانی صارف پہلے سے کہیں زیادہ ہوشیار، ٹیکس سے آگاہ اور خصوصیات پر نظر رکھنے والا ہے، جو مہنگائی کے دور میں بہترین ویلیو تلاش کرنے کے لیے مارکیٹ کے مختلف درجات میں سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون کی تازہ قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں جو صارفین کو وقتی طور پر فیصلے بدلنے کیلئے پابند کرتی ہیں۔



